سیرتِ حضرتِ زہراء (س) کلام اقبال کی روشنی میں

سیرتِ حضرتِ زہراء (س) کلام اقبال کی روشنی میں

علامہ اقبال چاہتے ہیں کہ مخدراتِ ملت اس عظیم ہستی کا محض زبانی اکرام و احترام کی حد تک ہی خود کو محدود نہ رکھیں۔ بلکہ خاتونِ جنت کی اتباع و پیروی سے اس دنیا کو جنت کا نمونہ بنائیں اور ملت و انسانیت کی تقدیر سنوارنے کا اہم ترین کام بحسنِ خوبی انجام دیں۔ یہ اہم ترین کام جب ہی ہو گا جب مادرانِ ملت کی آغوش میں شبیر ع جیسے فرزند پروان چڑھیں گے۔

ابنا: علامہ اقبال چاہتے ہیں کہ مخدراتِ ملت اس عظیم ہستی کا محض زبانی اکرام و احترام کی حد تک ہی خود کو محدود نہ رکھیں۔ بلکہ خاتونِ جنت کی اتباع و پیروی سے اس دنیا کو جنت کا نمونہ بنائیں اور ملت و انسانیت کی تقدیر سنوارنے کا اہم ترین کام بحسنِ خوبی انجام دیں۔ یہ اہم ترین کام جب ہی ہو گا جب مادرانِ ملت کی آغوش میں شبیر ع جیسے فرزند پروان چڑھیں گے۔ اپنی دیدہ وری، ژرف نگاہی، جمال پسندی اور جلال طلبی کی بدولت علامہ اقبال خس و خاشاک کے ڈھیر میں بھی گوہرِ مراد ڈھونڈ نکالنے کا ہنر رکھتے ہیں۔ اسی ہنر کی بدولت انہوں نے اُن تاریخی کرداروں میں بھی مثبت اور قابلِ تقلید پہلوؤں کا انکشاف اپنی شاعری میں جابجا کیا ہے جو عموماً منفی پہلوؤں سے سرشار دکھائی دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ اقبال شر کے ماخذ و منبع یعنی ابلیس کے کردار میں بھی چند ایک ایسے گوشوں کے متلاشی ہیں جن میں شیطان کے ازلی دشمن یعنی اشرف المخلوقات انسان کے لئے چند ایک سبق آموز امور پائے جاتے ہوں۔ اخلاقاً اور اصولاً اس بات میں کوئی قباحت نہیں ہے کہ انسان، ابلیس جیسے اپنے بڑے دشمن کے کردار کو بھی جانچے پرکھے اور اگر اُسے زیر کرنے کیلئے کوئی کام کی چیز مل جائے تو لینے میں تامل نہ کرے۔

فرہاد اور مجنون جیسے افسانوی کرداروں کو بھی اقبال رہ نے اپنے مخصوص زاویۂ نگاہ سے دیکھا اور حقیقی زندگی کیلئے سبق آموز اور مطلوبہ جذبے ان سے اخذ کئے۔ حصولِ مقصد کی راہ میں حائل ’’سنگِ راہ‘‘ کو ہٹانے کیلئے جذبۂ مجنون اور تیشۂ کوہ کن اقبال کی نظر میں اب بھی کارگر ہیں۔ الغرض جو اقبال رہ منفی اور افسانوی کرداروں سے بھی مثبت فکر اور جذبۂ حقیقی کشید کرنا جانتے ہیں وہ تاریخِ بشریت کی روشن اور مثالی شخصیات سے کیونکر چشم پوشی کر سکتے ہیں؟ باالفاظِ دیگر زہر میں بھی تریاق کے عناصر کو حاصل کرنے والے حکیم الامت کیلئے یہ وظیفہ نہایت ہی آسان ہے کہ وہ آبِ حیات کے منابع سے اپنی شاعری کے جام و سبو بھر دے اور موت کی نیند سونے والی انسانیت کو بلا کر پھر سے زندگی کا جوش و جذبہ بیدار کرے۔

اس سلسلے میں خوب سے خوبتر کی تلاش میں جب اقبال رہ نکلے تو وہ ایک ایسے گھرانے کی دہلیز پر پہنچے جسکے تمام مکین ہر لحاظ سے لامثال ہیں۔ اس گھرانے میں محمد الرسول اللہ ص جیسے باپ ہیں، علی ع جیسے شوہر اور حسنین ع جیسے فرزند ہیں۔ زینب ع جیسی بیٹی اور فاطمۃ الزہراع جیسی ماں ہیں۔ یہ پورا کا پورا گھرانا اقبال کی نظر میں مقدس و مطہر ہے۔ لہٰذا بار بار اس گھر کی چوکھٹ پر اپنی جبینِ نیاز جھکانے کو باعثِ افتخار سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہزاروں علماء، شعراء اور مفکرین نے اہلبیت ع کی مدح سرائی کی ہے لیکن اقبال رہ کو ان مدح سراحوں میں مخصوص امتیاز حاصل ہے۔ جب جب اقبال اہلبیت ع کی بارگاہِ فیض بخش میں حاضر ہوئے ہیں۔ اُن کا تخلیقی شعور اور عقیدت و احترام کا جذبہ عروج پر تھا۔ نتیجتاً مدحتِ اہلبیت ع کے حوالے سے اقبال کے یہاں مخصوص اندازِ بیان، پاکیزہ فکر، اور افراط و تفریط سے مبرا جذبۂ عشق پایا جاتا ہے۔ محمد و آلِ محمد ص کی توصیف و تعریف میں انہوں نے بخل سے کام لیا ہے نہ تعلی و مبالغہ سے، بلکہ انہوں نے قرآنی معیارات اور تاریخی حقائق کو ہمیشہ پیشِ نظر رکھا ہے۔ تعظیم و تکریم سے لبریز جذبات کے باوجود علامہ نے متوازن اصطلاحات اور شایانِ شان الفاظ کے ذریعے اپنی عقیدت کا اظہار کیا ہے۔ ثبوت کے طور ان اشعار کو بھی پیش کیا جاسکتا ہے جو ’’رموز بےخودی‘‘ میں علامہ اقبال نے جناب زہراء کے شان میں کہے ہیں۔ رموز بےخودی میں علامہ اقبال نے خواتینِ ملت کے لیے ایک بڑا حصہ وقف کیا ہے۔ تین ابواب تو مطلقاً نسوانیت کے تعلق سے فکر انگیز مباحث پر مبنی ہیں۔

ان میں سے پہلا باب ’’درمعنی ایں کی بقائے نوع از امومت است و حفظ و احترام امومتِ اسلام است‘‘ دوسرا باب ’’درمعنی ایںکہ سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراؑ اسوہ کاملہ ایست برائے نساءِ اسلام‘‘ تیسرا باب ’’خطاب بہ مخدراتِ اسلام‘‘ عنوان سے قائم کیا گیا ہے۔ ان تینوں ابواب کے مرتبط مطالعہ سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پہلا اور تیسرا باب اُس دوسرے باب کی جانب راجع ہیں جس میں جناب فاطمہ ع کے سیرت و کردار کے حوالے سے لطیف و عمیق نکتے بیان ہوئے ہیں۔ اس باب کے آغاز میں علامہ اقبال نے نہایت ہی ادب و احترام کے ساتھ جناب سیدہ ع سے اپنی عقیدت کی وجہ بیان کی ہے اور ساتھ ہی ساتھ انکی فضیلتِ نسبی اور شرفِ نسبتی کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ اس باب کے آسان تجزیہ و تحلیل کے لئے اس میں درج اشعار کو چند عنوانات کے تحت تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

فضیلتِ نسبی: ابتدائی اشعار میں علامہ اقبال رہ نے حضرت زہرا ع کے شرف و کرامت کا یہ پہلو بیان کیا ہے کہ آپ دخترِ رسول ص، مادرِ حسنین ع اور ہمسر خیبر کشا علی مرتضیٰ ہیں، جناب فاطمہ ع اس آخری رسول ص کی لختِ جگر اور نورچشم ہیں جو فخرِ موجودات اور رحمۃ للعالمین ہے۔ جسکی ذات کی بدولت پورے عالم میں جان باقی ہے ؂ مریم از یک نسبتِ عیسیٰ عزیز از سہ نسبت حضرت زہرا عزیز نورِ چشم رحمۃ العالمین ص آں امامِ اولین و آخریں آنکہ جاں در پیکر گیتی دمید روزگارِ تازہ آئین آفرید

جناب زہراؑ کے حسب و نسب کی پاکیزگی اور عظمت کیلئے اتنا کافی ہے کہ وہ رسولِ خدا کی چہیتی بیٹی ہیں۔ رسول اللہ ص کے ساتھ یہ نسبت محض قریبی رشتہ ہی تک محدود نہیں ہے بلکہ جناب سیدہ اپنے والدِ گرامی رسول خدا کے مشن میں ان کی بہترین معاون و مددگار ثابت ہوئیں۔ پدرانہ شفقت اپنی جگہ، رسول اللہ ص اپنی بیٹی کے تئیں جس عزت و تکریم اور انتہائی محبت و شفقت کا اظہار کیا کرتے تھے۔ اس کا بنیادی محرک حضرت فاطمہ کی عظیم شخصیت اور اسلام کے تئیں ان کی لامثال فداکاریاں تھیں۔ جناب فاطمہ ع نے کم سنی میں ہی اپنے عظیم المرتبت باپ کی اولوالعزمانہ شخصیت کو درک کیا تھا۔ آپ ع کارِ رسالت کی حساسیت اور سنگینی سے بخوبی واقف تھیں۔ فاطمہ ع جانتی تھیں کہ اس کے پدربزرگوار پروردگار عالم کی جانب سے مبعوث بہ رسالت ہیں۔ اس الہٰی مسؤلیت کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے کیلئے جو واحد راستہ آپ ص کے سامنے ہے۔ وہ کانٹوں سے بھرا پڑا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فاطمہ ع نے اپنے بچپن کی تمام معصومانہ مشاغل کو تج دیا اور اوائل عمری سے ہی اپنے گفتار و کردار کے ذریعے اپنی جلالت و بزرگی کا مظہر بن گئیں۔

آپ ع کا ہیولیٰ اور جسمانی پیکر طفلانہ خصائص سے مزّین تھا لیکن آپ کی معنویت کا یہ عالم تھا کہ طفلگی میں ہی رسول اللہ ص کے شانہ بشانہ تمام مصائب و آلام کا مقابلہ کیا۔ کفارِ قریش کی حشر سامانیوں کا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا۔ اپنے شفیق والد کے تئیں مخالفینِ اسلام کی ایذا رسانیوں پر انتہائی صبر کیا۔ شعبِ ابی طالب کے تلخ ترین تین سال گرسنگی و تشنگی کے عالم میں گزارے۔ مگر حرفِ اف تک اپنی زبانِ مبارک جاری نہ کیا۔ جب کبھی محمدِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھکے ماندے گھر لوٹ آتے تو حضرت فاطمہ علیہا السلام اپنے ننھے منھے ہاتھوں سے وہی کام انجام دیتیں جو کام مادرِ رسول ص جناب آمنہ ع کے ہاتھوں انجام پاتا اگر وہ ان ایام میں بقیدِ حیات ہوتیں۔

بارہا پیغمبر گرامی گرد آلود اور مجروح حالت میں جب گھر تشریف لے آتے تو انکی یہ کم سن بیٹی زخموں پر مرہم لگاتی گرد و غبار اور اس غلاظت کو صاف کرتی جو دشمنانِ پیغمبر ان پر وقتاً فوقتاً ڈال دیتے۔ اس پر مستزاد یہ کہ نہایت ہی کم سن بیٹی اپنے پدرِ بزرگوار کو معصومانہ لہجے میں کچھ یوں دلاسہ دیتی کہ جیسے فاطمہ ع کے روپ میں آمنہ ع متکلم ہو۔ بالفاظِ دیگر کارِ آمنہ بدست فاطمہؑ انجام پایا تو رسولِ خدا نے اپنی لختِ جگر فاطمہ کو ’’ام ابیھا‘‘ یعنی ’’اپنے باپ کی ماں‘‘ کے خطاب سے نوازا۔ اس کے علاوہ رسولِ رحمت ص کے پیش نظر وہ تمام قربانیاں بھی تھیں جو اسلام کی حفاظت کے لیے مستقبلِ قریب میں حضرت زہراء بالواسطہ یا بلاواسطہ دینے والی تھی۔ درج ذیل شعر کو اسلام کی ابتدائی تاریخ کے پسِ منظر میں سمجھنے کی کوشش کی جائے تو باپ بیٹی کے مقدس رشتہ کے پشت پر ایک معنوی تمسک کا بھی کسی حد تک ادراک ہو سکتا ہے۔ ؂ نورِ چشمِ رحمتاً اللعالمین آں امامِ اولین و آخرین

نسبت دوم، شیرِ خدا کی شریک حیات: بانوئے آں تاجدارِ ھَل اتیٰ مرتضیٰ مشکل کشا شیرِ خدا پادشاہ و کلبہ ایوانِ او یک حسام و یک زرہ سامانِ او شاہ ولایت ع اور خاتون جنت ع کی ازدواجی زندگی ہر جہت سے رسولِ کریم ص کے اس قول کی عملی تائید ہے کہ ’’اگر علی ع نہ ہوتے تو فاطمہ کا کوئی کفو نہ ہوتا‘‘۔ جس شان اور عنوان سے حضرت فاطمہ ع نے بحیثیتِ دخترِ رسول ص فقید المثال کردار پیش کیا اُسی شان سے انہوں نے اپنے شوہر حضرت علی ع کے ساتھ ایک مثالی زوجہ کا رول نبھایا۔ فکری ہم آہنگی، عملی یگانیت اور عادات و اطوار میں اس قدر یکسانیت تھی۔ کہ ظاہری شکل و شمائل اور صنفی اعتبار سے اگر ہر دو عظیم المرتبت شخصیات میں امتیاز نہ ہوتا تو علی ع فاطمہ کہلاتے اور فاطمہ ع پر علی ع کا گمان ہونا کوئی اچنبے کی بات نہ ہوتی۔ ان کی سوچ اور اپروچ ایک، ان کا محبوب و معشوق مشترکہ یہاں تک مقصدِ حیات و ممات بھی یکساں تھا۔ صرف اور صرف رضائے الہٰی کی خاطر زندگی گزاری اور شہادت پیش کی۔ اسی گوہرِ بےبہا کی حصولیابی کے لئے ایک نے درونِ خانہ جہاد زندگانی کے ہر محاذ پر اپنی صلابت و صلاحیت، عصمت و طہارت اور حسنِ تربیت کے جھنڈے گاڑھ دیئے، تو دوسرا بیرون خانہ کبھی میدان کارزار تو کبھی کشت زار میں خون پسینہ ایک کرنے میں مصروفِ عمل رہا۔

حیدرکرار دشمنان پیغمبر ص کے خون سے لت پت تلوار گھر لاتے تو جناب زہراء اس خون آلود ذوالفقار کو دھو کر پھر سے اس کی چمک دمک لوٹاتیں۔ حضرت امیر ع نے رسولِ دو جہاں ص کی اس لختِ جگر کی ہر خواہش کو استحسان کی نظر سے دیکھا تو جناب فاطمہ ع کے متعلق علامہ اقبالؒ کا یہ شعر سیرتِ فاطمہ کا آئینہ دار ہے۔

؂نوری و ہم آتشی فرمانبرش گم رضائش در رضائے شوہرش

عبادت و ریاضت کا یہ عالم تھا سیدۂ کونین شب و روز اس قدر عبادتِ الہٰی میں مشغول رہتیں کہ کہ والدِگرامی کی مانند آپکے پائے مبارک متوّرم ہو جاتے۔ دوسری جانب حضرت علی ع کے قیامِ لیل کا تذکرہ بھی بیشتر مورخوں نے کیا ہے۔ حتیٰ کہ پیر سے پیوسطہ تیر دورانِ نماز نکالا گیا اور امیرالمومنین ع کو پتہ ہی نہ چلا۔ معصومۂ عالم ع کی زندگی کا ایک حصہ فقرِمصطفوی کی آغوش میں گذرا اور دوسرا حصہّ فقرِ حیدری کے سائے میں کچھ اس طرح سے بسر ہوا کہ فقر بوترابی کے کاملتر تصّور میں حضرت زہرا کی رضاعت و قناعت بھی شامل ہو گئی۔حضرت علی ع اور حسنین ع سمیت صبر و رضاء کی یہ عظیم پیکر اکثر فاقوں پر ہی گزربسر کرتی تھیں۔ اس فقر و فاقہ کے باوجود حضرت زہراء نے اپنے شوہر نامدار سے زندگی بھر معمولی سی بھی شکایت نہیں کی۔ بلکہ اس عسرت و تنگدستی میں بھی مسکین و یتیم اور اسیر درِ فاطمہ سے سی