اسلامی و مغربی طرز زندگي

اسلامی و مغربی طرز زندگي

مغربی طرز زندگي پر حکمراں افکار و نظریات کی خصوصیات کا جائزہ.

ابنا: آپ کو یاد ہوگا کہ اس سے پہلے کے پروگرام میں ہم نے بتایا تھا کہ افراد اور معاشرے کی زندگي، ان کے اعتقادات اور زندگي کے بارے میں ان کے طرز فکر کی آئینہ دار ہوتی ہے ۔ جن اہداف و مقاصد کا انسان اپنی زندگي میں انتخاب کرتے ہیں وہی ان کی زندگی کا مظہر ہوتے ہيں ۔ مسلمہ طور پر جو افراد کائنات کے بارے ميں مادی تصور  رکھتے ہیں اور صرف دنیاوی زندگي کی لذتوں کے بارے میں سوچتے ہيں ، ان کا طرز زندگی بھی مخصوص ہوتا ہے جس طرح سےکہ الہی تصور کائنات اور کمال پسندانہ اقدار کے حامل انسانوں کی زندگي کی ایک خاص روش اور طرز زندگي ہوتی ہے ۔ ہرانسان کا اپنی زندگي کا ادراک ہی زندگي میں اس کے اہداف کو متعین کرتا ہے ۔ اس بناء پر مذہبی اور اسلامی زندگی کی روش ، اوراس سلسلے میں انفرادی اور سماجی ذمہ داریوں کو بیان کرنے سے پہلے انسان اور زندگی کے بارے میں اسلام کے طرز فکر کو بیان کرنا ضروری ہے تاکہ اس طریقے سے بامقصد اور با معنی زندگي اور تصور کائنات کے بارےمیں  انسان کے اعلی و ارفع مقام ومنزلت سے آگاہ ہوں۔ گذشتہ پروگراموں میں اس حوالے سے  کچھ عرائض ہم نے پیش کیں اور اسلامی زندگي میں خداوند عالم کی محوریت و اہمیت نیز دنیا و آخرت کے درمیان قریبی اور گہرے رابطے کے بارے ميں بھی ہم بتا چکے ہيں ۔ جیسا کہ ہم نے بتایا کہ اسلامی ، تصور کائنات میں انسان کو یہ تعلیم دی جاتی ہےکہ ایک طرف اس کی مکمل زندگی خداوند عالم کی ذات سے وابستہ ہے اور دوسری طرف اس کی زندگي صرف دنیا میں محدود اور منحصر نہیں ہے ۔  اس تعریف کی رو سے انسان کی خلقت کے آغاز سے لے کر اس کے انجام یعنی آخرت تک  خدا سے  رابطے کی نشاندہی ہوتی ہے ۔ اس بناء پر انسان کو چاہئےکہ وہ دنیا کے رابطے کو اپنی آخرت کی ابدی اور جاوداں زندگي سے مربوط قرار دے کر اس کا تحفظ کرے ۔ اسلام کے نقطۂ نگاہ سے انسان کی دنیاوی زندگي ، اس کی اخروی زندگي تک رسائی کا  ذریعہ اور وسیلہ ہے کہ جس سے صحیح طورپراستفادہ کرنا چاہئیے ۔انسان کا اپنے وجود اور کائنات کے بارے میں غورو خوض ، ایک بنیادی ضرورت اور افراد کی زندگي گذارنے کی روش پر بہت زيادہ موثر ہے ۔ ہر شخص کا اپنی زندگي کے بارے ميں طرز فکر مختلف ہوتا ہے اور وہ دنیاکو اسی انداز سے دیکھتا ہے اور اسی بنیاد پر اپنی زندگي کے اہداف اور راستے کا تعین کرتاہے ۔ اسلامی زندگی کی شناخت بھی اس قاعدے سےمستثنی نہیں ہے چنانچہ انسان اور معاشرہ جتنا زیادہ ، اسلامی تعلیمات اور اصولوں کے مطابق عمل کریگا ان کی زندگي بھی اسی اندازے کےمطابق  اسلامی ہونے سے قریب تر ہوگي ۔ غیب پرایمان ، خدا کی وحدانیت ، نبوت اورقیامت کی حقیقت ، دنیا میں انسان کی اعلی منزلت ، کائنات کا اس کے لئے مسخر ہونا اور اعلی کمال تک رسائی کے لئے خدا کی بندگی سے متعلق انسانی فرائض کے بارے میں علم رکھنا وہ بنیادی چیزیں ہیں جو اسلامی طرز زندگی پر انتہائي اثرانداز ہوتی ہیں ۔ چنانچہ ہم یہاں پر زندگی کی روش میں سیکولر فکر کے ساتھ مذہبی فکر کے فرق کاجائزہ لیں گے ۔ سیکولر طرز زندگي میں دینی اقدار کی کوئی جگہ نہیں ہوتی اور سیکولر ازم میں خدا  کی جگہ انسان کو بنیادی اہمیت حاصل ہوتی ہے ۔  دراصل سیکولرزم کی تحریک روس اور یوروپی ممالک میں سیاست کو،چر چ کے تسلط سے آزاد کرانے کے لئے شروع کی گئی تھی۔ ان ممالک میں سیکولرزم کا مطلب لادینیت سے تھا۔ ۔مغربی ممالک میں چرچ کے انتہا پسندانہ اور فکری جمود اس امرکا باعث بنے کہ مغربی باشندے چرچ کی مشکل تعلیمات سے خود کو رہائی دلائیں اور ہیومنزم یا انسان دوستانہ فکر کو اپنائيں ۔ اس درمیان بعض مغربی مفکرین نے مذہبی تعلیمات کا مکمل طور پر انکار کرکے لوگوں کو عیسائی افکار و عقائد سے دور کیا اور ، عقل کو دین کا جاگزیں بنادیا ۔ جبکہ عقل انسانی بھی بہت سے سوالوں کے جواب دینے سے قاصر ہے ۔ انہوں نےانسان کو اس حد تک اونچا کیا کہ بندگی کی صفت ان سے سلب کرلی ۔ ہیومنزم کی بنیاد پر انسان تمام حقائق اور اقدار کی اساس ہے ۔ وہ خود پسند ہےجو خودکو کسی کے سامنے جواب دہ نہیں سمجھتا اور اپنے مفادات کے حصول کےلئے وہ ہر چیز سے ہر ممکنہ صورت میں استفادے کا جواز رکھتا ہے ۔ ہیومنزم ، ہر قسم کے روحانی افکار مثلا وحی الہی اور آسمانی ادیان کی نفی کرتا ہے ۔ اور انسان کو فطرت پر ، مطلق حاکم سمجھتا ہے ۔ ہیومنزم کے افکار میں انسانی شناخت کا اہم ترین اصول یہ ہے کہ انسان کی عقل ، خدا اور اس کے دین کا جاگزیں قرار پاتی ہے اور دین و معنویت کو زندگي میں کسی قسم کاعمل دخل حاصل نہیں ہوتا  ۔ ہیومنزم کے نظریات میں انسان کی امیدوں اور امنگوں کا خلاصہ اس کی مادی اور دنیوی زندگي ميں ہوتا ہے ۔ اور اس فکر ميں زندگي کا مقصد ، لذت حاصل کرنا ، منفعت طلب کرنا اور خود پسندانہ طریقے سے ہر ممکنہ  صورت میں خدا کی نعمتوں سے استفادہ کرنا ہے ۔ اور مغربی طرز زندگي اسی فکر پر وجود میں آئی ہے ۔گافسوس کا مقام ہے کہ گذشتہ دوصدیوں سے زیادہ عرصے کے دوران مغربی سامراجی طاقتوں نے اسلامی ملکوں پر تسلط پر جماکر اپنی زندگي کی روش کو بہت زیادہ رواج دیا اور یہ مسئلہ ان ملکوں میں بہت سی برائیوں کے وجود میں آنے کا سبب بنا ۔ ایرانی مفکر استاد رحیم  پور ازغدی اس سلسلے ميں کہتے ہيں  " اسلامی ملکوں کے لئے مغربی لیبرل ڈموکریٹس کا اہم ترین کارنامہ وہی سیکولر فکر ، یعنی معاشرے سے دین کو خارج کرنا تھا ۔ یہ واقعات جو گذشتہ 200 برسوں کےدوران مغرب میں رونما ہوئے اور ان کے نتائج سے عالم اسلام بھی متاثر ہوا سب اسی فکر کی بنیاد پر وجود میں آئے اور آگے بڑھے ۔مغرب بہت جلد اس نتیجے پرپہنچ گيا کہ اپنی قیادت و اقتدار کے تحفظ کے لئے اپنی زندگي کی روش کو معاشرے میں پھیلائے اور اس کام کے لئے اس نے تمام تر ہتھکنڈوں خاص طور پر فن اور آرٹ سے استفادہ کیا اور کررہا ہے ۔ جناب رحیم پور ازغدی سیکولر طرز زندگی کی ترویج کےلئے مغرب کی جانب سے استعمال کئے جانے والے حربوں اور طریقوں کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہيں " سیکولر عناصر نے ذرائع ابلاغ کے ذریعے کے پروپگنڈہ کیا ، اور فلم ، ڈرامے ، میاں بیوی کے درمیان باہمی تعلقات ، سماجی ، شہری اور گھریلوروابط کے ذریعے پیش کی جانے والی روش، رفتہ رفتہ ہمارے لئے آئیڈیل بن گئی ۔ان ڈیڑھ سو برسوں میں افسوس کہ مسلمانوں نے اپنے اقتدارکا مظاہرہ کرنے کی قوت کھو دی جبکہ ایک زمانے میں اسلامی تمدن ہی پوری دنیاکےلئے معیار اور آئیڈیل ہوتا تھا ۔ گذشتہ ڈیڑھ سو برسوں میں مسلمان کمزور اور مزید کمزور ہوتے چلے گئے یہاں تک کہ بیسویں صدی کے آغاز سے پورا عالم اسلام کے اکثر ممالک ، کم و بیش مغرب کے زیر تسلط اور مغربی افواج کے زیر کنٹرول آگئے ۔مسلمانوں کے درمیان مغربی زندگي کے رواج پانے کا ایک سبب امریکہ اور یورپ کی سائنسی اورصنعتی ترقی ہے ۔ مغرب ایک  ترقی یافتہ زندگی پیش کرنے میں کوشاں ہے اور اس نے اقتصادی و سائنسی ترقی کے ذریعے مختلف معاشروں کےافراد کو حیرت ميں ڈال دیا ہے ۔ یہ کامیابیاں اس بات کا باعث بنی ہیں کہ بہت سے یہ تصور کرنے لگیں کہ مغربی باشندوں کی زندگي ان کے طرز زندگي سے زیادہ  بہتر ہے ۔ سیکولر اور لادینی افکار میں انسان کا ہدف اور مقصد زندگي سے صرف زيادہ سے زیادہ مادی لذتیں حاصل کرنا ہے ۔ایسے انسان کا آخری مقصد ، معاشی زندگي ہے ۔ مادیات میں الجھے ہوئے انسانوں کا اعلی ترین مقصد زیادہ سے زیادہ منفعت اور سود حاصل کرنا ہے اور نتیجے میں ، ان کی زندگي کا مقصد زیادہ سے زیادہ دنیا کمانا ہوجاتا ہے ۔ مغربی طرز فکر میں انسان کو منافع کے حصول میں کوشاں رہنا چاہيئے اور اگر وہ منافع نہ حاصل کرے توحقیقت می‍ں وہ اپنے ہدف کے درپے نہیں ہے اور جب وہ اس ہدف کے درپے ہوگا تو ہر قسم کی رکاوٹوں کو اپنے راستے سے ہٹا دیگا ۔ اور ان کی تعبیر میں انسان کے پاس عقل ہے اور یہ عقل انسان کو اس کی دنیاوی لذتوں تک رسائي دلانےکی قوت رکھتی ہے ۔ البتہ انہوں نے عقل اورتجربے کو اہمیت دینے کے سبب اگرچہ بہت عظیم کارنامے انجام دیئے ہیں لیکن وحی الہی اور دینی معارف سے دوری کے نتیجے ميں بہت زیادہ مشکلات سے دوچار ہیں ۔  مغرب کے برخلاف اسلامی طرز زندگي  جنتا زیادہ ، اسلام و قرآنی اصولوں سے دور رہنےکا مخالف ہے اتناہی عقل و تجربے کو نظر انداز کرنے کو بھی غلط قرار دیتا ہے چنانچہ اسلامی و قرآنی معارف کے ساتھ ساتھ عقل وتجربہ ، انسان کو منزل مقصود تک رسائی عطا کرتا ہے ۔ ایرانی دانشور پروفیسر ڈاکٹر رفیعی اس سلسلے میں کہتے ہیں ہمیں صحیح زندگي کی روش حاصل کرنےکے سلسلے میں جامع علم ودانش تک رسائی کے لئے اسلامی و قرآنی معارف اور اصولوں سے استفادہ کرنا چاہئے تاکہ ان سے سازگار نتیجہ حاصل کرسکیں اور ایک علمی روش کےذریعے ، عقل و وحی سے ہم آہنگ پیغام تک دسترس حاصل کرسکیں اس صورت میں ہم تمام شعبوں منجملہ زندگی کی روش کے سلسلےميں ایک اسلامی نظریہ حاصل کرسکتے ہیں ۔ مغربی زندگي  ، معنویت اوراخلاق سے عاری زندگي ہے ۔ ایسی زندگي جو خدا اور معنویت کے بغیر انفرادی و سماجی زندگي میں محبت و عطوفت کی تنزلی کا باعث ہے ۔ سیکولر نظریئےکے مطابق دین کا کام اجتماعی امور کی انجام دہی اور طریقۂ کار کو بتانے کے بجائۓ محدود اور انفرادی کارکردگي انجام دیناہے بالفاظ دیگردین، زندگي کو بامعنی اور بامقصد نہيں بناتا اسی بناءپر خداوند عالم سے بیگانگي اور دوری ، مغرب میں بہت سی مشکلات کی جڑ ہے ۔اس سلسلےمیں  رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیۃ اللہ العظمی خامنہ ای کا ارشاد پیش کرتے ہوئے اس پروگرام کا اختتام کرتے ہيں ۔ آپ فرماتےہیں خداوندعالم سےعشق اور اس سےلو لگانا انسانی زندگي کو با مقصد بناتا ہے اور انسانی زندگي میں روحانی خلاء کو پر کرتا اور زندگي کےتمام امور میں کامیابی عطا کرتا ہے چنانچہ امریکہ جیسے ملکوں ميں حتی دولت ، فوجی اقتدار اور طاقت نیز  سائنسی ترقی کے باوجود انسان کو جو خوشبختی اور روحانی سکون حاصل نہیں ہے اس کی وجہ خدا اور معنویت سے دوری ہے ۔

.......

/169