شہید عباس بابائی کا وصیت نامہ

شہید عباس بابائی کا وصیت نامہ

شہید عباس بابائی, خدا کے راستے کا انتخاب کرو کہ اس کےعلاوہ سعادت و خوشبختی کا کوئی راستہ موجود نہیں۔

ابنا:  شہید عباس بابائی نے اس وصیّت نا مہ میں اپنی اہلیہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ! خدا کے راستے کا انتخاب کرو کہ اس کےعلاوہ سعادت و خوشبختی کا کوئی راستہ موجود نہیں۔ یاری ملیحہ; اسی طرح جیسے جانتی ہو کہ ماں کا احترام واجب ہے۔ اگرانسان معمولی سی بھی تکلیف ہو ، وہ پہلا فرد کہ جو اس سے زیادہ تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے ماں ہے کہ جو ہمیشہ اپنے جگر گوشہ یعنی بچے کی فکر میں رہتی ہے۔ ملیحہ : خدا کی قسم مسلمان صرف وصرف وہ نہیں کہ جو نماز ادا کرے اور روزہ رکھے۔ لیکن پہلی بات کی طرف آتا ہوں، اگر تمہارے دوست نے تم کو ناراض کیا اور بعد میں وہ پشیمان ہوجائے اور تم کو سلام کرلے اور تم سے مدد چاہے ، حتمی طور پر اس کی مدد کرنا۔ جتنا بھی ہوسکے اپنے دوستوں کی مدد کرو اور جس کسی کو جانتی یا نہ جانتی ہو اس کے ساتھ خوبی کرو اور کسی کو اپنے سے ناراض نہ ہونے دینا، ایسا نہ ہو کوئی تم سے رنجیدہ ہوجائے۔ جو کوئی بھی تم سے بدی کرے حتمی طور پر اس سے دوری اختیار کرو اور اگر کبھی وہ اپنے کیئے پر پشیمان ہوجائے تو اپنی ناراضگی دور کردینا۔ ملیحہ : اس دنیا میں صرف ، پاکی ، صداقت ، ایمان ، عوام سے محبت ، وطن کی حفاظت میں جان کا دینا اور انسان کی عبادت باقی رہنے والی ہے۔ جتنا بھی ہوسکے عوام کی خدمت کرو، پردے ، پردے کا بہت ہی زیادہ لحاظ رکھو۔ اگر چاہتی ہو کہ عباس (شہید کا بیٹا) ہمیشہ خوشحال رہے حتمی طور پر میری باتوں کو غور سے سنو۔ ملیحہ : جتنا بھی ہوسکے پڑھتی رہو، خوب پڑھو، خوب پڑھو، اچھی فکر کی حامل بنو، لوگوں کی مدد کرو، اچھے فیصلے کرو، ہمیشہ خدا سے مدد چاہتی رہو، نماز حتمی طور پر ادا کرو ، خدا کے راستے کو کبھی فراموش نہ کرنا۔ میری مہربان بیوی ملیحہ : جب بھی نماز ادا کرو میرے لئے دعا ضرور کرنا۔ خداوندا تجھے امام مہدی(عج) کی جان کا واسطہ امام زمانہ (عج) کے انقلاب تک خمینی کو باقی رکھہ۔ خدا کی قسم مجھے شہداء اور شہداء کے اہل خانہ سے شرم آتی ہے کہ وصیّت نامہ لکھوں۔ خدایا، میری ، میرے بچوں اور میری اہلیہ کی موت کو شہادت کی موت قرار دے۔ خدایا ؛ اپنی بیوی و بچوں کو تیرے سپرد کرتا ہوں۔ خداوند اس دنیا میں میرے پاس کچھہ بھی نہیں ہے جو کچھہ بھی ہے وہ تیرا دیا ہوا ہے۔ والدین گرامی : اس انقلاب کا ہمارے اوپر بہت بڑا قرض ہے۔......./169