مکمل متن؛

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے صدر احمدی نژاد کا خطاب

اقوام متحدہ جو عدل کے قیام اور تمام اقوام کے حقوق دینے کے لئے بنی تھی عملی طور پر امتیازی رویوں کا سبب بنی ہوئی ہے اور اسی ادارے نے پوری دنیا پر ایک مٹھی بھر ممالک کے ظلم و جبر کا راستہ ہموار کیا ہوا ہے اور اپنی عدم افادیت کا ثبوت دے چکی ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر اور غیروابستہ تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے آج بدھ کے دن (مورخہ 26 ستمبر 2011) اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: میں ملت ایران کے خدمت گزار اور غیروابستہ تحریک کے رکن ممالک کے نمائندے کی حیثیت سے دنیا کے تمام ممالک کو دعوت دیتا ہوں کہ عالمی فیصلہ سازی میں مؤثر شراکت اور سنجیدہ مداخلت کا امکان حاصل کرنے کے راستے میں فعال کردار ادا کریں کیونکہ آج ڈھانچے کے لحاظ سے رکاوٹوں کے خاتمے اور عمومی اور وسیع البنیاد شراکت کو آسان بنانے کی ضرورت ماضي سے کہیں زیادہ شدت کے ساتھ محسوس ہورہی ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر اور غیر وابستہ تحریک کے سربراہ کی تقریر کا مکمل متن:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمدلله رب العالمین و الصلوه و السلام علی سیدنا ونبینا محمد و آله الطاهرین و صحبه المنتجبین و علی جمیع الانبیاء و المرسلین۔

اللهم عجل لولیک الفرج و العافیه و النصر واجعلنا من خیر انصاره و اعوانه والمستشهدین بین یدیه۔

جناب صدر، عالیجنابان، خواتین و حضرات!اس اجلاس میں ایک بار پھر حاضری پر خدائے بزرگ کا شکر ادا کرتا ہوں۔ہم یہاں آئے ہیں کہ تبادلہ فکے کے ذریےع انسانی برادری اور اپنی اقوام کے لئے بہتر زندگی فراہم کریں۔ میں سرزمین ایران سے، حسن و زيبائی کی سرزمین سے، علم و ثقافت کی سرزمین سے، حکمت و اخلاق غکی سرزمین اور فلسفہ و عرفان کے گہوارے سے، مہربانی اور روشنی کی سرزمین سے، حکماء، فلاسفہ، عرفاء اور ادباء کی سرزمین سے، بوعلی سینا، فردوسی، مولانا روم، حافظ، عطار و خیام و شہریار کی سرزمین سے، آیا ہوں؛ ایک عظم اور سربلند قوم کے نمائندے کی حیثیت سے، جو انسانی تہذيب کے بانیوں میں سے ہے، عالمی ورثے کی حامل ہے؛ میں ان لوگوں کا نمائندہ ہوں جو آگاہ ہیں، حریت پسند اور آزادی خواہ ہیں، صلح و آشتی اور امن و سلامتی کے خواہاں ہیں، مہربان اور گرمجوش ہیں جنھوں نے جارحیتوں اور مسلط کردہ جنگوں کی تلخی چکھ لی ہے اور استحکام و سکون کی قدر و قیمت کو بخوبی جانتے ہیں؛ اب میں دنیا کے گوشے گوشے سے آئے ہوئے آپ بھائیوں اور بہنوں کے اجتماع میں حاضر ہوا ہوں تا کہ اپنے ملک کے لائق اور شائستہ عوام کی آٹھ سالہ خدمت کے دوران آٹھویں بار دنیا والوں کو بتا دوں کہ ایران کی شریف ملت، اپنے تابندہ ماضي کی طرح، عالمی تفکر رکھتی ہے اور دنیا میں امن کے فروغ اور استحکام اور و سکون کو یقینی بنانے کے لئے ہر قسم کی کوشش اور جدوجہد کا خیرم مقدم کرتی ہے اور اس کو اہم سمجھتی ہے تا ہم اس دنیا میں امن و سکون اور صلح و آشتی کا قیام، تبادلۂ فکر اور تعاون اور مشترکہ انتظام، کی صورت میں ہی ممکن ہے۔  میں یہاں ہوں تا کہ اپنے ملک کے تعلیم یافتہ مردوں اور خواتین کا الہی اور انسانی پیغام محترم حاضرین اور پوری دنیا کے انسانوں تک پہنچا دوں۔ وہ پیغام جو سرزمین ایران کے خدائے سخن سعدی علیہ الرحمۃ نے اپنے دو ابیات میں بنی نوع انسان کے لئے چھوڑ رکھا ہے:

بـنـی آدم اعضـــــای یکدیگرند که در آفرینش زیک گوهرندچو عضوی به درد آورد روزگار دگر عضوهــا را نمـــاند قرارفرزندان آدم ایک دوسرے کے اعضاء و جوارح ہیںجو خلقت میں ایک ہی گوہر سے معرض وجود میں آئے ہیںجب زمانہ ایک عضو کو دکھ پہنچادےدوسرے اعضاء چین سے نہیں رہ سکیں گے۔

میں نے گذشتہ سات برسوں کے دوران دنیا کو درپیش چیلنجوں اور ان چیلنجوں کا سامنا کرنے کی حکمت عملی اور دنیا کے مستقبل کے بارے میں اظہار خیال کیا اور آج ان ہی مسائل کا نئے زاویئے سے جائزہ لینا چاہتا ہوں۔دنیا کے مختلف علاقوں میں فرزندان آدم علیہ السلام کے بکھر جانے سے اب تک ہزاروں برس گذر چکے ہیں؛ وہ فرزند جنھوں نے مختلف رنگوں، سلیقوں، زبانوں اور آداب کے ساتھ، زیادہ خوبصورت زندگی اور رفاہ و صلح و امن تک پہنچنے کے لئے ایک اعلیٰ ارفع ۔ بَرتَر  معاشرہ تشکیل دینے کے لئے وسیع کوششیں کرتے آئے ہیں۔شادمانی اور رفاہ تک پہنچنے کے لئے صالحین اور عدالت پسندوں نے پیہم کوششیں کی اور عام انسانوں نے بے شمار صعوبتیں جھیل لیں لیکن اس کے باوجود انسانی تاریخ تلخیوں اور ناکامیوں سے بھری پڑی ہے۔ مہربانی کرکے ایک لمحے کے لئے تصور کریں کہ:اگر اپنے آپ کو دوسروں سے برتر سمجھنے کے رجحانات، بداخلاقیاں، بداعتمادیاں اور آمریتیں نہ ہوتیں اور کوئی بھی دوسرے حقوق پر دست اندازی نہ کرتا؛اگر دولت اور کھپت کی شرح کے بجائے، انسانی قدریں سماجی شان و منزلت کا معیار ہوتیں؛اگر آدمی کو قرون وسطی کے سیاہ دور سے نہ گذرنا پڑتا اور مقتدر قوتیں علم و سائنس اور تعمیری افکار کے پھلنے پھولنے میں رکاوٹ نہ بنتیں۔اگر صلیبی جنگیں اور غلامی (Slaveholding) اور نوآبادیاتی نظام دنیا میں رائج نہ ہوتا اور اس سیاہ دور کے وارث اس راستے کے تسلسل میں انسانی معیاروں کے مطابق عمل کرتے؛اگر یورپ میں پہلی اور دوسری عالمی جنگیں نہ ہوتیں اور کوریا اور ویٹنام کی جنگیں نہ ہوتیں، اگر افریقہ اور لاطینی امریکہ اور بلقان میں جنگیں نہ لڑی جاتیں اور فلسطین پر قبضے اور فلسطین پر ایک جعلی ریاست مسلط نہ کی جاتی اور اس سرزمین کے ملینوں انسانوں کو قتل عام نہ کیا جاتا یا خانہ و کاشانہ چھوڑنے مجبور نہ کیا جاتا؛ دوسری عالمی جنگ کے حقائق کو آشکارا بیان کیا جاتا اور عدل و انصاف پر عمل کیا جاتا؛اگر ایران پر صدام کی جارحیت نہ ہوتی اور دنیا کی جابر اور غنڈہ گرد طاقتیں صدام کی حمایت کے بجائے ایرانی قوم کے حقوق کی حمایت کرتیں؛اگر گیارہ ستمبر کا تلخ واقعہ اور افغانستان و عراق پر لشکرکشی اور ملینوں انسانوں کو قتل یا بے گھر نہ کیا جاتا اور امریکہ اور دنیا کے باسیوں کو اطلاع دیئے اور مقدمہ چلائے بغیر "ایک ملزم" کو قتل کرکے سمندر میں پھینکنے کے بجائے، ایک حقیقت تلاش کرنے والا مستقل گروپ تشکیل دیا جاتا اور اس حادثے اور واقعات میں ملوث افراد پر مقدمہ چلانے اور سزا دینے کی کیفیت سے عالمی رائے عامہ کو اس گروہ کے ذریعے آگاہ کیا جاتا؛اگر پالیسیوں پر عمل درآمد کرنے کے لئے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا سہارا نہ لیا جاتا؛اگر ہتھیار قلم میں تبدیل ہوتے اور فوجی اخراجات کو انسانوں کی فلاح اور اقوام کے درمیان دوستی کے لئے خرچ کیا جاتا؛اگر قومی، لسانی اور مذہبی اختلافات کو ہوا نہ دی جاتی اور ان اختلافات کو بڑھا چڑھا کر ان سے ناجائز سیاسی اور معاشی اہداف تک پہنچنے کے لئے استفادہ نہ کیا جاتا؛اگر جھوٹی حریت پسندی کے بھیس میں انسانوں کے مقدسات اور انبیائے الہی ـ جو پاک ترین انسان اور خداوند متعال کی طرف سے انسانوں کے لئے عظیم ترین تحائف ہیں ـ کی توہین کے مواقع فراہم نہ کئے جاتے، اور تسلط پسندانہ پالیسیوں اور عالمی صہیونیت کے اقدامات پر تنقید کی اجازت دی جاتی اور دنیا کے تشہیراتی جال (میڈیا نیٹ ورکس) استقلال اور آزادی کے ساتھ حقائق کی نشرواشاعت کرسکتے؛اگر سلامتی کونسل صرف چند ہی حکومتوں کے زير تسلط نہ ہوتی اور اقوام متحدہ منصفانہ عمل کرسکتی؛اگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو دباؤ کا سامنا نہ ہوتا اور وہ منصفانہ، ماہرانہ اور پیشہ ورانہ عمل کرسکتے؛اگر دنیا کے سرمایہ دار اپنے مفاد کے لئے اقوام کی معیشتوں کو کمزور نہ کرتے اور اپنی غلطیوں کی تلافی کے لئے اقوام کو قربانی کے بھینٹ نہ چڑھاتے؛اگر بین الاقوامی تعلقات پر صداقت کی حکمرانی ہوتی اور تمام قومیں اور حکومتیں یکسان حقوق سے بہرہ مند ہوکر عالمی امور میں آزادانہ شراکت کرسکتیں اور انسانی سعادت کے لئے کردار ادا کرسکتیں؛اور المختصر یہ کہ اگر درجنوں نا مطلوب اور ناگوار واقعات انسانی زندگی ميں رونما نہ ہوتے اور موجود نہ ہوتے، تصور کریں کہ کتنی خوبصورت ہوتی زندگی، اور کتنی ہردلعزیز ہوتی انسانی تاریخ؟!آیئے دنیا کی موجودہ حالت پر ایک نظر ڈالتے ہیں:الف): معاشی صورت حالغربت اور طبقات کے درمیان فرق و فاصلہ، مسلسل بڑھ رہا ہے۔دنیا کے صرف 18 صنعتی ممالک کا مجموعی بیرونی قرضہ 60 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کرچکا ہے؛ حالانکہ اگر اس میں نصف قرضہ لوٹا دیا جائے (اور ادا کیا جائے) تو قدرتی وسائل کی حامل ممالک اور پوری دنیا میں غربت کی بیخ کنی ہوگی۔صارفیت (Consumerism) اور انسانوں کے استحصال کے سہارے قائم معیشت، صرف معدودے چند ممالک کے فائدے پر منتج ہوئی ہے۔ طاقت اور عالمی معاشی مراکز پر تسلط کے سہارے کاغذی اثاثوں کی تخلیق، تاریخ کی سب سے بڑی بدعنوانی اور عالمی معاشی بحران کے اسباب میں سے ایک ہے۔ اطلاعات کے مطابق، صرف ایک ہی حکومت نے 32 ٹریلین کاغذی اثاثے یا کاغذی دولت (Paper Assets OR Paper Wealth) تیار کی ہے۔ سرمایہ دارانہ معیشت پر مبنی منصوبہ بندی برائے ترقی، بند حلقے میں حرکت، غیر تعمیری اور تباہ کن مسابقت کا موجب بنی ہے اور عمل کے میدان میں ناکام ہوچکی ہے۔ ب): ثقافتی صورت حالاخلاقی مکارم (نیکیاں)، جوانمردی، پاکیزگی، صداقت، مہربانی اور فداکاری عالمی طاقت کے مراکز پر مسلط سیاستدانوں کے نزدیک رجعت پسندانہ، قدامت پسندانہ مفاہیم ہیں جو ان کے اہداف کی پیشرفت میں رکاوٹ سمجھے جاتے ہیں اور باضابطہ طور پر بیان کرتے ہیں کہ وہ سیاسی اور سماجی تعلقات میں اخلاق کی حاکمیت پر یقین نہيں رکھتے۔ روایتی اور مقامی ثقافتیں ـ جو مقامی اور روایتی ثقافتیں ـ جو کہ انسانوں اور ملتوں کی صدیوں کی کوششوں اور مشترکہ جمالیاتی رجحانات کی بنا پر معرض وجود میں آئی ہیں  اور عالمی برادری کی رنگا رنگی اور ثقافتی نشاط اور تحرک کا سبب ہیں آج یلغاروں کا شکار ہوکر زوال پذیر ہوچکی ہیں۔قوموں کے تشخص کی منظم انداز سے تخریب و تذلیل ہورہی ہے اور ایک خاص روش سے ایک بے تشخص فردی اور معاشرتی زندگی اقوام عالم پر مسلط کی جارہی ہے۔ خاندان اور گھرانہ ـ جو انسان سازی کا سماجی مرکز ہے اور دنیا میں عشق و انسانیت کے فروغ کا مرکز ہے ـ کمزور کیا گیا ہے اور اس کا تعمیری کردار روبہ زوال ہے۔ عورت کی شخصیت اور اس کا مرکزی کردار ـ جو ایک آسمانی موجود اور اللہ کے جمال اور مہربانی کا مظہر اور معاشرے کے استحکام کا ستون ہے ـ طاقت اور دولت کے بعض مالکوں کی طرف سے غلط استعمال کے باعث شدید صدموں اور نقصان سے دوچار ہوچکا ہے۔ انسانوں کی روح مکدر اور اداس اور انسانوں کی حقیقت کی توہین ہوئی ہے اور وہ مردہ ہوچکی ہے۔  ج): سیاست اور سلامتی کی صورت حالیک رخا نظام (Unilateralism) اور ایک سے زیادہ معیارات (Multiple Standards) اور جنگیں اور بدامنیاں ٹھونسنا اور معاشی مفادات یا حساس عالمی مراکز پر مسلط ہونے کے لئے ممالک پر جارحیت اور قبضہ، عام سے بات ہے۔ مسلط قوتوں کی طرف سے ملکوں کو ہتھی


مغربی ممالک میں پیغمبر اکرم (ص) کی توہین کی مذمّت
ویژه‌نامه ارتحال آیت‌الله تسخیری
پیام رهبر انقلاب به مسلمانان جهان به مناسبت حج 1441 / 2020
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی