شہید مہدی باکری کا وصیت نامہ

شہید مہدی باکری کا وصیت نامہ

شاید آپ نے پچاس سال خدا کی عبادت کی ہو اور خداوند اس عبادت کو قبول کرے، لیکن ایک مرتبہ شہداء کے ان وصیت ناموں کو پڑھ لیجيئے، یہ وصیت نامے انسان کو بیدار کرنے کے لئے کافی ہیں۔

ابنا: بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رح) کی زبان مبارک سے ادا ہونے والے  ان جملات سے، مسلط کردہ جنگ کے شہداء کی وصیتوں کو پڑھنے کی اہمیت دوچندان ہوجاتی ہے۔ ایسے شہداء کہ جن کو یہ یقین تھا ان کے مکتوبات اور وصیت نامے یادگار کے طور پر رہنے کے ساتھہ ، آیندہ نسلوں میں منتقل ہوں گے اور ان کی عزت و شرف اور حق کے دفاع پر مبنی راستہ ، حضرت امام مہدی (عج) کے انقلاب سے متّصل ہوکر رہے گا۔ ہماری یہ کوشش ہے کہ ایران کے خلاف صدام حکومت کی مسلّط کردہ جنگ کے چند اعلی کمانڈروں اور سرداروں کے وصیّت ناموں پر ایک اجمالی نظر ڈالیں اور ان ملکوتی شخصیات سے آشنا ہوں۔ایران کے بہادر و دلیر کمانڈرشہید مہدی باکری کا وصیّت نامہ:خداوندا  کس طرح وصیّت لکھوں جبکہ سراپا گناہ و معصیّت اور سراپا تقصیر و تیرا نافرمان ہوں؛ اگر چہ تیری رحمت و بخشش سے ناامید نہیں ہوں، لیکن میں ڈرتا ہوں کہ کہیں بغیر بخشے اس دنیا سے نہ چلا جاؤں اور میرا جانا خالص نہ ہو اور تیری بارگاہ میں قبول نہ کیا جاؤں؛ یارب العفو ، اے میرے خدا میرے گناہوں کو معاف فرما۔ خداوندا ! مجھے ایسے میں موت نہ آئے کہ تو مجھہ سے راضی نہ ہو۔ اے وائے کہ میں رو سیاہ ہوجاؤ گا۔ خداوندا ! تو دوستی کے قابل اور لائق عبادت ہے ! افسوس میں نہ سمجھہ سکا! آہ کتنے لذت بخش ہیں وہ لمحات کہ جب انسان اپنے رب کے دیدار کے لئے آمادہ ہوتا ہے ! لیکن کیا کروں کہ میرے ہاتھہ خالی ہیں۔ خداوندا ! تو مجھے قبول فرما۔سلام بر روح خدا ، عصر حاضر میں ہمارے نجات دھندہ ، وہ عصر و زمانہ کہ جو ظلم و ستم ، کفر و الحاد ، اسلام کی مظلومیت اور اس کے حقیقی پیروکاروں کا زمانہ ہے۔میرے عزیز دوستوں ! اگر دن رات خدا کا شکر ادا کریں کہ اس نے اسلام و امام (رح) جیسی نعمت کو ہمیں عطا کیا پھر بھی کم ہے۔ آگاہ رہنا چاہیے کہ اس نعمت کے سچے و صادق سپاہی بنے۔ ہم میں اندرونی وسوسوں اور دنیا فریبی کی شناخت ہونی چاہیے اور اس بات کو جان لینا چاہیے کہ عمل میں خلوص و صدق نیت ہی ہماری نجات کا واحد راستہ ہے۔اے سیدالشہداء کے عاشقوں! ہمیں حتمی طور پر شہادت کو اپنی آغوش میں لینا چاہیے، اس طرح ہمارا شوق سرخ اور ہماری شہادت کی تڑپ میں اضافہ ہوگا اور ہمارے قلب کی حرکت تیز ہوگی؛ ہمیں امام (رح) کے فرمانوں کے سیاق و سباق کو درک کرتے ہوئے ان پر عمل کرنا ہوگا تا اپنی ذمہ داریوں کو کسی حد تک شکرگاری کے ساتھہ ادا کرسکیں۔اپنی محترم والدہ ، بہن ، بھائیوں اور رشتہ داروں کو میری وصیّت یہ ہے کہ جان لیں کہ اسلام ، ہماری نجات و سعادت و خوشبختی کی تنہا راہ ہے، ہمیشہ یاد خدا میں رہیں اور خدا کے فرمان پر عمل کریں۔ امام خمینی(رح) کے مقلّد اور قلب کی گہرائیوں سے ان کے پشت پناہ ہوں، دعاؤں اور امام حسین علیہ السلام اور شہداء کی یاد میں ہونے والی مجلسوں کو بہت زیادہ اہمیت دیں، کیونکہ یہ عمل سعادت کا راستہ اور توشہ آخرت ہے۔ ہمیشہ حسینی و زینبی تربیت کے درپے رہیں اور ان کی ذمہ داری کو اپنی ذمہ داری سمجھیں اور اپنے بچوں کو ایسی تربیت دیں کہ وہ با ایمان سپاہی،عاشق شہادت،صالح علمبردار اور اسلام کے لئے حضرت ابوالفضل العباس علیہ السلام کے وارث بنیں۔ وہ تمام افراد کہ جو مجھہ سے رنجیدہ ہیں اور میرے اوپر ان کا حق ہے ان سے بخشش کا طلب کار ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ خداوند مجھے بے انتہا گناہوں کے باوجود بخش دے۔ خداوندا مجھے پاکیزہ حالت میں اپنی بارگاہ میں قبول فرما۔

.......

/169