محقق و مؤرخ علامہ باقر شریف قریشی کے حالات زندگی / باتصویر

علامہ قرشی کی تاریخی کاوشوں کی خصوصیت یہ ہے کہ گو کہ انھوں نے تاریخی معلومات دینے میں ائمۂ معصومین علیہم السلام سے وارد ہونے والی روایات کو خاص توجہ دی ہے لیکن وہ صرف ان احادیث و روایات کو ہی نقل نہیں کرتے بلکہ ان احادیث و روایات کی صحت و سقم جاننے کے لئے شیعہ حدیث شناسی کی روشوں سے بھی استفادہ کرتے رہے ہیں اور سند و عقلیت کے لحاظ سے معتبر احادیث سے استناد کرتے رہے ہیں۔

ولادتباقر ولد شیخ شریف قرشی نجفی سنہ 1344 ہجری قمری (1926 عیسوی) کو صوبہ حِلّه کے شہر "القاسم" میں ـ خاندان علم و تقوی کی آغوش میں ـ متولد ہوئے۔ یاد رہے کہ اس صوبے کو 1971 تک "صوبہ حلہ" کہا جاتا تھا اور اس سال اس کا نام بدل کر "صوبہ بابل" رکھا گیا اور شہر "حلہ" اس کا دارالحکومت قرار دیا گیا۔ان کے دادا مرحوم شیخ مہدی قرشی مرحوم آیت اللہ العظمی میرزا بزرگ شیرازی کے شاگر تھے اور قرشی خاندان عراق کے جانے پہچانے خاندانوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس خاندان کو قرشی کہا جاتا ہے کیونکہ ان کے بزرگ "شہر الکوت" کے علاقے "الشمس" سے نجف آئے تھے اور ان کا تعلق "جعافرہ" نامی قبیلے سے تھا اور رسم یہ رہی کہ جو بھی اس علاقے سے نجف کی زیارت کے لئے آتا اس کو "قرشی" کہا جاتا تھا۔ جس طرح کہ کربلا جانے والوں کو کربلائی اور مشہد جانے والوں کو مشہدی کا لقب دیا جاتا ہے۔  ان کے والد نامی گرامی عالم دین اور شہر القاسم میں دینی علوم کے استاد تھے۔ باقر ابھی بچے ہی تھے کہ ان کی والدہ کا انتقال ہوا جو ان کے لئے عظیم صدمہ ثابت ہوا۔ حصول علمچونکہ اس زمانے میں کوئی رسمی اسکول نہ تھا اور ان کے بڑے بھائی "ہادی" بھی مکتب میں علماء اور دینی معلمین کے پاس تعلیم حاصل کررہے تھے ـ جہاں بچوں کو دینی تعلیم دی جاتی تھی، وہ بھی اپنے بھائی کے ہمراہ تعلیم دین حاصل کرنے لگے اور مقدمات طے کرنے کے بعد اعلی تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے نجف اشرف مشرف ہوئے۔ انھوں نے سطوح کے دروس مکمل کرنے کے بعد سنہ 1380 سے فقہ و اصول کے درس خارج میں شرکت کی اور نجف کے بزرگ اساتذہ سے فیض وافر حاصل کیا۔ انھوں نے حصول تعلیم کے ساتھ ساتھ اسلامی تاریخ و تہذیب کی قدیم قلمی کتب کا بغور مطالعہ کیا۔ سطح کے اساتذہادبیات عرب: شيخ کريم قفطان، شيخ حسين الخليفة الاحسائي اور بعض دیگر علماء و فضلا‏ء؛منطق: شيخ محمد علي الدمشقی؛بيان: علامہ شيخ عباس مظفر؛فقه و اصول: سيد موسي البعاج، شيخ بشير العاملي اور آیت اللہ العظمی سيد محمود مرعشي نجفی۔خارج فقہ و اصول کے اساتذہآيت الله العظمی سید ابوالقاسم الموسوی الخوئی، آيت الله العظمی شيخ محمد طاهر آل الشيخ راضی، شيخ محمد تقي الايروانی اور آيت الله العظمی سيد محسن الحکيم۔مرحوم علامہ کی تألیفاتمرحوم علامہ کو بچپن سے ہی تألیف و تصنیف کا شوق تھا حتی کہ انھوں نے اپنی تعلیم کے آغاز پر ہی "شرح علم نحو" کے عنوان سے اور "الفیہ ابن مالک کے اشعار کی شرح" کے عنوان سے دو کتابیں لکھی تھیں اور اعلی سطحی دروس کے دوران بھی شيخ محمد طاهر راضي اور آيت الله العظمی خوئي کے دروس لکھتے رہے اور جو کچھ سیکھا پڑھاتے بھی رہے۔ لیکن جن تألیفات نے باقر شریف قریشی کو "علامہ" کے عنوان سے شہرہ آفاق بنایا وہ اہل بیت عصمت و طہارت علیہم السلام کی حیات و سیرت طیبہ کے بارے میں ہیں۔ ان کی پچاس کاوشیں ابھی تک طبع ہوچکی ہیں جن میں سے 46 کا موضوع اہل بیت علیہم السلام اور باقی اسلام کے سیاسی، معاشی، تعلیمی و تربیتی موضوعات سے تعلق رکھتی ہیں۔ انھوں نے اپنی سات جلدوں پر مشتمل دائرةالمعارف (موسوعہ) امام صادق علیہ السلام کو اپنی بہترین تألیف قرار دیا ہے جس پر انھوں نے سخت محنت کی ہے۔ اس لحاظ سے بھی علامہ باقر شریف قرشی کی علمی زندگی بہت اہم ہے کہ انھوں نے حزب بعث کے گھٹن کے دور میں اہل بیت علیہم السلام اور تشیع  کے حوالے اہم کتابیں شائع کیں۔ ان میں سے بعض کتب کے نام درج ذیل ہیں:    1. حیات محرر اعظم و رسول اکرم محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم (3 مجلدات)۔2. موسوعۃ اميرالمؤمنين (ع) (11 مجلدات) 3. حیات طیبہ سيدة النساء فاطمۃ الزهرا سلام اللہ علیہا۔4. حیات امام حسن مجتبی علیہ السلام (2 مجلدات)۔5. حیات امام حسین علیہ السلام (3 مجلدات)۔ 6. حیات امام زین العابدین علیہ السلام (2مجلدات)۔7. حیات امام محمد باقر علیہ السلام (2 مجلدات)۔8. موسوعۃ امام جعفر الصادق علیہ السلام (7 مجلدات) 9. حیات امام موسی بن جعفر علیہ السلام (2 مجلدات)10. حیات امام رضا علیہ السلام (2 مجلدات)۔11. حیات امام جواد علیہ السلام۔12. حیات امام ہادی علیہ السلام۔ 13. حیات امام حسن عسکري علیہ السلام۔14. حیات امام مہدی علیہ السلام۔ 15. عباس بن علي علیہ السلام پیشوائے کرامت و فداکاری در اسلام16. زندگی  مسلم بن عقيل علیہ السلام۔17. حضرت زينب سلام اللہ علیہا، نمونہ جہاد در اسلام۔18. اهل بيت علیہم السلام در قرآن۔19. أهل البيت في ضلال السنۃ النبويۃ20. أخلاق النبي و أهل بيته علیہم الصلاة و السلام۔انھوں نے مندرجہ ذیل کتابیں اسلام شناسی، تاریخ، فقہ، تہذیب و تمدن اور سماج کے بارے میں تآلیف کیں:1. اجتماع سقيفه؛ خطیرترین حادثه تاريخ سیاسی اسلام (تاریخ اسلام کا اہم ترین واقعہ)2. نظام سياسي در اسلام3. نظام تربیت در اسلام4. النظام الاجتماعي في الاسلام5. نظام خانواده در اسلام6. النظام الاقتصادي في الاسلام7. انظمه الحکم والاداره في الاسلام8. العمل و حقوق العامل في الاسلام9. هذه هي الشيعة10. بحوث عقائديه مقارنه11. الشيعة والصحابه12. السجود علی التربة الحسينية13. أضواء علي زياره أهل القبور14. سلامه القرآن من التحريف15. الفقه الاسلامي تأسيس اصالته16. تقریرات فقه و اصول آیت الله خوئی (یہ کتاب قلمی نسخے کی حیثیت سے امام حسن لائبریری میں محفوظ ہے)۔ علامہ قرشی کی تأليفات کی خصوصیات1. شيخ باقر شريف قرشي نے ایسے حال میں اہل بیت علیہم السلام، تشیع اور اسلامی عقائد کے بارے میں تحقیق کی اور کتابیں لکھیں کہ قرآن و حدیث کے دشمن بعثیوں کی حکمرانی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ شدید سینسر اور نگرانی کی بنا پر مجھے بعض ناشرین اور چاپخانوں کو رقم دینی پڑتی تھی کہ وہ میری کاوشیں چھاپیں اور شائع کریں اور ان پر لبنان، دمشق اور قاہرہ کے چاپخانوں کے نام درج کریں تا کہ یہ کتابیں ضبط ہونے سے بچائی جاسکیں۔2۔ وہ اہل بیت علیہم السلام اور اسلامی نظامات کے مختلف پہلؤوں کے بارے میں اپنی تأليفات میں زمانے کے تقاضوں کا پورا پورا لحاظ رکھتے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ ائمہ اہل بیت علیہم السلام کے بارے میں میری محنتوں کا اصل محرک شہید آیت اللہ سید محمد باقر الصدر کے ساتھ میری ایک ملاقات تھی جس میں انھوں نے کہا تھا کہ اہل بیت علیہم السلام کے سلسلے میں بامقصد اور باقاعدہ کام نہیں ہوا ہے۔ عراق میں عبدالکریم قاسم کا زمانہ تھا تو شیوعیت (کمیونزم) کی زبردست ترویج ہونے لگی چنانچہ انھوں نے کتاب"العمل و حقوق العامل في الاسلام في انظمة الحکم و الادارة" سمیت متعدد کتابیں کمیونزم کا راستہ روکنے کی غرض سے لکھیں۔ 3۔ ان کی تأليفات کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ وہ صرف شیعہ منابع سے ہی استفادہ کرنے کی بجائے شیعہ اور سنی منابع سے استفادہ کرتے تھے۔ 4۔ ان کی تاریخ نگاری کا انداز اور اسلوب منفرد اور اپنی مثال آپ ہے اور صرف تاریخی منابع کی بجائے اہل بیت علیہم السلام کے بارے میں تحقیق کرتے ہوئے احادیث و روایات سے بھرپور استفادہ کیا گیا ہے۔ ان کی نثر سلیس ہے اور احادیث و روایات کے بطن سے تاریخی واقعات کا استخراج کرتے ہیں۔ اور ان کے اس طرز نگارش نے قارئین کے لئے اہل بیت علیہم السلام کی فقہی، سیاسی، علمی و سائنسی اور سماجی و معاشرتی احادیث سے رجوع کرنے کا کام آسان کردیا ہے۔ انھوں نے حتی مختلف عصری حالات میں ائمہ اہل بیت علیہم السلام سے صادر ہونے والی دعاؤں تک کو نقل کیا ہے اور ان کی تشریح کی ہے۔ 5۔ وہ احادث کو نقل کرتے ہیں اور ان کا جائزہ لیتے ہیں اور ساتھ ساتھ اہل بیت علیہم السلام کی حیات طیبہ کے مختلف پہلؤوں کو معصومین علیہم السلام کے زبانی قارئین تک پہنچا دیتے ہیں اور سیاسی، علمی، معاشی اور مذہبی حوالے سے ائمہ علیہم السلام کے عصری حالات کا تجزیہ کرکے قارئین کو ایسی معلومات فراہم کرتے ہیں جن کی روشنی میں قارئین ائمہ اہل بیت علیہم السلام کے مقام و منزلت سے بخوبی آگہی حاصل کرتے ہیں جبکہ یہ ساری معلومات احادیث اور روایات سے رجوع کرکے حاصل ہوئی ہیں جو کہ اسلوب تاریخ نگاری میں ایک منفرد روش ہے۔ 6۔ مضمون کے لحاظ سے ان کی کوشش رہی ہے کہ معصومین علیہ السلام کی تاریخ کی وہ باتیں اور وہ پہلو بیان کریں جو اس سے پہلے بیان نہيں ہوسکی ہیں۔ مثال کے طور پر وہ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کی حیات طیبہ کے بارے میں قلم فرسائی کرکے آپ (ع) کی زندگی کے ان کہے پہلو بیان کرتے ہيں اور لکھتے ہیں کہ امام سجاد علیہ السلام اسلامی تہذیب و تمدن کے بانی ہیں اور یہ کہ آپ (ع) نے مدینہ منورہ کو علمی اور تحقیقی مرکز میں تبدیل کیا۔ انھوں نے امام سجاد علیہ السلام کی صحیفہ اور رسالہ حقوق کو اسی حوالے سے مورد توجہ قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ امام علیہ السلام کے یہ کام علمی کام ہیں۔ انھوں نے امام سجاد علیہ السلام کی علمی حیات کے بارے میں لکھا ہے کہ "امام سجاد علیہ السلام نے مسجد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اپنے لئے مدرسہ اور علمی مرکز قرار دیا اور مسجد کی شبستان میں بیٹھ کر علماء اور فقہاء کے ساتھ مذاکرہ کرتے اور انہیں اپنی علمی سرچشموں سے سیراب کرتے ہوئے طالبعلموں کو فقہ، تفسیر، حدیث، فلسفہ، علم کلام اور اخلاق اور طرز عمل کے قوانین پڑھایا کرتے تھے"۔ 7۔ علامہ قرشی ائمہ علیہم السلام کی حیات طیبہ کے مختلف پہلؤوں کے بارے میں بحث کرتے ہيں لیکن ساتھ ساتھ ائمۂ معصومین علیہم السلام کے اصحاب اور شاگردوں کے بارے میں مفید معلومات قارئین کو پیش کرتے ہیں جو کہ رجال شناسی کے موضوع کی طرف ان کی توجہ کی علامت ہے۔ 8. علامہ قرشی کی تاریخی کاوشوں کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ گو کہ انھوں نے تاریخی معلومات دینے میں ائمۂ معصومین علیہم السلام سے وارد ہونے والی روایات کو خاص توجہ دی ہے لیکن وہ صرف ان احادیث و روایات کو ہی نقل نہیں کرتے بلکہ ان احادیث و روایات کی صحت و سقم جاننے کے لئے شیعہ حدیث شناسی کی روشوں سے بھی استفادہ کرتے رہے ہیں اور سند و عقلیت کے لحاظ سے معتبر احادیث سے استناد کرتے رہے ہیں۔ 9۔ انھوں نے تاریخی لحاظ سے بحث کرتے ہوئے مختلف ـ اور بعض مواقع پر متضاد ـ آراء کو نقل کیا ہے اور پھر ان کی جرح و تعدیل کرکے وہ رائے اپنائی ہے جو دلائل کی روشنی میں صحیح نظر آئی ہے۔10۔ تاریخ میں قابل بحث موضوعات میں سے ایک یہ ہے کہ "کیا مؤلف پوری طرح غیر جانبدار ہوسکتا ہے؟"، اور چونکہ ہر شخص کے عقائد تقریر و تحریر میں اس کے زاویۂ نگاہ پر ضرور اثر انداز ہوتے ہیں ـ علامہ قرشی ایک شیعہ عالم کی حیثیت سے اپنی تاریخ میں اہل بیت علیہم السلام کی احادیث کو بنیاد بنائے ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود ان کی کاوشوں میں ایک منفرد خصوصیت پائی جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ بعض علماء اور مکاتب کے برعکس ـ جو پہلے اپنا عقیدہ بیان کرتے ہیں اور پھر دلائل اور ثبوت کی روشنی میں اپنے عقیدے کی حقانیت ثابت کرنے کی کوشش کر


دنیا بھر میں میلاد پیغمبر رحمت(ص) کی محفلوں کی خبریں
سینچری ڈیل، نہیں
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی