1987 کے خونی حج کی یاد میں

بیت اللہ کے زائرین کی مظلومانہ شہادت/ امام خمینی اور رہبر انقلاب کا رد عمل

بیت اللہ کے زائرین کی مظلومانہ شہادت/ امام خمینی اور رہبر انقلاب کا رد عمل

31 جولائی 1987 بمطابق 6 ذوالحجۃالحرام سنہ 1407 کے دن ایران اور دوسرے اسلامی ممالک سے آئے ہوئے حجاج کرام اور زائرین بیت اللہ برائت من المشرکین (مشرکین سے بیزاری) کے الہی فریضے میں مصروف تھے کہ آل سعود کے وہابی گماشتوں نے انہيں وحشیانہ یلغار کا نشانہ بنایا اور سینکڑوں حجاج کرام اللہ کے پرامن شہر میں اپنے خون میں غوطہ زن ہوئے۔

اہل البیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ زائرین بیت اللہ ہر سال اسلام اور قرآن (بالخصوص سورہ توبہ میں اللہ کے) واضح فرمان پر برائت کا فریضہ انجام دیتے ہیں اور مسلمانوں کو اتحاد کی دعوت دیتے ہوئے دشمنان اسلام ـ بالخصوص امریکہ اور اسرائیل ـ برائت و بیزاری کا اعلان کرتے ہیں۔ اس وحشیانہ وہابی یلغار کے نتیجے میں چار سو ایرانی حجاج اور بےشمار غیرایرانی حجاح شہید ہوئے اور ایک ہزار کے قریب زخمی ہوئے۔ اس واقعے سے معلوم ہوا کہ وہابی حکام نہ صرف خدمت حرمین شریفین کی صلاحیت نہیں رکھتے بلکہ وہ تو اسرائیل اور امریکہ سے اپنی وفاداری ثابت کرنے کے لئے اللہ کے محکم ترین احکام تک کو پامال کرسکتے ہیں۔ بےشک حج کے پرشکوہ ایام میں برائت از مشرکین کے مراسمات، حج بیت اللہ کے اثرات کو دوچند کردیتے ہیں اسی بنا پر رہبر انقلاب کے رہبر کبیر اور اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی حضرت امام خمینی(رحمۃ اللہ علیہ) اور رہبر انقلاب حضرت امام خامنہ ای (حفظہ اللہ) ہر سال ان مراسمات کے پرشکوہ تر انعقاد پر تاکید کرتے ہیں۔ 6 ذوالحجہ سنہ 1407 ایرانی حجاج نے دوسرے ممالک کے حجاج کے ہمراہ برائت من المشرکین کی ریلی کا آغاز کیا۔ حجاج کرام اس ریلی کے دوران امریکہ اور اسرائیل سے نفرت کا اظہار کررہے تھے اور تمام کافروں اور مشرکوں سے بیزاری کا اعلان کررہے تھے، پوری دنیا کے مسلمانوں کو اتحاد اور یکجہتی اور شیطانی قوتوں ـ اور ان کے سرغنے شیطان بزرگ امریکہ ـ کے تسلط کے خلاف جدوجہد کی دعوت دے رہے تھے، عرب و عجم ریلی میں شریک تھے اور جو شریک نہ تھے وہ اس الہی گونج سے مسحور ہوچکے تھے۔ ریلی کے شرکاء امام خمینی(رحمۃاللہ علیہ) کا پیغام سننے کے بعد اللہ اکبر، لا الہ الا اللہ اور الموت لامریکا کے نعرے لگاتے ہوئے بیت اللہ کی جانب روانہ ہوئے جہاں ریلی ختم کرکے نماز مغرب میں شرکت کا پروگرام تھا۔ لیکن تھوڑا ہی فاصلہ طے کرنے کے بعد سعودی گماشتے ظاہر ہوئے اور نہتے حجاج کی صفوں پر حملہ آور ہوئے۔ ریلی کی پہلی صفوں میں جنگ کے مجروحین اور جانباز (ناقص العضو ہونے والے مجاہدین) اور خواتین جارہی تھی جنہیں سب سے پہلے آل سعود کی لاٹھیوں اور گیسوں کا سامنا کرنا پڑا جبکہ عمارتوں سے پتھر، شیشے، اینٹیں، لوہے کی سلاخیں، سمینٹ کے بلاکس، فائر بریگیڈ کی ریت بھری بالٹیاں اور حتی کہ برف کے بلاکس حجاج بیت اللہ کی طرف برسائے جانے لگے اور اس کے بعد سانس بند کردینے والی زہریلی گیسوں اور فائرنگ کی باری آئی اور آل سعود نے حرم امن کو میدان جنگ میں تبدیل کیا اور سینکڑوں پاک و پاکیزہ حجاج کی لاشیں سڑک پر گر گئیں اور بہت سے افراد تو گیسوں اور گولیوں کا نشانہ بن کر شہید ہوئے۔ انہیں امریکہ اور اسرائیل سے بیزاری کی سزا دی جارہی تھی۔ خواتین کی چادریں گر گئیں اور بہت سے افراد پاؤں کے نیچے آکر شہید ہوئے۔ سعودی مجرم زخمیوں کی اسپتال منتقلی کی راہ میں رکاوٹ بن رہے تھے اور ایمبولینسوں میں پڑے زخمیوں پر حملے کررہے تھے۔ یہ تاریخی جرم اور بیت اللہ کی حرمت کی یہ پامالی ابد تک آل سعود کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ بن کر رہ گئی اور اقوام کے نزدیک ان کی فضاحت و رسوائی کا سبب۔ اس واقعے نے مسلمانان عالم اور احرار عالم کے دلوں کو مجروح اور انہیں سوگوار کیا لیکن امام عزیز خمینی کبیر (رحمۃ اللہ علیہ) کے ارشاد کے مطابق: اگرچہ ہم امت محمد(ص) اور پیروان ابراہیم حنیف(ع) اور قرآن و اسلام پر عمل کرنے والوں کے اس بے مثل قتل عام پر مغموم اور عزادار ہیں لیکن خداوند متعال کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمارے دشمن اور ہماری اسلامی پالیسیوں کے مخالفین کو کم عقلوں اور بے عقلوں میں سے قرار دیا ہے کیونکہ وہ خود اس حقیقت کے ادراک سے عاجز ہیں کہ ان کا یہ اندھا اقدام ہمارے انقلاب کی قوت اور تبلیغ اور تعارف کا سبب اور ہماری قوم کی مظلومیت کا وسیلہ بن چکا ہے اور انھوں نے ہر مرحلے میں ہمارے مکتب و ملک کے کمال و ارتقاء کے اسباب فراہم کئے ہیں"۔ واضخ رہے کہ اس خونی واقعے کے بعد آل سعود سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے شوشہ چھوڑا کہ ایرانی حجاج کعبہ کو اٹھا کر ایران لے جانا چاہتے تھے اور بعض نے کہا کہ وہ تو بس حجرالاسود کو اٹھا کر لے جانا چاہتے تھے اور بہت سے اخبارات نے اس زمانے میں یہ ہرزہ سرائیاں من و عن نقل کرکے شائع کردیں جبکہ یہ اتنا واہیات دعوی ہے کہ کوئی عقلمند شخص اس کے بارے سوچ بھی نہيں سکتا۔ سعودیوں نے ایرانی حجاج کی قینچیاں اور چھریاں اکٹھی کرکے ان کی تصویریں اخبارات میں شائع کردیں کہ بھئی یہ لوگ ان ہتھیاروں کو استعمال کرکے بیت اللہ کو اٹھا کر لے جانا چاہتے تھے اور عوام بھی کم از کم سعودی عرب میں، ان ہرزہ سرائیوں کے سامنے سراپا تسلیم تھے کہ بیت اللہ کو کس وسیلے سے مکہ سے خارج کرکے لے جائیں گے جو دسیوں ایکڑ زمین پر پھیلا ہوا ہے اور وہ کونسی ٹیکنالوجی استعمال کرکے ایسا کرسکتے تھے؟ کیا وہ چھریوں اور قینچیوں سے ایسا کچھ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے؟ ہم سب جانتے ہیں کہ حج کے موقع پر بعض لوگ ـ جو پہلے حج ادا کرچکے ہوتے ہیں اور ان کا دوسرا اور تپسرا حج ہوتا ہے اور وہ جو عمرہ تمتع سے فارغ ہوتے ہیں ـ وہ قینچی سے سر کے چند بال کاٹ کر تقصیر کرتے ہیں اور احرام سے خارج ہوتے ہیں اور چھریاں منی میں قربانی کے کام آتی ہیں۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماخذ: 1۔ سایت اسناد انقلاب اسلامی۔

حج خونین پر امام خمینی(رح) کا رد عمل1۔ میں اس سال عید سعید ضحی کے موقع پر عید نہیں مناؤں گا اور کسی سے نہيں ملوں گا۔ 2۔ اس عظیم حادثے نے نہ صرف ملت ایران کے جذبات و احساسات کو مجروح کیا بلکہ یقینا اس نے تمام احرار عالم اور مسلم اقوام کے دلوں کو متالم اور متاثر کیا ہے (اور صدمے سے دوچار کیا ہے)۔ 3۔ یہ واقعات ہماری قوم کے لئے غیر متوقعہ اور حیرت انگیز نہیں ہیں کہ امریکہ اور اور اسرائیل کا ہاتھ ریاکاروں اور جزیرۃ العرب کے حکمرانوں اور حرمین شریفین کے خائنین کی آستین سے باہر آئے اور بہترین مسلمانوں اور خدا کے بہترین مہمانوں کے قلب کو نشانہ بنائے۔ 4۔ سعودی حکومت مطمئن رہے کہ امریکہ نے بدنامی کا داغ اس کے دامن پر لگا دیا ہے جو قیامت تک آب زمزم اور آب کوثر سے بھی پاک نہ ہوسکے گا۔ 5۔ ہم نے ان سارے جرائم کو امریکہ کے کھاتے میں ڈال دیا ہے اور اللہ کی مدد سے مناسب موقع پر ان کا حساب بھی چکائیں گے اور ابراہیم کے فرزندوں کے خون کا انتقام نمرودوں، شیاطین اور قارونوں سے لیں گے۔ 6۔ آل سعود میں کعبہ اور حج کے امور کی ذمہ داری سنبھالنے کی صلاحیت موجود نہيں ہے اور علماء اور مسلمین اور دانشوروں کے اس مسئلے کا چارہ کار تلاش کرنا پڑے گا۔ 7۔ جو خون ہماری ملت کے عظیم بحر کے دل سے سرزمین حجاز پر جاری ہوا ہے وہ اسلام کی خالص سیاست کے پیاسوں کے لئے زمزم ہدایت میں بدل گیا ہے جس سے اقوام اور آنے والی نسلیں سیراب ہونگے اور ظالمین اور اس میں ڈوب کر ہلاک ہوجائیں گے۔ 8۔ اگرچہ ہم امت محمد(ص) اور پیروان ابراہیم حنیف(ع) اور قرآن و اسلام پر عمل کرنے والوں کے اس بے مثل قتل عام پر مغموم اور عزادار ہیں لیکن خداوند متعال کا شکر ادا کرتے ہیں کہ اس نے ہمارے دشمن اور ہماری اسلامی پالیسیوں کے مخالفین کو کم عقلوں اور بے عقلوں میں سے قرار دیا ہے کیونکہ وہ خود اس حقیقت کے ادراک سے عاجز ہیں کہ ان کا یہ اندھا اقدام ہمارے انقلاب کی قوت اور تبلیغ اور تعارف کا سبب اور ہماری قوم کی مظلومیت کا وسیلہ بن چکا ہے اور انھوں نے ہر مرحلے میں ہمارے مکتب و ملک کے کمال و ارتقاء کے اسباب فراہم کئے ہیں 9۔ گویا کہ سعودیوں نے ایک بڑے مورچے کو فتح کیا ہے سینکڑوں نہتے مسلمان مردوں اور عورتوں کو مشین گنوں کا نشانہ بنا کر اور ان کی مطہر لاشوں پر سے گذر کر، گویا وہ بہت بڑی عسکری کامیابی حاصل کرچکے ہیں، جو ایک دوسرے کو مبارکباد کہہ رہے ہيں اور حالانکہ پورا عالم سوگ و ماتم پر بیٹھا ہوا ہے اور رسول اللہ(ص) کا دل ٹوٹ گیا ہے"۔ 10۔ یقینی امر ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب نے خانہ خدا کے مُحرم مسلمانوں کے نہتے پن اور احکام قرآن کی پیروی اور خانہ خدا کے اطراف میں جدال سے مؤمنین کے پرہیز، سے ناجائز فائدہ اٹھایا ہے اور پہلے سے تیار کردہ وسائل اور لومڑیوں کے موافق منصوبہ سازی کے مطابق ہمارے شیر مردوں اور شیر زنوں پر حملہ آور ہوئے ہیں اور ان پر اچانک اور بےخبر، یلغار کئے ہوئے ہیں"۔ (1) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماخذ:1۔ آنسوي حج خونين ص 288 تا 293۔

 حج خونین پر امام خامنہ ای کا رد عمل1۔ ہم واضح طور پر اس حادثے کی پشت پر امریکہ کا پلید ہاتھ دیکھ رہے ہیں۔ 2۔ ایرانی حجاج کا خون رائیگان نہ جائے گا۔ 3۔ جو کچھ بڑی تعداد میں ہمارے بےگناہ حجاج کرام کی شہادت سے زیادہ، دل دہلا دیتا ہے، خانہ خدا کی حرمت کی پامالی اور مکہ معظمہ کی احترام شکنی ہے۔ 4۔ تمام شواہد بتا رہے ہيں کہ یہ المیہ پہلے سے منصوبہ بندی، پروگرام کے مطابق اور امریکیوں کے احکامات کے مطابق تھا تاکہ اسلامی جمہوریہ ایران کو بھاری نقصان پہنچائیں۔ 5۔ ہمیں امید ہے کہ اسلامی حکومتیں اس واقعے کے حوالے سے مناسب موقف اپنائیں اور ضروری اقدامات بجا لائیں۔6۔ ہماری توقع یہ ہے کہ اسلامی ممالک المناک سعودی اقدام کی مذمت کریں۔  7۔ آج عالمی استکبار کی ریشہ دوانیاں حرمین شریفین اور ان کے انتظام و انصرام تک بھی پہنچ چکی ہیں۔ 8۔ ہم اقوام متحدہ اور خاص طور پر اسلامی کانفرنس سے پرزور توقع رکھتے ہیں کہ اس المئے کو نظرانداز نہ کریں۔ 9۔ جو نظام حکومت خانہ خدا کے لاکھوں مہمانوں کی جانوں کے تحفظ کا پابند اور ذمہ دار ہے اور جس کو حجاج پر کسی بھی قسم کے حملے کا سد باب کرنا ہے، وہ بلاواسطہ طور پر حجاج کے قتل عام میں ملوث ہوگیا ہے اور انتہائے درندگی کے ساتھ براہ راست اقدام کرکے ایرانی حجاج پر حملہ آور ہوگیا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماخذ: آنسوي حج خونين ص302۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/٭۔٭


دنیا بھر میں میلاد پیغمبر رحمت(ص) کی محفلوں کی خبریں
سینچری ڈیل، نہیں
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی