نو منتخب صدر حسن روحانی کا مختصر تعارف

نو منتخب صدر حسن روحانی کا مختصر تعارف

حجۃ الاسلام و المسلمین حسن روحانی ایران کے گیارہویں صدارتی انتخابات میں 18,613,329/ 50.70 فیصد ووٹ حاصل کر کے ایران کے آئندہ چار سال کے لیے صدر منتخب ہو گئے ہیں۔

 ڈاکٹر حسن روحانی 13 نومبر1948  کو صوبہ سمنان کے شہر سرخہ کے ایک مذہبی گھرانے  میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے صوبہ سمنان کے دینی مدارس بورڈ کے تحت 1960 میں مذہبی تعلیم کا آغاز کیا اور  محض ایک سال کے بعد اعلی مذہبی تعلیم کے لئے مقدس شہر قم آگئے۔ 1969 میں انہوں نے تہران یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور تین سال کے بعد ایل ایل بی کی سند حاصل کی۔انہوں نے قانون میں اپنی تعلیم جاری رکھی اور گلاسگو کیلیڈونین یونیورسٹی سے ایل ایل ایم اور پی ایچ ڈی کیا۔ڈاکٹر حسن روحانی اس وقت سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل میں قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ کے نمائندے ہیں۔ وہ ایکسپیڈینسی کونسل اور ایکسپرٹ اسمبلی  کے رکن بھی ہیں۔ ڈاکٹر حسن روحانی ایکسپیڈینسی کونسل کے سینٹر فار اسٹریٹیجک ریسرچ کے ڈائریکٹر کے فرا‏ئض بھی انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے ایام جوانی میں شاہی حکومت کے خلاف جدوجہد میں حصہ لیکر اپنی سیاسی زندگی کا آغاز کیا۔بانی انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی امام خمینی رح جب 1979 میں اپنی جلاوطنی کے بعد ایران تشریف لائے تو حسن روحانی اس وقت یورپ میں سیاسی طور پر سرگرم کردار ادا کر رہے تھے۔ وہ یورپ میں مقیم ایران طلبہ کے ساتھ سوال و جواب کے پروگرام کیا کرتے تھے۔1979 میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد ڈاکٹر روحانی پارلیمنٹ کے رکن بنے، اور سن دوہزار تک مسلسل پانچ بار اسمبلی کے رکن منتخب ہوتے رہے۔ وہ پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر یا دفاعی اور خارجہ امور سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کے سربراہ جیسے اہم عہدوں پر رہے۔عراق کی جانب سے مسلط کردہ جنگ کے دوران وہ 1980 سے 1988 تک اعلی دفاعی کونسل کے رکن، ایئر ڈیفنس کمانڈر اور آرمڈ فورسز کے ڈپٹی کمانڈر انچیف رہے ہیں۔سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کی تشکیل کے بعد انہیں اس کونسل میں قائد انقلاب اسلامی نے اپنا نمائندہ مقرر کیا۔ وہ 16 سال تک یہ ذمہ داریاں نبھاتے رہے۔ ڈاکٹر حسن روحانی 1989 سے 1997 یعنی ہاشمی رفسجانی کے دور صدرات سے لیکر سید محمد خاتمی کے دور صدارتک سپریم نیشنل سیکورٹی کونسل کے سیکریٹری رہے۔وہ 1991 سے ایکسپیڈینسی کونسل کے رکن چلے آرہے ہیں۔ حسن روحانی روانی کے ساتھ انگریزی، عربی اور فارسی بولتے ہیں اور انہوں نے اب تک سو سے زائد کتابیں اور مقالے تحریر کئے جبکہ 700 سے زیادہ ریسرچ پیپرز میں حصہ لیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲