استکبارکےخلاف جدوجہدکےقومی دن کی مناسبت سے؛

امام خامنہ ای کا طلبہ سے نہایت اہم خطاب/ امریکی سنجیدہ ہیں تو ہزرہ سراؤں کا منہ توڑ دیں

امام خامنہ ای کا طلبہ سے نہایت اہم خطاب/ امریکی سنجیدہ ہیں تو ہزرہ سراؤں کا منہ توڑ دیں

میں نے ایک ملک میں ـ جس کا نام نہيں لوں گا اور اس ملک نے انگریزوں کے ظلم و جبر کے خلاف جدوجہد کی تھی اور آزاد ہوگیا تھا ـ دیکھا کہ انھوں نے ایک انگریز کمانڈر کا مجسمہ اپنے ایک تفریحی مرکز میں نصب کیا تھا! ہم نے کہا کہ یہ پھر کیا ہے؟ اس مرکز پر انھوں نے اسی مستکبر سامراجی کا نام رکھا تھا جس نے ہزاروں جرائم کا ارتکاب کیا تھا! گوکہ انہیں اس نرمی اور تحفظات کا انہیں کوئی نتیجہ نہیں ملا؛ یعنی اس ملک پر دباؤ جاری تھا، آج بھی جاری ہے؛ مستکبر کے ساتھ خوشامدانہ اور امن پسندانہ رویہ روا رکھنا کسی ملک کے لئے بھی مفید نہيں ہے۔

خطاب کا پورا متن:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

آج اس حسینیہ میں آپ عزیز نوجوانوں کی پرحرارت سانسیں ان ہی کارناموں اور جذبوں کی یاد دلارہی ہیں جو انقلاب کے آغاز سے لے کر اب تک کے برسوں میں ملت ایران کی انقلابی تحریک کے پشت پناہ اور حامی و ضامن رہے ہیں۔ اس ملک اور اسلامی جمہوری نظام پر خدا کا بڑا کرم اس ملک کے نوجوان ہیں؛ جو روشن محرکات کے ساتھ، استوار و با استقامت، منطق کا سہارا لئے ہوئے اور پاک دلوں اور صاف و پرخلوص نیتوں کے مالک ہیں۔ ہمارا آج کا یہ جلسہ 13 آبان (4 نومبر 1979) کے واقعات کے سلسلے میں منعقد ہوا ہے اور یہ واقعات اسلامی انقلاب سے پہلے اور اس کے بعد رونما ہوئے ہیں۔ تین واقعات ہیں:چار نومبر 1964 کو امام خمینی(رح) جلاوطن کئے گئے؛چار نومبر 1978 کو اسکولوں کے طلبہ کا بےرحمانہ قتل عام کیا گیا؛ اور چار نومبر 1979 کو طلبہ نے ایک شجاعانہ اقدام کرکے جاسوسی کے گھونسلے (امریکی سفارتخانے) کو تسخیر کیا۔ان تینوں واقعات کا تعلق کسی طرح ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی حکومت سے ہے۔ سنہ 1964 میں امام رضوان اللہ تعالی علیہ کیپچولیشن کے قانون تر تنقید کی بنا پر جلاوطن کئے گئے جو ایران میں امریکی اہلکاروں کی سلامتی اور انہیں عدالتی استثنی (Jurisdictional Immunity) دینے کے مترادف تھا۔ [امام (رح) نے اس پر تنقید کی اور جلاوطن کئے گئے) چنانچہ اس قضیئے کا تعلق امریکہ سے ہوا۔ سنہ 1978 کو امریکہ سے وابستہ شاہ کی حکومت نے تہران کی سڑکوں پر اسکولوں کے طلبہ کو قتل کیا اور تہران کی سڑکیں ان کے خون سے رنگ دی گئیں؛ امریکہ سے وابستہ نظام کو بچانے کے لئے؛ اس کا تعلق بھی امریکہ سے ہوا۔ سنہ 1979 میں جوابی ضربت تھی؛ یعنی ہمارے مؤمن اور بہادر اور نوجوان طلبہ نے امریکی سفارتخانے پر حملہ کیا اور اس سفارتخانے کی اس حقیقت کو فاش کرکے اس کو دنیا کے سامنے رکھا کہ یہ جاسوسی کا گھونسلا ہے۔ اس دن ہمارے نوجوانوں نے امریکہ سفارتخانے کو "جاسوسی کا گھونسلا" کا نام دیا؛ آج تیس برسوں سے زائد برسوں کے بعد، امریکہ کے قریبی ممالک ـ یعنی یورپی ممالک ـ میں امریکی سفارتخانے جاسوسی کے گھونسلے بن چکے ہیں؛ یعنی ہمارے نوجوان عالمی تقویم (کیلنڈر) سے بھی 30 برس آگے تھے۔ اس مسئلے کا تعلق بھی امریکہ سے تھا؛ تین واقعات جن کا کسی نہ کسی طرح ریاست ہائے متحدہ امریکہ سے تعلق تھا، ایران کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کے حوالے سے، چنانچہ 4 نومبر کا دن ـ جو آنے والے کل کی مانند ایک دن تھا ـ "استکبار کے خلاف جدوجہد کا دن" کہلایا۔ [اب سوال یہ ہے کہ] استکبار کیا ہے؟ استکبار ایک قرآنی اصطلاح اور تعبیر ہے؛ قرآن یں استکبار کا لفظ استعمال ہوا ہے؛ مستکبر انسان، مستکبر حکومت، مستکبر جماعت؛ یعنی و افراد اور وہ حکومت جو دوسروں انسانوں اور دوسری اقوام کے معاملات میں مداخلت کا ارادہ رکھتی ہو، اپنے مفادات کی خاطر ان کے تمام معاملات میں مداخلت کرتی ہو، [وہ قوت] جو اپنے آپ کو آزاد سمھجتی ہے، اپنے لئے دوسری اقوام پر اپنے آپ اور اپنے مفادات کو مسلط کرنے کے حق کا قائل ہے۔ دوسرے ممالک میں مداخلت کو اپنا حق سمجھتی ہے، کسی کے سامنے جوابدہ بھی نہیں ہے؛ یہ مستکبر کے معنی ہیں۔ اس ظالم و ستمگر محاذ کے مقابلے میں وہ لوگ ہیں جو استکبار کے خلاف جدوجہد کرتے ہیں؛ [اب سوال یہ ہے کہ] استکبار کے خلاف جدوجہد کسے کہتے ہیں؟ یعنی یہ کہ پہلے قدم کے طور پر جبر و ظلم کے سامنے سرتسلیم خم نہ کرنا؛ استکبار کے خلاف جدوجہد ایک پیچیدہ اور ٹیڑھی میڑھی چیز نہيں ہے؛ استکبار کے خلاف جدوجہد یعنی یہ کہ ایک قوم ایک استکبار برتنے والی طاقت یا مستکبر انسان یا حکومت کی مداخلت پسندی کے سامنے گھٹنے نہ ٹیکے؛ یہ استکبار کے خلاف جدوجہد کے معنی ہیں۔ البتہ میں انشاء اللہ عنقریب آپ نوجوانوں اور جامعات اور اسکولوں کے طلبہ سے استکبار اور استکبار کے خلاف جدوجہد کے بارے میں تفصیلی بات چیت کروں گا، جس کا امکان اب نہيں ہے؛ اجمالی طور پر استکبار اور استکبار کے خلاف جدوجہد کے معنی یہی ہیں۔ ملت ایران جو جبر کے خلاف جدوجہد کرنے والی قوم کہلاتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ قوم امریکی جبر کے سامنے جھکی نہیں ہے۔ امریکی حکومت ایک استکباری حکومت ہے، ممالک میں مداخلت کو اپنا حق سمجھتی ہے؛ جنگوں کو ہوا دیتی ہے؛ ممالک کے معاملات میں مداخلت کرتی ہے؛ آج آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہ مسئلہ اب ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ سے آگے تک پھیل چکا ہے، یورپ تک پہنچا ہے؛ ان کے معاملات میں بھی مداخلت کرتی ہے؛ ہماری قوم ریاست ہائے متحدہ کے اس جبر و استکبار، مداخلتوں اور جابرانہ پالیسیوں اور ہمارے وطن عزیز پر اس کے طویل المدت تسلط، کے سامنے ڈٹ گئی؛ طاغوتی بادشاہت امریکہ سے وابستہ حکومت تھی، اندرونی پشت پناہی اور حمایت کے بغیر؛ امریکہ کے سہارا جو چاہتی تھی کر گذرتی تھی؛ حکمران عوامی حقوق کو غصب کرتے تھے، لوگوں کے درمیان امتیاز کے قائل ہوجاتے تھے؛ انھوں نے ملک کو ترقی اور نشو و نما ـ جو اس کا تاریخی اور فطری حق تھا ـ سے باز رکھا تھا، صرف اس لئے کہ ایران میں امریکہ کے مفادات کا تحفظ کرسکیں۔ ایران قوم اٹھ گئی، اس نے انقلاب بپا کیا اور اس کے بعد ملک میں مستکبرین کی جڑیں کاٹ ڈالیں؛ بعض دوسرے ممالک کی طرح نہ تھی جنہوں نے استکبار کا مقابلہ تو کیا لیکن کام کو ادھورا چھوڑ دیا اور انہیں اس کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑا۔ میں نے ایک ملک میں ـ جس کا نام نہيں لوں گا اور اس ملک نے انگریزوں کے ظلم و جبر کے خلاف جدوجہد کی تھی اور آزاد ہوگیا تھا ـ دیکھا کہ انھوں نے ایک انگریز کمانڈر کا مجسمہ اپنے ایک تفریحی مرکز میں نصب کیا تھا! ہم نے کہا کہ یہ پھر کیا ہے؟ اس مرکز پر انھوں نے اسی مستکبر سامراجی کا نام رکھا تھا جس نے ہزاروں جرائم کا ارتکاب کیا تھا! گوکہ انہیں اس نرمی اور تحفظات کا انہیں کوئی نتیجہ نہیں ملا؛ یعنی اس ملک پر دباؤ جاری تھا، آج بھی جاری ہے؛ مستکبر کے ساتھ خوشامدانہ اور امن پسندانہ رویہ روا رکھنا کسی ملک کے لئے بھی مفید نہيں ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور اس قوم کا عظیم انقلاب امریکی استکبار کے خلاف نبرد آزما ہوا اور کام کو ادھورا نہيں چھوڑا؛ کیونکہ اس نے طویل عرصے کے دوران امریکی مظالم کو اپنے پورے وجود سے محسوس کیا تھا؛ سمجھتی تھی کہ یہ کیسے لوگ ہیں ور کیا ہیں۔ امریکیوں کا یہ استکباری اور جابرانہ رویہ ـ جو کئی عشروں سے آج تک جاری ہے ـ دنیا کی قوموں میں امریکیوں پر عدم اعتماد اور بیزاری کا باعث ہوا ہے؛ یہ ہمارے ملک تک محدود نہیں ہے؛ جس قوم نے بھی امریکہ پر اعتماد کیا، اس کو نقصان اٹھانا پڑا؛ حتی ان لوگوں کو نقصان اٹھانا پڑا جو امریکہ کے دوست تھے۔ ہمارے ملک میں مصدق نے امریکہ پر اعتماد کیا؛ اس لئے کہ اپنے آپ کو برطانیہ کے دباؤ سے چھڑا دیں انھوں نے امریکیوں کا سہارا لیا؛ مصدق امریکیوں پر حسن ظن رکھتے تھے لیکن انھوں نے ان کی مدد کرنے کے بجائے برطانیہ کے ساتھ ساز باز کرکے اپنا اہلکار بھجوایا یہاں اور 19 اگست 1953 کو مصدق حکومت کے خلاف بغاوت کروا دی؛ مصدق نے بھروسہ کیا اور انہیں خمیازہ بھی بھگتنا پڑا؛ حتی وہ لوگ جن کے تعلقات بھی امریکیوں کے ساتھ اچھے تھے انھوں نے امریکیوں پر اعتماد کیا اور انہیں نقصان بھی اٹھانا پڑا۔ سابق طاغوتی حکومت کے تعلقات امریکیوں کے ساتھ بہت قریبی تھے، تاہم امریکیوں کے ضرورت سے زیادہ مطالبات نے انہيں بھی تھکا دیا تھا؛ یہی کیپچولیشن ـ جس کی طرف ہم نے اشارہ کیا یعنی امریکی کارکنوں کے لئے قانون سے استثنی ـ امریکیوں نے ان پر مسلط کیا؛ ان کا امریکیوں کے سوا کوئی حامی نہ تھا چنانچہ انہيں بامر مجبور قبول کرنا پڑا۔ کیپچولیشن کے معنی یہ ہیں کہ اگر ایک امریکی لانس نائیک ایران کے ایک اعلی افسر کو تھپڑ مارے، کسی کو بھی اس شخص کا تعاقب کرنے کا حق نہیں ہے۔ اگر ایک ماتحت امریکی اہلکار اگر ایک شریف ایرانی مرد یا ایک شریف ایرانی خاتون کی بےحرمتی کرے تو کسی کو بھی اس پر ہاتھ ڈالنے کا حق نہیں ہے؛ امریکی کہتے ہیں تمہیں حق نہیں پہنچتا، ہم خود یہ مسئلہ حل کرتے ہیں؛ ایک قوم کی ذلت اس سے بڑھ کر نہيں ہوسکتی۔ اس کو انھوں نے مسلط کیا، ان کا دوست بھی تھا [شاہ ایران] انھوں نے اپنے دوست پر بھی رحم نہيں کیا اور جب محمد رضا [پہلوی] ایران سے فرار ہوکر مختصر عرصے کے لئے امریکہ چلا گیا تو امریکیوں نے اس کو وہاں سے نکال باہر کیا، اس کو اپنے ہاں نہیں رکھا؛ یعنی اس کے ساتھ اتنی وفاداری بھی نہ کی؛ امریکی یہ ہیں۔ اقوام عالم ہی نہیں حکومتیں بھی امریکہ پر بےاعتماد ہیں اسی رویے کی وجہ سے جو امریکیوں پالیسیوں کا معمول ہے۔ جس نے بھی امریکہ پر اعتماد کیا اس کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا چنانچہ کہا جاسکتا ہے کہ آج اقوام عالم کے نزدیک سب سے زیادہ قابل نفرت حکومت امریکی حکومت ہے۔ اگر اقوام عالم کے درمیان ایک منصفانہ اور صحتمند رائے شماری کا اہتمام کیا جائے، میرا نہیں خیال کہ کسی بھی حکومت کو اتنے منفی پوائنٹس نہیں ملیں گے جتنے کہ امریکہ کے حصے میں آئیں گے؛ دنیا میں آج ان کی حالت کچھ اس طرح سے ہے؛ آپ سن رہے ہیں یورپیوں کی باتیں جو وہ امریکہ کے خلاف کررہے ہیں۔ چنانچہ استکبار کے خلاف جنگ اور استکبار کے خلاف جدوجہد کا قومی دن منانا، ایک بنیادی مسئلہ ہے، صحیح تجزیئے اور صحیح بات سے جنم لینے والا مسئلہ ہے؛ اور آپ عزیز نوجوانوں، اور ملک بھر میں کروڑوں نوجوانوں کو ـ جو آپ کی طرح جامعات یا اسکولوں کے طلبہ ہیں ـ ان مسائل کا صحیح تجزیہ کرنا چاہئے۔ انقلاب کے ابتدائی سالوں میں میں ایک نوجوان کو تجزیہ کرنے کی ضرورت نہ تھی کیونکہ سب کچھ اس کے سامنے تھا؛ اس نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا؛ انھوں نے امریکیوں کی موجودگی کو ان کی قساوت اور سنگدلی کو اور امریکیوں کی پالی ہوئی ساواک کو قریب سے دیکھا تھا لیکن آج آپ کو فکر کرنے اور تجزیہ کرنے اور غور و خوض کرنے کی ضرورت ہے؛ صرف زبان کی حد تک نہ ہو بلکہ معلوم ہو کہ ایرانی قوم کیوں استکبار کے خلاف ہے؛ امریکی رویوں اور پالیسیوں کے خلاف کیوں ہے؟ اس بیزاری کا سبب کیا ہے؟ اس مسئلے کو صحیح طور پر جاننا اور سمجھنا آج کے نوجوان کے لئے ضروری ہے۔ آج ہمارے اور امریکہ کے درمیان جاری مسائل ـ جو ان دنوں زیر بحث ہیں ـ چند نکات عرض کرنا چاہوں گا؛ ذہنوں میں سوال یہ ہے۔ ابتداء میں ایک اہم اور ضروری یادآوری کراتا ہوں: کسی کو بھی چھ حکومتوں ـ جنہیں 1+ 5 گروپ کہا جاتا ہے ـ کے ساتھ ہمارے مذاکرات کنندگان پر ساز باز کرنے کا الزام نہیں لگانا چاہئے۔ یہ غلط ہے؛ یہ حکومت اسلامی جمہوریہ ایران کے مامور ہیں؛ یہ ہمارے اپنے بچے ہیں؛ انقلاب کے بچے ہیں؛ وہ ایک مشن انجام دے رہے ہیں۔ مشکل بھی ہے یہ کام جو انہیں سونپا گیا ہے؛ انتھک محنت اور کوشش کے ساتھ یہ کام انجام دے رہے ہیں۔ چنانچہ ایک اہلکار کو جو ایک کام میں مصروف ہے اور ایک عمل کا ذمہ دار ہے، کمزور نہيں کرنا چاہۃے اور اس کی توہین نہیں کرنی چاہئے اور اس کے بارے میں بعض الفاظ زبان پر نہيں لانے چاہئے جو بعض اوقات سنائی دیتے ہیں کہ یہ ساز باز کررہے ہیں وغیرہ؛ ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ اس بات کی طرف بھی تو


مغربی ممالک میں پیغمبر اکرم (ص) کی توہین کی مذمّت
ویژه‌نامه ارتحال آیت‌الله تسخیری
پیام رهبر انقلاب به مسلمانان جهان به مناسبت حج 1441 / 2020
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی