کیا مساجد کے لوڈ اسپیکروں سے اذان و دعاوں کا نشر کرنا جائز ہے؟

کیا مساجد کے لوڈ اسپیکروں سے اذان و دعاوں کا نشر کرنا جائز ہے؟

مراجع کرام امام خامنہ ای اور صافی گلپائیگانی نے مساجد سے اذان و دعاوں کے پروگرام نشر کرنے کے بارے میں پوچھے گئے سوالات کے جوابات دئے ہیں۔

اہل بیت نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مساجد، امام بارگاہوں اور تبلیغی مراکز کے پڑوسیوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ لوڈ اسپیکر کی آواز کا ہے۔ بعض اوقات ان مراکز کے اڑوس پڑوس میں رہنے والوں میں کوئی مریض ہوتا ہے اور کسی کو کانوں کی مشکل ہوتی ہے اور وہ اونچی آواز کو برداشت نہیں کر پاتا ایسے میں جب مذہبی مراکز سے لوڈ اسپیکر کی آواز گونجتی ہے تو کیا ان افراد کے لیے اس آواز کو برداشت کرنا ضروری ہے اور کیا وہ اس کے خلاف زبان اعتراض نہیں کھول سکتے چونکہ وہ مسجد یا امام بارگاہ کے لوڈ اسپیکر سے آ رہی ہے؟مراجع عظام حضرت آیت اللہ خامنہ ای اور حضرت آیت اللہ صافی گلپائگانی سے اس بارے میں سوالات پوچھے گئے اور انہوں نے شرعی نقطہ نظر سے ان کے جوابات دئے ہیں جو ذیل میں پیش کئے جاتے ہیں:سوالات اور جوابات کا متنسوال: کیا مسجد کے لوڈ اسپیکر سے صبح کی اذان سے پہلے قرآن کی تلاوت اور اذان کے بعد دعا کا نشر کرنا جائز ہے جبکہ مساجد کے اطراف میں رہنے والے لوگوں کی اذیت کا باعث ہو؟ اس بات کی طرف توجہ کے ساتھ کہ کبھی کبھی یہ پروگرام آدھا گھنٹہ بھی کھیچ جاتا ہے۔حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای کا جوابصبح کے وقت لوگوں کو وقت نماز سے آگاہ کرنے کے لیے مسجد کے لوڈ اسپیکر سے رائج طریقے کے مطابق اذان کا نشر کرنا کوئی اشکال نہیں رکھتا۔ لیکن اذان کے علاوہ تلاوت قرآن، دعا یا دیگر پروگراموں کا مسجد کے لوڈ اسپیکر سے نشر کرنا اگر پڑوسیوں کی اذیت کا باعث بنے تو شرعی اشکال رکھتا ہے۔سوال: ماہ مبارک رمضان میں سحر کے مخصوص پروگراموں کا مسجد کے لوڈ اسپیکر سے نشر کرنا کیا حکم رکھتا ہے؟حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای کا جوابان جگہوں پر جہاں لوگوں کی اکثریت سحر کے وقت جاگ رہی ہوتی ہے اور تلاوت قرآن اور دعا و مناجات وغیرہ میں مشغول ہوتی ہے کوئی اشکال نہیں رکھتا لیکن اگر مسجد کے پڑوسیوں کی اذیت کا باعث بنے تو جائز نہیں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سوالبسمہ تعالیبخدمت حضرت آیت اللہ العظمیٰ صافی گلپائگانی(دامت برکاتہ)سلام علیکم و رحمۃ ا۔۔۔اذان، دعا و مناجات اور تلاوت قرآن وغیرہ کا مساجد کے لوڈ اسپیکروں سے نشر کرنا دین مقدس اسلام میں کیا حکم رکھتا ہے جبکہ اس سے پڑوسیوں کو اذیت ہوتی ہو؟حضرت آیت اللہ العظمیٰ صافی کا جواببسم اللہ الرحمن الرحیمعلیکم السلام و رحمۃ اللہمیں مساجد، امام بارگاہوں  اور دیگر مذہبی مراکز میں پروگرام منعقد کرنے والوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اذان کے علاوہ جو شعائر الہی میں سے ہے دوسرے پروگراموں کو لوڈ اسپیکر سے نشر نہ کیا کریں تاکہ لوگوں کو اذیت نہ ہو اور بہانہ تلاش کرنے والے ان تمام پروگراموں پر اعتراض نہ کریں۔ خاص طور پر بیمار اور سن رسیدہ پڑوسیوں کے حال کی رعایت ضرور کریں۔اور میں ان لوگوں کو بھی نصیحت کرتا ہوں جو مساجد کے پروگراموں اور مذہبی مراسم کی شکایت کرتے ہیں کہ ان لوگوں میں سے نہ ہو جائیں جن کے بارے میں خداوند متعال فرماتا ہے: «وَ إذا ذُکِرَ اللهُ وَحْدَهُ إشْمَئَزَّتْ قُلُوبُ الذینَ لایُؤْمِنُونَ بِالآخرةِ و إذا ذُکِر الَّذینَ مِنْ دُونِه إذا هُمْ یَسْتَبْشِرُونَ»؛ یعنی اگر لوڈ اسپیکر سے اذان، تلاوت قرآن، موعظہ اور ذکر اہلبیت(ع) نشر ہو تو ان کے دل ناراض ہو جاتے ہیں لیکن اگر موسیقی یا گانے وغیرہ نشر ہوں تو خوش ہوتے ہیں۔کوشش کریں ان لوگوں میں سے ہوں جیسے حضرت ابراہیم(علی نبیّنا و آله و علیه السلام) بعض روایات کی بنا پر جب انہوں نے «سبّوح قدّوس ربُّ الملائکةِ والرُّوح» کے ذکر کی آواز سنی تو کہنے والے سے کہا کہ ایک بار پھر اس ذکر کے تلاوت کرے تاکہ اپنی بکریوں میں سے کچھ اسے دیں ذکر کرنے والے نے اس قدر اس ذکر کی تکرار کی یہاں تک کہ حضرت ابراہیم نے اپنی تمام بکریاں اسے دے دیں اور آخر کار اس سے کہا کہ خود انہیں بھی اپنی ملکیت میں رکھ لے لیکن اس ذکر کی تکرار کرتا رہے۔خداوند عالم سب کو دینی وظائف انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔لطف اللہ صافی۱۸ ذی العقدہ ۱۴۳۴۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲


دنیا بھر میں میلاد پیغمبر رحمت(ص) کی محفلوں کی خبریں
سینچری ڈیل، نہیں
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی