امام خامنہ ای: جارحیت اور دھمکی کی صورت میں دشمن کو اندر سے بکھیر دیں گے

رہبر انقلاب اسلامی اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ انی نے ملٹری یونیورسٹی کی پاسنگ آؤٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ملت ایران کسی بھی ملک کے خلاف جارحیت کا ارادہ نہیں رکھتی لیکن ہر قسم کی جارحیت یا حتی دھمکی کا پوری طاقت سے جواب دے گی جو جارحوں اور متجاوزین کو اندر سے بکھیر دے گی۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق امام خامنہ ای نے آج صبح امام علی (ع) ملٹری یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہونے والے افسروں کی پاسنگ آؤٹ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: مسلح افواج ملک و ملت کی عزت و عظمت کا سرمایہ اور ایک ایسی قوم کی دفاع کے مضبوط و مستحکم دفاع تیر کا نوک ہیں چنانچہ دشمن بالخصوص امریکہ اور اس کے کٹھ پتلی اور صہیونی ریاست جان لیں کہ ملت ایران کسی ملک پر بھی جارحیت کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی لیکن ہر قسم کی جارحیت حتی کہ دھمکی کا اس طرح سے جواب دے گی کہ یہ جواب جارحوں اور متجاوزوں کا شیرازہ اندر سے بکھیر دے گا۔ مسلح افواج کے سپریم کمانڈر نے فرمایا: ایران کی مستحکم قوم ایسی قوم نہیں ہے جو اندر سے دیمک زدہ ان کھوکھلی طاقتوں کی دھمکیوں کا خاموشی سے نظارہ کرتی رہے گی۔امام خامنہ ای نے فرمایا: جس کسی کے ذہن میں اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جارحیت کا وہم آجائے اس کو فوج، سپاہ پاسداران اور بسیج اور عظیم ملت ایران کے زبردست طمانچوں اور آہنی مکوں کے لئے تیار رہنا چاہئے۔امام خامنہ ای نے ملت ایران بالخصوص مسلح افواج کو قومی عظمت اور بین الاقوامی قوت کی راہ پر گامزن رہنے کے لئے اپنی آمادگی برقرار رکھنے اور ہر دم تیار رہنے کی ہدایت دیتے ہوئے فرمایا: اسلامی جمہوری نظام کا مستحکم ڈھانچہ، قومی اتحاد اور ملت کے تمام افراد کے درمیان دلی یکجہتی کا عنصر دشمن کی جارحیت کا راستہ روکنے میں سب سے اہم رکاوٹ ہے اور سب پر فرض ہے کہ اس مضبوط اور استوار ڈھانچے اور اس مضبوط نظام حکومت کا تحفظ کرے اور اس کو مزید استحکام بخشے۔آپ نے فرمایا: ہماری مسلح افواج سائنس و علم اور جہاد نیز معنویت و ایمان کے میدانوں میں حاضر ہيں اور یہ ہماری عظمت کا سبب ہے اور جو ملت ثابت کرکے دکھائے کہ وہ اپنے استقلال و خودمختاری، قومی تشخص، کمال مطلوب کی خواہش اور اپنی سالمیت کے تحفظ کے لئے استقامت اور ہمہ جہت دفاع کے لئے تیار ہے وہ ملت ہمیشہ عزیز اور صاحب عظمت ہے۔آپ نے فرمایا: افسوس کا مقام ہے کہ آج بھی دنیا میں قوموں کے درمیان رابطے کا معیار مادی قوت، کیل کانٹے اور ہتھیاروں کے سہارے متعین کیا جاتا ہے اور بدمعاش قوتیں آہنی مکے کے ذریعے دوسری قوموں کے مقدرات پر مسلط ہونے کی کوشش کررہی ہیں، ایسے حال صرف وہی قوم آفتوں اور آسیبوں سے محفوظ رہ سکتی ہے جو اپنی دفاعی آمادگی اور صلاحیت کو ثابت کرنے میں کامیاب ہوجاتی ہے۔ حضرت آیت اللہ العظمی امام سید علی خامنہ ای (دام ظلہ العالی) نے مسلح افواج کی دفاعی آمادگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: مسلح افواج کی یہ دفاعی آمادگی دینداری اور ایمان و تقوی سے مل کر ملت ایران کے لئے عزت آفرین ہے اور اس کی حفاظت و تقویت کی ضرورت ہے۔آپ نے ملٹری یونیورسٹی کو علم و جہاد کا مرکز قرار دیا اور فرمایا: ملک کی مسلح افواج، جو علم و دانش کے حامل اور مؤمنانہ مجاہدت کے لئے تیار ہیں، علاقے اور دنیا میں منفرد اور اپنی مثال آپ ہیں اور اس طرح کی مسلح افواج ایسی ملت کی والا ہمتی کا ثمرہ ہیں جو ایمان، اسلام اور دینداری کا پرچم لہرانے کے لئے اپنا پکا عزم بروئے کار لاچکی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110


اسلام کے سپہ سالار الحاج قاسم سلیمانی اور ابومہدی المہندس کی مظلومانہ شہادت
سینچری ڈیل، نہیں
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی