علامہ شیخ حسن شحاتہ کون تھے؟/ دلچسپ انٹرویو/ مظلومانہ شہادت+تصاویر+18

علامہ شیخ حسن شحاتہ کون تھے؟/ دلچسپ انٹرویو/ مظلومانہ شہادت+تصاویر+18

میں نے خواب میں دیکھا کہ پیغمبر اسلام (ص) ایک پہاڑ کی بلندی پر تشریف فرما ہیں کہ اتنے میں امیر المومنین(ع) بھی پہنچ جاتے ہیں اور آپس میں باتیں کرنے لگتے ہیں جبکہ میں بھی ان کی باتوں کو سن رہا اور سمجھ رہا ہوتا ہوں۔ اس کے بعد پیغمبر اسلام(ص) علی علیہ السلام کو کسی کام کے لیے بھیجتے ہیں اور اپنے بائیں ہاتھ سے میری طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ میں بھی ان کے ساتھ جاوں۔ میں علی علیہ السلام کے پیچھے چل پڑتا ہوں۔ علی علیہ السلام آگے آگے اور میں ان کے پیچھے پہاڑ سے نیچے اترنا شروع ہوتے ہیں۔ جہاں میں گرنے لگتا ہوں آپ اپنے ہاتھ کے اشارے سے مجھے گرنے سے بچا لیتے ہیں۔

شیخ حسن شحاتہ کی شخصیتعلامہ شیخ حسن شحاتہ شیعہ ہونے سے پہلے اہلسنت و الجماعت کے بزرگ عالم دین تھے، الازھر یونیورسٹی کے معروف استاد اور قاہرہ کی ایک بڑی مسجد کے امام جماعت تھے، آپ نے اہلبیت علیہم السلام خاص طور پر امیر المومنین علی علیہ السلام سے عشق و محبت کی بنا پر شیعہ مذہب اختیار کر لیا تھا۔  سالہا سال ہزاروں لوگوں نے قاہرہ میں صہیونی سفارت خانہ کے مقابلے میں واقع مسجد میں شیخ حسن شحاتہ کی اقتدا میں نمازیں پڑھیں اور نماز جمعہ کے خطبوں اور تقریروں سے مستفیذ ہوئے۔ شیخ ہمیشہ انہیں راہ حق اور ولایت اہلبیت علیہم السلام کی طرف دعوت دیتےرہے، ظالموں، منافقوں اور گمراہ فرقوں سے دوری اختیار کرنے کی تاکید کرتے رہے اور صہیونیت کو ان کے سفارت خانہ کے سامنے ذلیل و رسوا کرتے رہے یہی وجہ تھی مصر کے سیکیورٹی دستے ان مقامات پر سخت سیکیورٹی نافذ کرتی تھے جہاں آپ تقریر کر رہے ہوتے تھے۔علامہ شیخ حسن شحاتہ نہ صرف الازھر کے علماء میں سے شمار ہوتے تھے بلکہ اس یونیورسٹی کے بہت سارے اساتذہ جیسے شیخ طنطاوی آپ کی شاگردی میں رہ چکے ہیں۔ شیخ طنطاوی آپ کے شاگردی کے بعد آپ کے قریبی دوستوں میں سے ہو گئے تھے اور آپ کو بخوبی جانتے تھے اور آپ کی امیر المومنین علی علیہ السلام سے خاص ارادت کی گواہی دیتے ہیں۔ اگر چہ اس زمانے میں شیخ حسن شحاتہ شیعہ نہیں تھے بلکہ اہلبیت علیہم السلام کے محب اور اہلسنت کے پیروکار تھے۔ اس کے باوجود اپنے اساتذہ اور شاگردوں سے ہمیشہ یہ کہا کرتے تھے: ’’جو کچھ تمہارا دل چاہتا ہے کہو لیکن یاد رکھو پیغمبر اکرم(ص)، امیر المومنین علی، فاطمہ زہرا اور حسنین علیہم السلام ایک شجرہ ہیں کہ جس کی شاخیں اور پھل بھی ایک ہیں‘‘۔

شیخ حسن شحاتہ کے لیے شیعہ ہونا آسان کام نہیں تھا اتنی بڑی یونیورسٹی کا استاد اور اتنی بڑی شخصیت بہت آسانی سے اپنا مذہب نہیں بدل سکتی ہے۔ شیخ شحاتہ ۵۰ سال تک اس مشکل اور کشمکش میں گرفتار رہے یہاں تک کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آل و سلم کو خواب میں دیکھا کہ آپ(ص) انہیں امیر المومنین (ع) کی پیروی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہ سچا خواب دیکھنا تھا کہ شیخ شحاتہ نے کھلے عام اپنے باطنی عقیدہ کا اعلان کر دیا جس نے مصر میں ایک بم دھماکے سے بھی زیادہ زوردار دھماکہ کر دیا اور نہ صرف شیخ خود مذہب تشیع کے پیروکار ہوئے بلکہ ہزاروں مصریوں کو اپنے ساتھ قافلے میں لے کر صراط مستقیم پرآ گئے۔ مصر کے بعض پاکدل اور محبت اہلبیت (ع) رکھنے والے افراد کے لیے ہدایت کی ایک چنگاری ہی کافی تھی کہ وہ راہ ہدایت کو پا لیں جبکہ شیخ حسن شحاتہ تو ایک شمع بن کر روشن ہوئے تھے۔ علامہ شیخ شحاتہ کی تبلیغی تقریریں اور خطبے عاشقان اہلبیت (ع) کا ورد زبان جبکہ وہابیت اور دشمنان اہلبیت(ع) کے قدموں کو مصر سے اکھاڑنے کا بہت بڑا ذریعہ بن گئے۔ اسی وجہ سے تکفیری فرقے نے مصر میں شیعت کے خلاف کھلے عام تبلیغ اور شیخ شحاتہ کے ساتھ جنگ شروع کر دی۔ دین حق کی تبلیغ میں آپ کی شجاعت اس بات کا باعث بنی کہ حسنی مبارک کے دور میں سلفی عہدہ داروں کی شکایت پر ۱۹۹۶ میں آپ کو ’’ ولایت امیر المومنین (ع)کی ترویج ‘‘ کے جرم میں گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا گیا اور اس کے ساتھ ساتھ ممنوع الخروج کر دیا گیا۔صحیح ہے کہ شیخ شحاتہ کے لیے اعلانِ دینِ حق بہت مہنگا ثابت ہوا، الازھر سے نکال دیا گیا، امام جماعت کے عہدہ سے معزول کر دیا گیا، جیل میں کئ دن کاٹنے پڑے، ملک سے باہر جانا ممنوع ہو گیا لیکن مصریوں کے دلوں میں شیخ شحاتہ کی محبت مضبوط جڑیں پکڑ گئی۔ اب مصری انہیں امام جماعت کی حیثیت سے نہیں، الازھر کے استاد کی حیثیت سے نہیں بلکہ امامِ شیعیانِ مصر کی حیثیت سے جانتے تھے۔ انہیں باطل کے مقابلے میں حق کا علمبردار سمجھتے تھے۔ جیل سے رہا ہونے کے بعد میڈیا سے کسی قسم کی گفتگو اور انٹرویو دینے پر پابندی عائد ہو گئی۔ اس کے باوجود میڈیا پہلے سے زیادہ ان سے انٹرویو لینے کا مشتاق ہو گیا۔ حتی مصر کے سرکاری ٹیلیویژن نے سب پر سبقت اختیار کی اور آپ کا انٹرویو لے کر فخر محسوس کیا۔ممنوعیت کے باوجود آپ کے ٹیلیویژن کے پروگرام پہلے سے زیادہ شہرت اختیار کر گئے۔ رہائی کے بعد سب سے پہلا انٹرویو اس ملک کے سرکاری ٹی وی چینل نے آپ کی زندگی ، شیعہ ہونے اور اہلبیت علیہم السلام کی نسبت عقائد کے سلسلے میں ایام محرم میں نشر کیا۔تفصیلی انٹرویوشہید علامہ شیخ حسن شحاتہ کے ساتھ ایک تفصیلی گفتگو جسے رسالہ’’ المنبر‘‘ نے نشر کیا ہے:۔ برائے مہربانی اپنے اور اپنی گزشتہ زندگی کے بارے میں بتائیے۔بسم اللہ الرحمن الرحیمخداوند عالم، پیغمراکرم(ص) اور ائمہ طاہرین علیہم السلام کے لطف و کرم سے سختیوں اور پریشانیوں کے پچاس سال گزارنے کے بعد اب کشتی نجات پر سوار ہوا ہوں اور خدا کی مہربانی سے ولایت امیر المومین علی بن ابی طالب علیہ السلام کے سامنے تسلیم ہو گیا ہوں کہ جو میرے لیے سب سے زیادہ اہم چیز اور قابل فخر ہے۔میں حسن بن محمد بن شحاتہ بن موسی العنانی ہوں۔ ۱۹۶۵ عیسوی میں مصر کے صوبہ ’’الشرقیہ‘‘ کے گاوں ’’ہربیط‘‘ میں پیدا ہوا۔ میرے والد نے شکم مادر سے ہی مجھے قرآن کی تعلیم دینا شروع کر دیا تھا یعنی میری والدہ کو قرآن کی تلاوت کرنے کی تلقین کرتے تھے جس سے مجھ پر قرآن کا کافی اثر ہوا۔ دو سال کی عمر میں مجھے مکتب میں بھیجا اور شیخ عبد اللہ العویل کے پاس میں نے قرآن کی تعلیم حاصل کی۔ پانچ سال کی عمر میں میرے والد نے قرآن کریم پر جو حاشیہ نگاری کر رکھی تھی میں اسے پڑھ سکتا تھا۔

پانچ سال کے بعد ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے لیے ’’شیخ محمد موسی شنب‘‘ اور ’’شیخ عبد الحلیم عبد النبی اسماعیل‘‘ کے پاس گیا۔ ان دو اساتید بزرگوار کے پاس مقدماتی تعلیم حاصل کرنے کے بعد الازھر میں داخلہ لیا۔ ۱۵ سال کا نہیں ہوا تھا کہ میری تالیف ’’ احیاء علوم الدین‘‘ منظر عام پر آ گئی۔ مختلف تالیفات کے علاوہ ایک شعری مجموعہ ’’ سراج الامۃ فی خصائص السادۃ الائمہ‘‘ بھی منظر عام پر آ چکا ہے۔میں نے دینی تبلیغ کا سلسلہ بہت جلدی شروع کر لیا تھا اس لیے کہ میرے والد ہمیشہ ہمارے سامنے اہلبیت (ع) سے عشق و محبت کی باتیں کرتے تھے انہوں نے امیر المومنین علی علیہ السلام کی شخصیت بہت اچھے انداز میں ہمیں پہچنوائی تھی۔ وہ کہتے تھے: ’’بیٹا امیر المومنین علی (ع) پیغمبر اسلام کے سب سے بڑے حامی اور ناصر تھے جب علی پیغمبر کے ساتھ ہوتے تھے تو کوئی انہیں اذیت کرنے کی جرات نہیں کر پاتا تھا‘‘۔سب سے پہلی مرتبہ میں نماز جمعہ کا خطبہ دینے کے لیے اس وقت منبر پر گیا جب ابھی ۱۵ سال کا نہیں ہوا تھا۔ پانچ سال میں نے اپنے گاوں ’’ الاشراف‘‘ میں نماز جمعہ پڑھائی۔ اس کے بعد امام جماعت کے عنوان سے ایک اور گاوں میں گیا۔ دو سال وہاں نماز جمعہ پڑھائی اور اہلبیت (ع) کے دشمنوں اور وہابیوں کا سختی سے مقابلہ کیا۔

اس کے بعد ۱۹۷۸ میں ملک کے ایک فوجی کیمپ میں ان کی معنوی ہدایت اور رہنمائی کرنے اور انہیں نماز وغیرہ پڑھانے کے عنوان سے میری ڈیوٹی لگی۔ اس دوران میں نے ایک قصیدہ لکھا جس کا عنوان تھا’’ الدرۃ البھیۃ فی مدح العترۃ النورانیۃ‘‘۔ اور ’’ فاتحۃ الکتاب‘‘ کے عنوان سے ایک تحقیقی مقالہ لکھا۔ اور اپنے اس تبلیغی دور میں کچھ عیسائی بھائیوں کو مسلمان کرنے پر کامیاب بھی ہوا۔۔اپنی زندگی کے اہم ترین مراحل کو خلاصہ کے طور پر بیان کر سکتے ہیں۔۱: ایک ماہ رمضان میں صہیونیت کے خلاف جہاد میں شرکت۔۲: صوبہ الشرقیہ کے گاوں الدورامون میں جو اخوان المسلمین اور وہابیت کا گڑھ ہے وہاں پر جوانوں کے درمیان کلاسیں منعقد کر کے ۹۰ جوانوں کو شیعہ بنانے میں کامیابی۔۳: قاہرہ کا دور جو ۱۹۸۴ سے ۱۹۹۶ تک کو تشکیل دیتا ہے جس میں میں نے ’’کوبریٰ‘‘ کے علاقے میں امام جمعہ کے عنوان سے تبلیغ کی۔ یہاں تک کہ سابقہ ڈکٹیٹر حکومت کے سپاہیوں کے ہاتھوں گرفتار ہو گیا۔ اس دور میں نماز جمعہ کے علاوہ ریڈیو قرآن اور  پبلیک ریڈیو سے پروگرام دیتا تھا، قاہرہ میں سمینار اور دیگر کانفرنسوں میں شرکت کرتا تھا۔ اس کے علاوہ ہر ہفتہ ’’ اسماء اللہ الحسنی‘‘ کے عنوان سے ٹی وی پر ایک پروگرام پیش کرتا تھا۔امیر المومنین(ع) اور ائمہ اطہار(ع) کی نسبت اپنی وفاداری کا اعلان کب کیا؟اس وقت جب میرا سینہ صبر سے لبریز ہو گیا۔ مشکلات نے مجھے گیر لیا تو میں نے امیر المومنین علی علیہ السلام کی ولایت کا اقرار اور دشمنان اہلبیت(ع) سے برائت کا اعلان تمام منبروں، ٹی وی کے پروگراموں اور مطبوعات میں کرنا شروع کر دیا۔ اسی وجہ سے ربیع الثانی، ۱۴۱۶ھ مطابق ۱۹۹۶ ء کو گرفتار ہو گیا۔ مجھ پر صرف یہ الزام تھا کہ میں نے ولایت امیر المومنین علی علیہ السلام کا اعلان کیا ہے۔

۔مہربانی کر کے اس سلسلے میں مزید وضاحت کیجیے۔میں بچپنے سے عشق اہلبیت(ع) میں پروان چڑھا ہوں لیکن ایک لمبے عرصے کے بعد حق اور حقیقت میرے لیے آشکار ہوئی۔ تقریبا ۱۹۹۴ میں نے ایک سچا خواب دیکھا۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ پیغمبر اسلام (ص) ایک پہاڑ کی بلندی پر تشریف فرما ہیں کہ اتنے میں امیر المومنین(ع) بھی پہنچ جاتے ہیں اور آپس میں باتیں کرنے لگتے ہیں جبکہ میں بھی ان کی باتوں کو سن رہا اور سمجھ رہا ہوتا ہوں۔ اس کے بعد پیغمبر اسلام(ص) علی علیہ السلام کو کسی کام کے لیے بھیجتے ہیں اور اپنے بائیں ہاتھ سے میری طرف بھی اشارہ کرتے ہیں کہ میں بھی ان کے ساتھ جاوں۔ میں علی علیہ السلام کے پیچھے چل پڑتا ہوں۔ علی علیہ السلام آگے آگے اور میں ان کے پیچھے پہاڑ سے نیچے اترنا شروع ہوتے ہیں۔ جہاں میں گرنے لگتا ہوں آپ اپنے ہاتھ کے اشارے سے مجھے گرنے سے بچا لیتے ہیں۔ خواب سے اٹھنے کے بعد میں سمجھ گیا کہ میں نے حقیقت کو پا لیا ہے اور امیر المومنین (ع) کے پیچھے چل کر میری تمام مشکلات آسان ہو گئی ہیں۔ میں نے اس خواب کے بعد ولایت امیر المومنین (ع) کا کھلے عام اعلان کر دیا اور دشمنان اہلبیت(ع) کو ہر جگہ رسوا کرنا شروع  کر دیا۔ اگرچہ اظہارحق نے میرے سامنے دنیوی اعتبار سے مشکلات کا پہاڑ کھڑا کر دیا تھا لیکن میری معنوی مشکلات دور ہو گئیں تھیں۔ ۔اس کے بعد آپ کو گرفتار کر لیا گیا؟جی تین مہینے میں جیل میں رہا اس کے بعد رہا ہو گیا۔۔کیا یہ صحیح ہے کہ آپ نے شہادت امام حسین علیہ السلام کے سلسلے میں مجالس برپا کر کے گویا ڈکٹیٹر حکومت کے خلاف انقلاب لانے کی تلاش و کوشش کی؟بنی امیہ نے خدا ان پر لعنت کرے روز عاشور کو اس ملک میں عید منانے کی رسم ر