کیا آپ ام داود کے بارے میں کچھ جانتے ہیں؟

کیا آپ ام داود کے بارے میں کچھ جانتے ہیں؟

امام صادق علیہ السلام نے ام داود کو اس طرح سے یہ عمل بتایا۔ آپ نے فرمایا: تین دن یعنی تیرہ، چودہ اور پندرہ رجب کو روزہ رکھیں پندرہ رجب کو ظہر کے وقت غسل کریں اور نماز ظہر ادا کریں نماز ظہر کے بعد آٹھ رکعت عصر کے نافلہ بجا لائیں اور نوافل سے فارغ ہونے کے بعد یہ دعا پڑھیں جو میں آپ کو لکھ کر دیتا ہوں، دعا پڑھنے کے بعد سجدے میں جائیں اور کہیں: لَکَ سَجَدْتُ وَ بِکَ آمَنْتُ فَارْحَمْ ذُلِّي وَ فَاقَتِي وَ كَبْوَتِي لِوَجْهِي. پورے خلوص کے ساتھ دعا کریں تاکہ اشک آپ کی آنکھوں سے جاری ہو جائیں۔ چونکہ اشکوں کا جاری ہونا ہی اس دعا کی قبولیت کی شرط ہے‘‘۔

اہلبیت نیوز ایجنسی۔ ابنا۔ داود ایک باشعور اور دیندار جوان تھا۔ بنی عباس کے دوسرے خلیفہ منصور دوانیقی نے اسے حکومت مخالف نظریہ رکھنے کی وجہ سے جیل میں ڈال دیا۔ اور کوئی بھی اس کی رہائی کی امید نہیں رکھتا تھا۔ فاطمہ جو امام صادق علیہ السلام کی رضاعی ماں بھی تھی کا یہ اکلوتا بیٹا مدینہ سے دور ظالموں کی جیل میں بند تھا اور فاطمہ اپنے مرنے سے پہلے اپنے بیٹے کو دیکھنا چاہتی تھیں۔ فاطمہ کے دوسرے دو بیٹے پہلے ہی شہید ہو چکے تھے اور اب داود تنہا ان کی زندگی کا سہارا تھا۔ جب کافی عرصہ گزر گیا داود جیل سے رہا نہیں ہوئے تو فاطمہ نے اپنی توان کے مطابق مدینہ کے بڑے بڑوں کا دروازہ کھٹکھٹایا کہ کوئی تو اس کی آزادی کا وسیلہ بنے لیکن ہر دروازے سے خالی ہاتھ واپس آئیں۔ داود کے بارے میں تلخ اور دردناک خبریں سننے کو ملنے لگیں۔ کوئی اس کی موت کی خبر سنا رہا تھا تو کوئی اس کے دیوار میں چنے جانے کی، اور کوئی اس کو جیل میں وحشتناک شکنجے دئے جانے کی۔ فاطمہ داود کے غم و اندوہ سے بوڑھی اور کمر خمیدہ ہو گئیں اب نا امیدی سے اس کے جنازے کی انتظار میں بیٹھ گئیں۔ایک دن فاطمہ کو اطلاع ملی کہ امام صادق علیہ السلام بیمار ہیں اور فاطمہ چونکہ امام کی رضاعی ماں تھیں لہذا آپ کی عیادت کے لیے گئیں۔ خدا حافظی کے وقت امام(ع) نے داود کے بارے میں پوچھا تو فاطمہ نے سارا ماجرا امام کے لیے بیان کیا اور اس کی آزادی کے لیے امام سے چارہ جوئی کی۔ امام علیہ السلام نے فرمایا: آپ جانتی ہیں کہ یہ مہینہ رجب کا مہینہ ہے اس مہینہ میں دعا قبول ہوتی ہے۔ میں ایک عمل بتاتا ہوں اس کو ویسے ہی انجام دینا جیسے میں بتاوں تو انشاء اللہ آپ کا بیٹا رہا ہو جائے گا‘‘۔امام صادق علیہ السلام نے ام داود کو اس طرح سے یہ عمل بتایا،آپ نے فرمایا: تین دن یعنی تیرہ، چودہ اور پندرہ رجب کو روزہ رکھیں پندرہ رجب کو ظہر کے وقت غسل کریں اور نماز ظہر ادا کریں نماز ظہر کے بعد آٹھ رکعت عصر کے نافلہ بجا لائیں اور نوافل سے فارغ ہونے کے بعد یہ دعا پڑھیں جو میں آپ کو لکھ کر دیتا ہوں(۱)، دعا پڑھنے کے بعد سجدے میں جائیں اور کہیں: لَکَ سَجَدْتُ وَ بِکَ آمَنْتُ فَارْحَمْ ذُلِّي وَ فَاقَتِي وَ كَبْوَتِي لِوَجْهِي. پورے خلوص کے ساتھ دعا کریں تاکہ اشک آپ کی آنکھوں سے جاری ہو جائیں۔ چونکہ اشکوں کا جاری ہونا ہی اس دعا کی قبولیت کی شرط ہے‘‘۔ام داود نے یہ عمل مو بمو انجام دیا اور دو دن کے بعد ان کے بیٹے کی رہائی کی خبر مل گئی۔ ام داود سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے امام کے دستور کو موبمو انجام دیا۔ سولہویں کی شب نصف شب کے بعد میں نے خواب میں پیغمبر اکرم (ص) کو کچھ نیک افراد کے ساتھ دیکھا۔ رسول خدا (ص) نے مجھ سے فرمایا: اے ام داود اس جماعت کو دیکھتی ہو یہ تمہاری شفاعت کرنے والے ہیں۔ انہوں نے تمہارے لیے دعا کی اور تمہاری حاجت پوری ہو گئی۔ خدا نے اپنی رحمت تمہارے شامل حال کی۔ اور تمہارے بیٹے کی حفاظت کی۔ اور اسے صحیح و سالم تمہارے پاس لوٹائے گا‘‘۔ادھر داود کو جیل سے نکال کر خلیفہ وقت نے ۱۰ ہزار دینار ہدیہ کے طور پر دئے اور اپنے سپاہی کے ساتھ اونٹ پر بٹھا کر مدینہ پہنچایا۔ داود گھر میں پہنچتے ہیں اس ماجرا سے آگاہ ہوئے اور فورا امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں شرفیاب ہوئے۔ امام نے فرمایا:’’ منصور دوانیقی نے  میرے جد علی بن ابی طالب علیہما السلام کوخواب میں دیکھا کہ علی علیہ السلام نے اسے دھمکایا کہ فورا میرے بیٹے داود کو رہا کر ورنہ میں تجھے جہنم کی آگ میں پھینک دوں گا۔ منصور نے جب اپنے سامنے جہنم کی آگ دیکھی تو ڈر کر فورا تمہاری رہائی کا حکم دے دیا‘‘۔  (۱) دعا مفاتیح الجنان، اعمال ام داود میں مرقوم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲