وہ مسجد جو امام زمانہ (ع) کے حکم سے تعمیر کی گئی+تصاویر

وہ مسجد جو امام زمانہ (ع) کے حکم سے تعمیر کی گئی+تصاویر

امام زمانہ(ع) کا حسن بن مثلہ سے خطاب: لوگوں سے کہو کہ اس مسجد کی طرف توجہ کریں، اسے عزیز رکھیں اور چار رکعت نماز اس مسجد میں پڑھیں۔ دو رکعت نماز، تحیت مسجد کے عنوان سے بجا لائیں جس کی ہر رکعت میں ایک بار سورہ حمد اور سات دفعہ سورہ توحید پڑھیں اور رکوع و سجود کے اذکار کو بھی سات سات مرتبہ پڑھیں۔

مسجد مقدس جمکرانامام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف سے راز و نیاز کرنے والوں کے لیے بہترین جگہ مسجد مقدس جمکران ہے جو ایران کے مقدس شہر قم  میں واقع ہے۔ ہر سال ڈیڑھ کروڑ سے زیادہ زائرین اور عاشقان امام زمانہ علیہ السلام اسلامی جمہوریہ ایران اور دنیا کے کونے کونے سے اس مسجد کی معنوی اور روحانی فضا سے معطر ہونے اور اپنے معشوق سے راز و نیاز کرنے کے لیے یہاں تشریف لاتے ہیں اور اس مسجد میں نماز امام زمانہ علیہ السلام ادا کر کے آپ سے متوسل ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو خدا کے نزدیک کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس مقدس مسجد میں امام علیہ السلام کے چاہنے والے آپ سے راز و نیاز کرتے ہیں استغاثہ کرتے ہیں اور اپنی معنوی اور مادی مشکلات کا حل چاہتے ہیں، زمانہ غیبت کے طولانی ہونے پر گریہ و زاری کرتے ہیں۔ اوراہل معرفت اپنی ذاتی حاجتوں کو بھول کر اپنے امام علیہ السلام کے جلد از جلد ظہور ہونے کی دعا کرتے ہیں۔ اس لیے کہ اگریہ حاجت پوری ہو جائے تو پھر کوئی دوسری حاجت باقی نہیں رہے گی لیکن اگر یہ حاجت پوری نہ ہوئی تو کسی دوسری حاجت کا پورا ہونا معنی نہیں رکھتا۔

 مسجد جمکران کا تاریخچہیہ مسلمہ حقیقت ہے کہ یہ مسجد ایک ہزار سال پہلے امام زمانہ علیہ السلام کے حکم سے تعمیر کی گئی اور تب سے اب تک ہر دور میں آپ کے چاہنے والوں کے لیے پناہگاہ رہی ہے۔علامہ میرزا حسین نوری [ متوفی ۱۳۲۰ھ] اپنی کتاب نجم الثاقب کہ جس پر میرزا شیرازی نے تقریظ لکھ کر اسے سراہا ہے، میں رقمطراز ہیں :شیخ فاضل، حسن بن محمد بن حسن قمی، شیخ صدوق کے ہم عصر، کتاب تاریخ قم میں شیخ صدوق کی تالیف " مونس الحزین فی معرفۃ الحق و الیقین" سے مسجد جمکران کی تعمیر کا واقعہ اس طرح نقل کرتے ہیں:شیخ عفیف صالح حسن بن مثلہ جمکرانی کہتے ہیں:شب سہ شنبہ ( منگل کی رات) ۱۷ ماہ رمضان سن ۳۹۳ ھجری قمری کو میں اپنے غریب خانہ میں سو رہا تھا کہ اتنے میں چند لوگ میرے سرہانے آکر کھڑے ہوئے اور مجھے جگایا۔ آدھی رات گذر چکی تھی۔ انہوں نے مجھے کہا: "اٹھو امام مہدی عجل اللہ تعالی نے آپ کو طلب کیا ہے"۔حسن بن مثلہ کا کہنا ہے: "میں اٹھا اور تیار ہوا۔ جب گھر کے دروازے پر پہنچا تو ان لوگوں کو وہاں کھڑے دیکھا۔ میں نے سلام کیا، انہوں نے جواب دیا اور خوش آمدید کہی۔ اس کے بعد مجھے اس جگہ لے گئے جہاں اس وقت مسجد ہے"۔وہاں پہنچ کر دیکھا کہ ایک تخت لگا ہوا ہے اور اس پر خوبصورت فرش بچھا ہے۔ تخت کے اوپر ایک تیس سالہ جوان تکیہ لگائے تشریف فرما ہے اور ایک سن رسیدہ آدمی پاس بیٹھا ایک کتاب کی تلاوت کر رہا ہے۔ساٹھ افراد سے زیادہ لوگ سفید اور سبز لباس زیب تن کئے ہوئے آپ کے سامنے زمین پر نماز ادا کر رہے ہیں۔اس سن رسیدہ آدمی  نے جو در حقیقت حضرت خضر علیہ السلام تھے مجھے بیٹھنے کو کہا اوراس جوان و خوبصورت آدمی نے جو در حقیقت امام علیہ السلام تھے مجھےمیرے نام سے پکارا اور فرمایا: جاو حسن بن مسلم سے کہو:" تم چند سالوں سے اس زمین پر عمارت تعمیر کر رہے ہو اورہم  اسے گرا دیتے رہے ہیں پھر پانچ سال سے کھیتی باڑی کرتے ہو اور اس سال دوبارہ عمارت بنانا شروع کر دیا ہے۔ اب اس زمین میں کھیتی باڑی کرنے یا کوئی دوسری چیز تعمیر کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ جتنا اس زمین سے فائدہ اٹھایا ہے اسے واپس لوٹا دو تا کہ یہاں مسجد تعمیر کی جائے"۔حسن بن مسلم سے کہو: یہ شریف اور پاکیزہ جگہ ہے خداوند عالم نے اس جگہ کو دوسری جگہوں پر فضیلت دی ہے اور اسے اپنی عبادت کے لیے منتخب کیا ہے اور تم نے اسے اپنی زمینوں کے ساتھ ملحق کر لیا۔ خدا نے تم سے دو بیٹوں کو لے لیا لیکن تم متوجہ نہیں ہوئے اگر اب بھی اس کام سے باز نہ آئے تو خدا کا ایسا عذاب نازل ہو گا جس کا تم تصور بھی نہیں کر سکتے"۔حسن بن مثلہ نے عرض کیا: " اے میرے سید و سردار! مجھے کوئی نشانی دیجئے بغیر نشانی کے لوگ میری بات  کو قبول نہیں کریں گے"۔امام علیہ السلام نے فرمایا: " تم جاو اپنا فریضہ انجام دو ہم یہاں پر نشانی لگا دیں گے جو تمہاری بات کی تصدیق کرے گی۔ اور سید ابوالحسن کے پاس بھی جاو اور ان سے کہو اٹھیں اور اس آدمی کو لے کر آئیں اس سے چند سالوں کی منفعت لیں اور یہاں پر مسجد کی تعمیرکا کام شروع کروائیں۔بقیہ خرچہ اردہال میں ہماری ایک ملکیت ہے اس کی آدھی منفعت کو ہم نے اس مسجد کے لیے وقف کیا ہے وہاں سے لے کر آئیں اور مسجد کی تعمیر کو مکمل کریں۔لوگوں سے کہو کہ اس مسجد کی طرف توجہ کریں، اسے عزیز رکھیں اور چار رکعت نماز اس مسجد میں پڑھیں۔ دو رکعت نماز، تحیت مسجد کے عنوان سے بجا لائیں جس کی ہر رکعت میں ایک بار سورہ حمد اور سات دفعہ سورہ توحید پڑھیں اور رکوع و سجود کے اذکار کو بھی سات سات مرتبہ پڑھیں۔اور دو رکعت نمازِ صاحب الزمان بجا لائیں جس کی ہر رکعت میں سورہ حمد کی تلاوت کے دوران جب آیت " ایاک نعبد و ایاک نستعین " پر پہنچیں تو اس آیت کو سو مرتبہ تکرار کریں۔ اس کے بعد سورہ فاتحہ کو تمام کریں پھر سورہ توحید ایک مرتبہ پڑھیں۔ اور رکوع اور سجود کے اذکار کو سات سات مرتبہ پڑھیں۔ جب نماز تمام ہو جائے تو لا الہ الا اللہ  پڑھ کر تسبیح فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا پڑھیں اور اس کے بعد سر کو سجدہ میں رکھ کر سو مرتبہ محمد اور آل محمد(ص) پر صلوات بھیجیں"۔اور یہ کلمات امام علیہ السلام کی زبانی ہیں کہ فرمایا: «فَمَنْ صلاّهما، فكأنّما صلّي‌في‌البيت‌العتيق‌».جس نے یہ دو رکعت نماز پڑھی گویا اس نے خانہ کعبہ میں نماز پڑھی۔حسن بن مثلہ کہتے ہیں: میں نے دل میں اپنے آپ سے کہا تم اس کو ایک معمولی جگہ سمجھتے رہے ہو یہاں تو مسجد امام زمانہ (ع)  ہے۔"   اس کے بعد امام علیہ السلام نے اشارہ کیا کہ جاو۔ابھی چند قدم آگے بڑھا تھا کہ امام نے دوبارہ آواز دی اور فرمایا: جعفر کاشانی کے بھیڑوں کے گلہ میں ایک گوسفند ہے اسے خریدو اگر لوگوں نے پیسے دئیے تو ٹھیک نہیں تو اپنے پیسوں سے اسے خریدو کل رات اس بکرے کو یہاں پر ذبح کرو اس کے گوشت کو بیماروں اور لا علاج مریضوں میں تقسیم کر دو خداوند عالم سب کو شفا دے گا۔سفید رنگ کی یہ گوسفند ہے سات سفید اور سیاہ نشان اس کے بدن کے دونوں طرف ہیں جو ہر ایک، ایک درہم کی علامت ہے۔"تھوڑا اور آگے بڑھا پھر آواز دی: "سات دنوں یا ستر دنوں میں ایک بار ہم یہاں آتے ہیں"حسن بن مثلہ کہتے ہیں: میں گھر گیا اور صبح تک سوچ بچار میں مشغول رہا۔ نماز صبح پڑھتے ہی "علی منذر" کے پاس گیا ان کو پورا واقعہ سنایا۔ اور ان کے ہمراہ اس مقام پر گیاجہاں رات مجھے بلایا گیا تھا، دیکھا کہ امام علیہ السلام نے وہاں نشانیاں لگا رکھی ہیں۔ اس مسجد کی حدود اربعہ کو میخوں اور زنجیروں سے مشخص کر رکھا ہے۔    اس کے بعد ہم سید ابو الحسن الرضا( اس زمانے کے عالم دین) کے پاس گئے۔ جب ان کے دولت خانہ کے دروازہ پر پہنچے تو ان کے خادم نے کہا: آپ جمکران سے آئے ہیں؟ ہم نے کہا: ہاں۔ کہا: آدھی رات سے سید ابوالحسن آپ کی انتظار میں ہیں۔ہم گھر میں داخل ہوئے سلام کیا۔ انہوں نے سلام کا جواب دینے کےبعد نہایت احترام کے ساتھ ہمیں بٹھایا اور اس سے پہلے کہ ہم گفتگو کا آغاز کریں سید نے کہا: اے حسن بن مثلہ! میں سو رہا تھا کہ ایک شخص نے خواب میں مجھ سے کہا:ایک شخص صبح ہوتے ہی جمکران سے تمہاری طرف آئے گا جو وہ کہے اس کی بات پر اعتماد کرنا اور اس  کی تصدیق کرنا۔ اس کی بات ہماری بات ہے۔ خواب سے اٹھنے کے بعد اب تک آپ کا انتظار کر رہا ہوں۔حسن بن مثلہ نے تفصیل سے پورا قصہ سے بیان کیا۔ سید ابوالحسن نے خادم کو حکم دیا کہ گھوڑوں پر زین لگائی جائے۔ اس کے بعد ہم گھوڑوں پر سوار ہوئے اور جمکران کی طرف چل پڑے۔جمکران کے قریب پہنچتے ہی جعفر کاشانی کو دیکھا کہ جو بھیڑوں کا گلہ چراگاہ میں لے کر آیا ہوا تھا۔ حسن بن مثلہ کہتے ہیں: میں گلہ کی طرف بڑھا اور اس گوسفند کو تلاش کیا جس کی نشانیاں امام علیہ السلام نے بیان کی تھیں۔ میں نے گوسفند کو لیا اور اس کی قیمت ادا کرنا چاہی۔ جعفر نے کہا آج تک میں نے اس گوسفند کو اپنے گلہ میں نہیں دیکھا یہ میری نہیں ہے صرف آج میں نے اسے اپنی بھیڑوں کے درمیان دیکھا اور اس کو پکڑنے کی کوشش کی لیکن نہیں پکڑ پایا۔میں نے اس گوسفند کو لیا اور اس معین شدہ جگہ پر لاکر اسے ذبح کیا۔سید ابوالحسن اس جگہ پر آئے۔ حسن بن مسلم کو بلایا اور اس سے زمین کی تمام منفعت وصول کی۔اس کے بعد اردہال سے بقیہ رقوم کو وہاں کے رہنے والوں سے لیا اور مسجد کی تعمیر کا کام شروع کیا۔ اور مسجد پر لکڑیوں کی چھت ڈال کر اس کی تعمیر مکمل کی۔سید ابو الحسن نے اس جگہ پر گڑھی ہوئی میخوں اور رسیوں کو قم لا کر اپنے گھر رکھ دیا اور جو لا علاج مریض اپنے آپ کو ان رسیوں سے مس کرتا تھا شفا پا لیتا تھا۔جب سید ابو الحسن فوت ہو گئے اور محلہ موسویان [ موجودہ نام آذر] میں مدفون انہیں دفن کر دیا گیا تو اس کے بعد ایک دن ان کا ایک بیٹا بیمار ہوا اور اس کمرے میں جہاں وہ رسیاں اور میخیں رکھی ہوئی تھیں ان سے اپنے آپ کو مس کرنے کے لیے گیا دیکھا کہ صندوق خالی ہے رسیاں اور میخیں وہاں موجود نہیں ہیں۔

مذکورہ روایت کے منابعمسجد جمکران جو امام زمانہ علیہ السلام کے حکم نے تعمیر ہوئی اس روایت کے ناقلین درج ذیل افراد ہیں:۱: سب سے پہلے راوی جنہوں نے اس روایت کو اپنی کتاب میں نقل کیا ہے ابو جعفر بن علی بن بابویہ المعروف شیخ صدوق [ متوفی ۳۸۱ ھ ] ہیں انہوں نے تفصیل سے اس روایت کو کتاب ’’مونس الحزین فی معرفۃ الحق و الیقین‘‘ میں بیان کیا ہے۔واضح رہے کہ مسجد جمکران شیخ صدوق کے زمانے میں تعمیر ہوئی اور آپ قم میں رہتے تھے یقینا آپ نے اس کی تمام جزئیات کو بلا واسطہ حسن بن مثلہ اور سید ابو الحسن سے سنا ہو گا اور اسے اپنی کتاب میں نقل کیا ہو گا۔۲: حسن بن محمد بن حسن قمی، شیخ صدوق کے ہم عصر راوی، صاحب کتاب" تاریخ قم" نے اس واقعہ کی تفصیلات کو شیخ صدوق کی کتاب سے نقل کیا ہے۔کتاب ’’تاریخ قم‘‘ شیخ صدوق کے زمانے میں سن ۳۷۸ ھ میں تحریر ہوئی ہے۔۳:حسن بن علی بن حسن بن عبد الملک قمی نے ، سن ۸۶۵ ھ میں  کتاب تاریخ قم کو فارسی میں ترجمہ کیا۔۴: عربی کتاب کا متن محمد باقر مجلسی [ متوفی ۱۱۱۰ ھ ] کے ہاتھ نہیں لگ سکا لیکن فارسی ترجمہ آپ کے پاس موجود تھا اور آپ نے قم سے مربوط احادیث کو جلد " السماء  والعالم" میں جمع کر کے اس واقعہ کو نقل کیا ہے۔۵:سید نعمت اللہ جزائری صاحب انوار نعمانیہ [متوفی ۱۱۱۲ھ] نے اس ترجمہ کو ملاحظہ کیا اور مسجد جمکران کے تاریخچہ کو اس سے نقل کیا ہے۔ان افراد کے بعد دیگر بہت سارے علماء اور مورخین نے اس واقعہ کو اپنی کتابوں میں نقل کیا ہے۔ لیکن اصلی منبع شیخ صدوق کی کتاب ’’مونس الحزین فی معرفۃ الحق و الیقین‘‘ ہی ہے۔