قدس کا راستہ کربلا سے گذرتا ہے

قدس کا راستہ کربلا سے گذرتا ہے

ابنا: قدس منتظر ہے، امام حسين (ع) نے حريت پسندوں کے لئے دنيا کے ہر مقام پر راستے کھول ديئے جو انشاء اللہ پوري دنيا ميں ظلم کي مکمل نابودي پر منتج ہوگا- شہادت طلبي اور مشن کے راستے ميں جانفشاني کے لئے کسي خاص وسيلے اور اوزار کي ضرورت نہيں ہے اور يہي ہماري طاقت اور دشمن کي ذلت اور کمزوري کا راز ہے- دشمن سمجھتا ہے کہ دنيا کي زندگي اتني گراں قدر اور بيش بہاء ہے کہ اس کي ظاہري صورت اور اس کي سہوليات کے تحفظ کے لئے ہر پستي اور رذالت کے سامنے سرتسليم خم کيا جاسکتا ہے اور انساني بلندي سے حضيض حيوانيت تک تنزل کيا جاسکتا ہے ليکن امام حسين عليہ السلام نے اپنے خون کا نذرانہ دے کر اور اپنے خاندان کو قربان کرکے ثابت کرکے دکھايا کہ حيات و ممات کے معني اور بھي ہيں اور اس مارے جانے ميں زندگي ہے جو ظالموں کے دباۆ کے تحت سانس لينے ميں نہيں ہے-* صفين ميں بيٹے محمد بن حنفيہ کے لئے اميرالمۆمنين (ع) ارشادات کي طرف اشارہ-کربلا ہميں اپني جانب بلا رہي ہے اور کربلا کے اس پار، قدس ہے شيطان کي قيد ميں --- اور راستہ کربلا سے گذرتا ہے- کربلا اور چند قدم اس طرف، قدس، ہراول لشکر کے انتظار ميں ہيں، اور يہ ہراول دستے وہي ہيں جو عدل موعود کي طرف تاريخ کا راستہ کھول ديں گے- کيا تم بھي ان دستوں سے جا ملے ہو؟کسي وقت امام امت (رحمۃاللہ عليہ) کے پيغام يعني "قدس کا راستہ کربلا سے گذرتا ہے" سے مراد يہ تھي کہ پہلے ہميں صدام کا کام تمام کرنا پڑے گا اور اس کے بعد درندہ اور جرائم پيشہ صہيونيوں کو ٹھکانے لگانا پڑے گا؛ ليکن اج بھي گو کہ زمانہ بدل گيا ہے ليکن پھر بھي قدس جانے کے لئے کربلا کي زيارت کي ضرورت ہے-"قدس کا راستہ کربلا سے گذرتا ہے" کے باطني معني يہي ہيں- انساني معراج کي ابتدائي منزل يعني قدس کي آزادي کے لئے عزيمت کا راستہ، کربلائي راستہ ہے جس ميں مشقتوں اور ايثار اور اپنے وجود سے گذرنے کي ضرورت ہے-قدس کا راستہ سستي، کاہلي اور دنيا کي بے قدر و قيمت چمک دمک سے وابستگي، قدس کے راستے سے سازگار نہيں ہيں- راہ قدس کے لئے مردِ جنگ کي ضرورت ہے اور مردِ جنگ کربلائي ہے اور کربلائي عشق کا مردِ ميدان ہے اور سختيوں، سر دينے اور سر نہ جھکانے سے نہيں ڈرتا- اور ہاں قدس کا راستہ کربلا سے گذرتا ہےاور ہاں! قدس کا راستہ کربلا سے گذرتا ہے؛ "قدس کا راستہ کربلا سے گذرتا ہے" سے مراد يہ ہے کہ "أََعِرِ اللَّهَ جُمْجُمَتَكَ، تِدْ فِي الْأَرْضِ قَدَمَكَ، ارْمِ بِبَصَرِك أَقْصَى الْقَوْمِ،؛ "يعني تياري کرو خون و جان کي سرحد تک، اپني کھوپڑي خدا کے سپرد کرو (1) اور صبر کے دانت جگر ميں پيوست کرو اور مردانہ وار کربلائيوں کي صف ميں کھڑے ہوجاۆ تا کہ بھوکے يزيدي بھيڑيئے پيکر حق کا مثلہ نہ کرسکيں [اور اس کا چہرہ نہ بگاڑ سکيں]-"قدس کا راستہ کربلا سے گذرتا ہے" اور صرف دلباختہ افراد [اور عشق کے راستے ميں دل ہارنے والے] ہي راہ کربلا کو پہچانتے ہيں- سورہ اسراء کي تلاوت کرو اور مہدي (عج) کے اعوان و انصار کے حالات ميں غور کرو اور آج کے زمانے ميں کربلا کے راہيوں کے حالات ديکھ لو جنہوں نے انتظار کے تقاضوں کے مطابق عمل کيا ہے، اور اس راہ پر گامزن کے ہونے کے لئے آگے بڑھے ہيں؛ کيا ديکھتے ہو؟ہاں اے برادر! اب وقت آگيا ہے کہ ايک بار پھر رونما ہونے والے واقعات ميں اللہ کے وعدوں کے ظہور کا نظارہ ديکھ ليں اور پہلے سے زيادہ محکم يقين کے ساتھ اس راہ پر گامزن ہوجائيں جو کربلا سے گذر کر قدس کي طرف جاتا ہے-بہت پراني بات نہيں ہے جب ميں قلسطيني عوام کا دکھ اپنا دکھ سمجھتا تھا اور قدس کي آزادي ہم ميں سے بہت سوں کي آرزو تھي؛ ليکن اس وقت پيٹ، سہوليات اور لباس وغيرہ کا دکھ، اس قدر ہماري آنکھوں اور دلوں ميں سما گيا ہے کہ اس دل ميں کسي اور دکھ کي کوئي گنجائش ہي نہيں رہ سکي ہے- ايسا کيوں ہوا؟ ہم ايسے کيوں ہوئے؟ کيا ہوا کہ آغاز انقلاب کے جذبات کا تحفظ نہ کرسکے جنہيں ہميں انے والي نسلون کو منتقل کرنا تھا؟ ہماري انفس کے اندر يہ تبديلي کيونکر واقع ہوئي، کہ اگر ہم اس کے لئے کوئي فکر نہ کريں اور اس کي اصلاح کي کوشش نہ کريں تو ہماري سوچ اور ہم اور ہمارے مقدرات دگرگوں ہوسکتے ہيں؟ طے يہ تھا کہ کربلا سے گذر کر قدس کي طرف عزيمت کريں گے، کيا ہم اپنے انجام کي کربلا کي زيارت کے لئے جاسکے ہيں؟ جب ہم نے اس بسيجي سے پوچھا: تمہاري خواہش کيا ہے؟ بے ساختہ بولا: "قدس کي آزادي"، اور پھر کہا: "جو امام فرمائيں گے ميري آرزو وہي ہے، وہ امام زمانہ (عج) کے نائب ہيں اور ہم ان کے مطيع ہيں"- قدس اللہ کي برکتوں کا جلوہ اور انساني معراج کا اولين مرحلہ ہے اور مسلمين کے پاس اسلام کے بنيادي اور انتہائي اھداف کے حصول کے لئے قدس کي آزادي کے سوا کوئي چارہ اور کوئي راستہ نہيں اور قدس کا راستہ کربلا سے گذرتا ہے-

.......

/169