بالائی منزل سے کعبے کے طواف کے بارے میں مراجع تقلید کے فتاویٰ+ بلائی منزل کی تصاویر

بالائی منزل سے کعبے کے طواف کے بارے میں مراجع تقلید کے فتاویٰ+ بلائی منزل کی تصاویر

مسجد الحرام کی توسیع کے ساتھ ساتھ کمزور اور سن رسیدہ افراد کے طواف میں سہولت کے لیے خانہ کعبہ کے اطراف میں بالائی منزل تیار کی ہے تو کیا اس منزل پر طواف کرنا صحیح ہے؟

اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سعودی حکومت نے مسجد الحرام کی توسیع کے ساتھ ساتھ کمزور اور سن رسیدہ افراد کے طواف میں آسانی کے لیے خانہ کعبہ کے اطراف میں بالائی منزل تیار کی ہے جس کی بلندی سطح زمین سے ۱۳ میٹر ہے جبکہ خانہ کعبہ کی بلندی ۱۴ میٹر سے زیادہ ہے۔اس منزل کی تعمیر کے بعد یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا شرعی اعتبار سے اس بالائی منزل سے طواف کرنا صحیح ہے؟ اس سلسلے میں مراجع عظام سے پوچھے گئے سوالات اور ان کے جوابات کا خلاصہ یہ ہے:سوال: جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ خانہ کعبہ کے اطراف میں کمزور اور سن رسیدہ افراد کے لیے طواف میں سہولت کی خاطر ایک نئی جگہ تعمیر کی گئی ہے جس کی بلندی خانہ کعبہ کی سطحِ زمین سے ۱۳ میٹر ہے کیا اس بالائی منزل پر طواف کرنا جائز ہے؟رہبر معظم انقلاب: پہلی منزل پر طواف کرنا صحیح ہے لیکن دوسری منزل پر محل اشکال ہے اور کمزور اور مسن افراد اگر دوسری منزل پر طواف کرنا چاہیں تو ان کے لیے احتیاط یہ ہے کہ خود طواف کرنے کے ساتھ ساتھ نائب بھی معین کریں۔آیت اللہ مکارم شیرازی: بالائی منزل سے طواف کرنا اس شرط کے ساتھ صحیح ہے کہ اس کی بلندی خانہ کعبہ کی بلندی سے کم ہو۔آیت اللہ نوری ہمدانی: بالائی منزل سے طواف درست نہیں ہے کمزور افراد کو چاہیے کہ نائب معین کریں۔آیت اللہ سیستانی: اگر بالائے منزل کی بلندی خانہ کعبہ کی بلندی سے کم ہو تو جائز ہے۔ 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲


All Content by AhlulBayt (a.s.) News Agency - ABNA is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License