سخن عشق

سخن عشق

اے جوان عزیز! آپ کو اس معاشرے میں جو بھی قدم اٹھانا ہے پہلے آپ تسلی کر لیں اور یقین حاصل کر لیں کہ آپ کا یہ قدم خدا کے لئے ہے پھر آپ کو اگر سولی پر بھی چڑھنا پڑے تو کوئی مشکل نہیں ہے: شہید عارف حسینی

شہید علامہ عارف حسین الحسینی کے چند فرامین درج ذیل ہیں جو انہوں نے مختلف موقعوں پر بیان کئے ہیں اور جو واقعا ہمارے لیے مشعل راہ ہیں۔ جن سے شہید قائد کی فکر اور راہ بلکل واضح دکھائی دیتی ہے ۔پروردگار عالم سے دعا ہے کہ اس مظلوم شہید کے خون کے صدقے میں ہمیں اس بزرگوار اور فرزند خمینی (رہ) کے افکار کو سمجھنے، ان پر عمل کرنے اور انہیں زندہ رکھنے کی توفیق عطاء فرمائے ۔شہید عارف حسینی: اے خمینی عظیم !  اے خمینی کفر شکن!  اے خمینی کوبندہ شرق و غرب!  اے وارث علی اطہر !  اے نائب بر حق امام زمان!  اگر آپ نے ایران کی زمین پر اسلام کا نعرہ بلند کیا ہے تو ہمارے نوجوانوں نے بھی پاکستانِ اسلامی میں اسلام کو نافذ کرنے کا عزم کر لیا ہے۔ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ معاشرے کے ارکان میں سے ایک تقویٰ ہے اوراگر معاشرے کے ارکان میں سے تقویٰ نکال دیں تو معاشرہ بدبخت اور تباہ و برباد ہو جائے گا۔اے محمد حسین شاد!  اے شہید فقہ جعفریہ!  جس مقصد کے لیے آپ نے اسلام آباد کی سرزمین پر اپنا خون دیا تھا آج ہمارے نوجوانوں نے عزم کر رکھا ہے کہ ہم آپ کے خون کو ضائع نہیں ہونے دیں گے اور اس مقصد کی تکمیل کریں گے۔جن کے پاس معنوی آزادی نہیں وہ اگر اجتماعی آزادی کی باتیں کرتے ہیں تو سوائے لوگوں کو بے وقوف بنانے کے اور کچھ بھی نہیں کر سکتے۔میں نے تو پہلے دن ہی سے اپنے آپ سے یہ عہد کیا تھا کہ اگر اس راہ میں اور اس مقصد کی خاطر میرا خون اور میرا سب کچھ کام آئے تو میں ہر گز دریغ نہیں کروں گا اگر میری زندگی میں کوئی مثبت نقطہ نہیں ہے تو میرا یہ ناقابل خون اسلام کی خدمت کا ذریعہ بن جائے اور محمد و آل محمد کے سامنے سرخرو ہو جائوں۔سپر طاقت صرف اور صرف اللہ ہے،اسلام و قرآن ہے،تمہیں چاہئے کہ اسلام و قرآن کی طرف لوٹ آو، کیا امریکہ نے تمہاری مدد کی ہے؟وعدہ تو کیا کہ فلاں بیڑہ آرہا ہے ، مشرقی پاکستان ہمارے ہاتھ سے چلا گیا لیکن ان کا بیڑہ نہیں آیا،جو بھی خدا کے علاوہ کسی اور طاغوتی طاقت کا سہارا لیتا ہے وہ اسی طرح بدبخت و ذلیل ہوجاتا ہے۔خوف، ڈر اور کسی قسم کی ناامیدی اور مایوسی ہم میں نہیں آنا چاہئیے اور جو راستہ امام خمینی(رہ) نے بتایا ہے ہمیں اس پر چلنا چاہئیے۔اسلامی جمہوریہ ایران ہے کہ تن تنہا میدان میں کھڑا ہے،امریکہ ان کا مخالف ہے،روس بھی ان کا مخالف ہے اور ان کے چمچے بھی ان کے مخالف ہیں مگر یہ کس شجاعت، جرات اور سرفرازی کے ساتھ انہیں چیلنج دے رہے ہیں۔مکتب اہل بیت(ع) میں ایمان، عقیدہ اور عمل ِصالح لازم و ملزوم ہیں۔میں کہتا ہوں کہ شیعوں میں کوئی ایسا نہیں جو علی کا منکر ہو، اگر شیعوں میں کوئی علی(ع) کے نعرے کا منکر ہو تو ہم اس پر لعنت بھجتے ہیں۔اس ماتم امام حسین(ع) نے ان جوانوں کو اسرائیل کے مقابلے میں استقامت عطا فرمائی ہے۔اگر آپ دل سے اللہ اکبر کہتے ہیں تو پھر جب اللہ آپ کے ساتھ ہے تو کوئی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔باطل نظام ، فاسد معاشرہ اور تربیتی اداروں میں تربیت کا کوئی پروگرام نہیں، اگر کوئی جوان دیندار اور حزب اللّہی نکلے تو یہ واقعی تعریف و ستائش کے لائق ہے۔مومن کبھی بھی شکست نہیں کھاتا اس کی لغت میں ناکامی کا لفظ نہیں ہے وہ ہمیشہ کامیاب ہے لہٰذا جو بھی مشکل آجائے اگر میدان میں ہے تو کہتا ہے الٰہی تیری رضا میری رضا ہے۔اگر کسی معاشرے میں تقویٰ ختم ہو جائے تو پھر اس کی جگہ نہ حکومت لے سکتی ہے نہ علم و سائنس اور نہ ہی دیگر مختلف قوانین کے بس میں ہے کہ وہ اس خلاء کو پر کر سکیں۔اب امریکہ ہر جگہ دفاعی پوزیشن میں ہے، پہلے اس کی پوزیشن حملہ آور کی تھی وہ حملہ کرتا تھا لیکن آج امریکہ کی سیاسی اور فوجی میدان میں دفاعی پوزیشن ہے۔اے جوان عزیز!  آپ کو اس معاشرے میں جو بھی قدم اٹھانا ہے پہلے آپ تسلی کریں اور یقین حاصل کریں کہ آپ کا یہ قدم خدا کے لئے ہے پھر آپ کو اگر سولی پر بھی چڑھنا پڑے تو کوئی مشکل نہیں ہے۔جو اللہ اکبر کہتا ہے یعنی جب اللہ سب سے بڑا ہے تو پھر اس کی نظر میں ڈی سی، کرنل اور جنرل کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی، جب وہ کہتا ہے اللہ اکبر تو پھر کسی کو کچھ بھی نہیں سمجھتا۔اللہ اکبر یعنی امریکہ سپر طاقت نہیں ہے،  روس سپر طاقت نہیں ہے ،  روس اور امریکہ جب کوئی چیلنج دیتے ہیں تو یہ مرد مومن جماران میں بیٹھ کر ان پر ہنستا ہے۔اسلامی جمہوریہ جیسی حکومت جسے ہم کہہ سکتے ہیں کہ اس کرہ ارض پر اگر کوئی حکومت ہے جس سے خدا و  رسول راضی ہو تو وہ ایران کی حکومت ہو سکتی ہے۔انبیاء کی تعلیمات کے نتائج اور اثرات ہیں کہ لوگوں کے دلوں پر ایسا اثر کرتے ہیں کہ دنیا کی سب چیزوں کو کچھ بھی نہیں سمجھتے۔جمع آوری: سید جون زیدی کویت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲