شہید صیاد شیرازی کا وصیّت نامہ

شہید صیاد شیرازی کا وصیّت نامہ

اناللہ و انا الیہ راجعون۔ ھذا ما وعدنا اللہ و رسولہ و صدق اللہ و رسولہ ۔ اللھم زدنا ایمانا‏‎‌ و ارحمنا ۔ اشھد ان لاالہ الااللہ وحدہ لا شریک لہ و ان محمدا عبدہ و رسولہ ارسلہ بالھدی و دین الحق و ان الصدیقۃ الطاھرہ فاطمہ الزھرا ، سیدۃ نساء العالمین و ان علیا امیرامومنین و الحسن و الحسین و علی بن الحسین و محمّد بن علی و جعفر بن محمّد و موسی بن جعفر و علی بن موسی و محمّد بن علی و علی بن محمّد و الحسن بن علی و الحجۃ القائم المنتظر صلواۃ اللہ و سلامہ علیھم ائمتی و سادتی و موالی بھم اتولی و من اعدائھم اتبرء و ان الموت و النشور حق و الساعۃ آتیۃ لا ریب فیھا و ان الجنۃ و النار حق۔ اللھم ادخلنا جنتک برحمتک و جنّبنا و احفظنا من عذابک بلطفک و احسانک یا لطیفا بعبادہ یا ارحم الراحمین۔خداوندا ! یہ تو ہے کہ جس نے میرے قلب کو عشق کی دولت سے مالا مال کیا اور اس میں اپنے اسلام و نظام اور ولایت کو قرار دیا؛ خدایا ! تجھے معلوم ہے کہ میں ہمیشہ آمادہ رہا ہوں کہ وہ چیز کہ جو تو نے مجھے عطا کی ہے تیرے عشق کے راستے میں نثار کروں۔ اگر اس کے علاوہ کچھہ اور بوتا وہ بھی تیری خواہش کے مطابق ہوتا۔ میرے پرودگار میرا جانا تیرے ہاتھہ میں ہے، مجھے نہیں معلوم میں کب اس دنیا سے جاؤں گا، لیکن یہ جانتا ہوں کہ تجھہ سے حتمی طورپر چاہوں کہ تو مجھے امام زمانہ (عج) کی رکاب میں قرار دے اور تیرے دین کے قسم خوردہ دشمنوں سے اس قدر جنگ کروں یہاں تک کہ شہادت کے درجہ پر فائض ہوجاؤں۔ خداوندا ! اپنے ولی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کو حضرت امام مہدی (عج) کے ظہور تک زندگی عطا فرما اور ان کو زندہ و جاوید رکھہ۔

.......

/169