دل سوز سے خالي ہے، نگہ پاک نہيں ہے

ایک صاحب نے کوئٹہ میں روز عید فطر پر ہونے والی دہشت گردانہ کاروائی کے حوالے سے ایک بیان کے ذیل میں علامہ اقبال کی یہ نظم بھیجی تھی جس کو مستقل طور پر پیش کیا جارہا ہے تا کہ فائدہ لینے والے اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔

مفکرِ پاکستان حضرت علامہ محمد اقبال کی73 ویں برسی آج نہایت عقیدت و احترام سے منائی جارہی ہے۔ ڈاکٹر سر علامہ محمد اقبال بیسویں صدی کے ایک معروف شاعر، مصنف، قانون دان، سیاستدان، مسلم صوفی اور تحریک پاکستان کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک تھے۔ بحیثیت سیاستدان ان کا سب سے نمایاں کارنامہ نظریہٴ پاکستان پیش کرنا ہے جو بعد میں پاکستان کے قیام کی بنیاد بنا۔علامہ اقبال کی شاعری نے برصغیر کے مسلمانوں کوغفلت سے بیدار کرکے نئی منزلوں کا پتہ دیا۔ ان کی شاعری روایتی انداز و بیاں سے یکسر مختلف تھی کیونکہ ان کا مقصدبالکل جدا اور یگانہ تھا ۔انھوں نے اپنی شاعری کے ذریعے برصغیر کے مسلمانوں میں ایک نئی روح پھونک دی جو تحریکِ آزادی میں بے انتہا کارگر ثابت ہوئی۔

اپنی مِلّت پر قیاس اقوام مغرب سے نہ کرخاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی

علامہ اقبال نے تمام عمر مسلمانوں میں بیداری و احساسِ ذمہ داری پیدا کرنے کی کوششیں جاری رکھیں مگر ان کوششوں کی عملی تصویر دیکھنے سے پہلے وہ اس پیغام کے ساتھ 21 اپریل1938 میں خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

علامہ اقبال دنیائے اسلام اور بالخصوصی اس زمانے کے ہندوستان کے مسلم راہنماؤں کی صورت حال سے نالہ و شکایت کرتے ہیں اور ان حالات کو ان ہی کی غفلت اور بے دردی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ فرماتے ہیں:

دل سوز سے خالي ہے ، نگہ پاک نہيں ہے

دل سوز سے خالی ہے ، نگہ پاک نہیں ہے!پھر اس میں عجب کیا کہ تو بے باک نہیں ہے٭٭٭٭٭ہے ذوقِ تجلّی بھی اسی خاک میں پنہاںغافل ! تو نِرا صاحبِ ادراک نہیں ہے

وہ آنکھ کہ ہے سرمہء افرنگ سے روشنپُر کارو سخن ساز ہے ، نمناک نہیں ہے٭٭٭٭٭کیا صوفی و ملّا کو خبر میرے جنوں کیان کا سرِ دامن بھی ابھی چاک نہیں ہے٭٭٭٭٭کب تک رہے محکومیءانجم میں مری خاکیا میں نہیں ، یا گردشِ افلاک نہیں ہے٭٭٭٭٭بجلی ہوں نظر کوہ بیاباں پہ ہے میریمیرے لیے شایاں خس و خاشاک نہیں ہے٭٭٭٭٭عالم ہے فقط مومنِ جانباز کی میراثمومن نہیں جو صاحبِ لولاک نہیں ہے ٭٭٭٭٭

بال جبریل (علامہ اقبال)