شیعہ کُشی یورپ تک پہنـچی،

برسلز کے امام جماعت تکفیریوں کے حملے میں شہید / باتصویر

برسلز کی مسجد امام رضا (ع) میں نماز مغرب ادا کی جارہی تھی کہ تکفیری وہابیوں نے پٹرول چھڑک کر اور آتش گیر مواد پھینک کر مسجد کو آگ لگا دی اور امام جماعت حجت الاسلام شیخ عبداللہ دہدوہ کو شہید کردیا۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق وہابی تکفیری دہشت گردوں کی  شیعہ کُشی کا سلسلہ یورپ تک جا پہنچا اور تکفیری وہابیوں نے برسلز کی مسجد امام رضا علیہ السلام میں کل مغرب کے وقت حجت الاسلام شیخ عبداللہ دہدوہ کی امامت میں نماز کا فریضہ ادا کیا جارہا تھا یا وہابی تکفیری دہشت گردوں نے مسجد پر پٹرول چھڑک کر اس پر آتش گیر دستی بم پھینکا جس سے مسجد میں آگ لگ گئی اور شہید دہدوہ وہابی بغض کی آگ میں جل کر شہید ہوگئے۔اطلاعات کے مطابق یہ وحشیانہ حملہ مقامی وقت کے مطابق اذان مغرب کے وقت انجام پایا جس میں وہابیوں نے مسجد پر پٹرول چھڑکا اور آتش گیر بم سے بنا ہوا بم پھینکا جس کی وجہ سے مسجد کو آگ لگ گئی اور اس کے نتیجے میں اماامام جماعت حجت الاسلام والمسلمین شیخ عبداللہ دہدوہ شہید اور ایک نمازی زخمی ہوگئے۔کہا جاتا ہے کہ سرکاری طبی عملے نے مسجد کے امام جماعت کو بچانے کی کوشش کی تھی لیکن وہ جان بھر نہ ہوسکے۔عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کے یورپی امور کے ڈائریکٹر جنرل، "عبدلرضا راشد" نے اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ سے بات چیت کرتے ہوئے برسلز کے مقامی ذرائع کے حوالے سے بتایا: پولیس نے ایک حملہ آور کو گرفتار کرلیا ہے جس نے اپنا تعارف مسلمان کی حیثیت سے کرایا ہے لیکن اس کے شناختی کاغذات جعلی قرار دیئے گئے ہیں چنانچہ حملہ آوروں کے بارے میں یقین سے کچھ کہنا ابھی قبل از وقت ہے۔ 1بلجئیم کی وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ انہیں پیش آمدہ سانحے سے شدید صدمہ پہنچا ہے۔ انھوں نے ایک نمازگزار کی شہادت کی تصدیق کی ہے۔ برسلز پولیس ترجمان میری فیرفیکی نے کہا ہے کہ شیعہ مسلمان مسجد میں نماز کی ادائیگی میں مصروف تھے کہ تکفیری وہابی گروہوں کے دہشت گردوں نے مسجد پر پٹرول چھڑک کر آگ لگا دی جس کے نتیجے میں مسجد کا ایک بڑا حصہ جل کر راکھ ہوگیا۔ انھوں نے کہا: اس سلسلے میں ایک شخص گرفتار کیا گیا ہے اور عینی گواہوں نے کہا ہے کہ انھوں نے اس شخص کو مسجد میں آگ لگاتے ہوئے دیکھا ہے۔علاقے کے مئیر اندرلخت فانسون نے بلجیئم کی سرکاری خبر ایجنسی کو بتایا ہے کہ گرفتار شخص کو بہرحال اس سانحے میں مسجد میں دستی آتش گیر بم پھینکتے ہوئے دیکھا گیا ہے۔ بہرحال اس سانحے میں حجت الاسلام شیخ عبداللہ دہدوہ شہید ہوگئے ہیں حو مسجد امام رضا علیہ السلام کے امام جماعت اور عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کی جنرل اسمبلی کے رکن تھے۔ وہ قم المقدسہ کی جامعۃالمطصطفی العالمیہ سے فقہ اور اسلامی معارف کے فارغ التحصیل تھے اور یورپ، بالخصوص بلجیئم کے دارالحکومت برسلز میں مسلمانوں اور پیروان اہل بیت (ع) کے لئے کثیر خدمات کا سرچشمہ تھے۔ پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ مسجد امام رضا (ع) دم گھٹ کر شہید ہوگئے ہیں اور مسجد کو بہت زيادہ نقصان پہنچا ہے۔ بلجئیم کے مسلم ذرائع نے کہا ہے کہ مسجد پر حملہ تکفیری سلفیوں نے کیا ہے۔بلجیئم کے مسلمانوں کی مجلس کی نائب سربراہ "ازابل برائلی" نے کہا ہے کہ اس سانحے کے اصل مجرم وہابی اور سلفی انتہاپسند ہیں۔ انھوں نے کہا: مسجد امام رضا علیہ السلام، برسلز میں اہل تشیع کی سب سے بڑی مسجد ہے جو تین سال قبل بھی سلفی تکفیریوں کی دھمکیوں کے بعد کافی عرصے تک پولیس کی حفاظت میں تھی۔برسلز کے ایک شیعہ راہنما نے کہا کہ مسجد کو آگ لگانے والا شخص فرار ہو رہاتھا لیکن راہگیروں نے اس کا راستہ روکا اور پولیس نے اس کو حراست میں لیا۔

..........

/110

برسلز کے امام جماعت کے قتل پر عالمی اہل بیت (ع) اسمبلی کا مذمتی بیان

برسلز کے شہید عالم دین کی مختصر سوانح حیات

٭٭٭

شہید شیخ عبداللہ دہدوہ حال ہی میں منعقدہ عالمی اہل البیت (ع) اسمبلی کی پانچویں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شریک تھے۔ تصاویر دیکھئے:

شهيد حجت الاسلام عبد الله دهدوه

تکفیریوں کے جملے کے بعد کی صورت حال


دنیا بھر میں میلاد پیغمبر رحمت(ص) کی محفلوں کی خبریں
سینچری ڈیل، نہیں
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی