شہید علامہ عارف حسین الحسینی ۔ اتحاد بین المسلمین کے عظیم داعی

قرآن حکیم و مجید وہیں ارشاد خداوندی ہے جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے انہیں مردہ مت کہو بلکہ وہ زندہ ہیں اور اللہ کے ہاں سے خصوصی رزق پاتے ہیں.

ابنا: زندہ انسان دو قسم کے ہیں ایک کو ہم زندہ انسان کہتے ہیں اور ایک کو خود خداوند عالم زندہ و تابندہ قرار دے رہا ہے ہم چلتے ہوئے بدنوں کو زندہ انسان کہتے ہیں جبکہ خداوند عالم اس فرد کو حقیقی زندہ انسان قرار دے رہا ہے جس نے اپنی جان خداوند عالم کے حضور نذرانے کے طور پر پیش کی اسلامی تعلیمات میں شہید کے جو عظیم درجات بیان کئے گئے ہیں ان میں شہید کو زندہ قرار دینا ایک خوبصورت اور انتہائی عمیق تعبیر ہے انسانی زندگي میں بہت سارے لوگ ظاہرا" چل پھر رہے ہوتے ہیں لیکن امیرالمؤمنین حضرت علی (ع) کے فرمان کی روشنی میں وہ چلتی پھرتی لاشوں سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے عالم اسلام کے عظیم مفکر آیت اللہ شہید مرتضی مطہری شہید کی تعریف میں فرماتے ہیں : شہید انسانیت کی محفل میں ایک شمع کی مانند ہوتا ہے ۔ شمع اپنے آپ کو فناکردیتی ہے لیکن دوسروں کو روشنی عطا کرتی ہے ۔پانچ اگست انیس سو اٹھاسی کو ایک ایسی ہی ہستی نے جام شہادت نوش کیا جس کی یاد اکیس سال گزرنے کے باوجود ابھی تک دلوں میں تازہ ہے ۔ جب بھی پانچ اگست کا دن طلوع ہوتا ہے تو اس شخصیت کے چاہنے والوں کے سامنے اس صبح کا منظر دوبارہ زندہ ہونے لگتا ہے جب ایک عالم ربانی اور عارف حق کو نماز صبح کے بعد استعماری اور یزیدی ایجنٹوں نے خون میں نہلادیا تھا بقول شاعر:.............

شہادت کا آرمان تھا تیرے دل میں               ہوا منکشف  تجھ  یہ  راز  شہادتوضوکرکے  اپنے  مقدس  لہو  سے               پڑھی تو تم نے عارف نماز شہادت

پانچ اگست انیس سو اٹھاسی اتحاد بین المسلمین کے عظیم داعی علامہ سید عارف حسین الحسینی کا روز شہادت ہے ۔آج اس شہید کی شہادت کواگرچہ اکیس برس کا طویل عرصہ گزرچکا ہے لیکن وہ آج بھی کروڑوں انسانوں کے دلوں میں زندہ و تابندہ ہے ۔شہید عارف حسین الحسینی اپنے دور کے عظیم معلم اخلاق ہونے کے ساتھ ساتھ اتحاد بین المسلمین کے عظیم داعی اور طاغوت و استعمار کے خلاف ایک سیسہ پلائي دیوار کی علامت سمجھے جاتے ہیں آپ نے اپنے چارسالہ دور قیادت میں پاکستان کے مظلوم اور محروم طبقے کی جس طرح ترجمانی کی پاکستان کی پوری تاریخ اس سے خالی نظر آتی ہے ۔ آپ اکثر فرمایا کرتے تھے مسلمانوں کے درمیان جہاں کہیں بھی فرقہ واریت اور مذہبی تفرقے کی سازشیں رچی ہیں اس کے پیچھے امریکی استعمار کا ہاتھ ہے ۔شہید علامہ سید عارف حسین الحسینی مجدد دوران حضرت امام خمینی (رح) کے حقیقی شاگرد اور پیروکار تھے  . آپ بھی اپنے رہبر اور استاد کی طرح فرقہ واریت اور تفرقے کو امت مسلمہ کے لئے سب سے زيادہ خطرناک سمجھتے ہیں ۔علامہ شہید عارف حسین الحسینی کی امت مسلمہ کے اتحاد کے لئے عظیم کاوشیں اور لازوال قربانیاں ہی تھیں جس نے اس شہید کو سنی شیعہ تمام حلقوں میں اتنا مقبول بنادیا تھا کہ امت مسلمہ کا ہر باشعور شخص آپ کی شہادت کی خبر سن کر یہ پکار اٹھا کہ آج پاکستان اتحاد بین المسلمین کےعظیم داعی سے محروم ہوگیا۔آپ کی مقبولیت اور ہر دلعزيزي کا یہ عالم ہے کہ آپ کے شہادت کے اکیس برس کےبعد آج بھی آپ کی برسی کا پروگرام انتہائی جوش و جذبے اور عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے ۔گذشتہ سالوں کی طرح آج بھی دنیا کے مختلف شہروں میں آپ کی شہادت کی مناسبت سے کئی پروگرام ہوئے ۔پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں آپ کی اکیسویں برسی کی مناسبت سے ایک عظیم الشان پروگرام منعقد ہوا جس میں ہزاروں کی تعداد میں پاکستان کے مختلف شہروں سے شہید عارف حسین الحسینی کے چاہنے والوں نے شرکت کی ۔ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے علاوہ ملک کے تمام چھوٹے بڑے شہروں میں شہید مظلوم علامہ سید عارف حسین الحسینی کی اکیسویں برسی کے پروگرام منعقد ہوئے ۔یورپ کے کئی شہروں کے علاوہ ایران کے مقدس شہروں قم اور مشہد میں خصوصی طور پر شہید عارف حسین الحسینی کی دینی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے پروگرام منعقد ہو‏ئے ۔اکیسویں برسی کی مناسبت سے ان تقریبات میں مقررین ، علما اور دانشور حضرات نے علامہ سید عارف حسین الحسینی کی زندگی کے مختلف پہلوؤں بالخصوص ان کی قیادت کے چارسالہ دور کو خصوصی طور پر اپنا موضوع گفتگو قرار دیا ۔مقررین نے آپ کو با بصیرت ، دور اندیش ، شجاع اصولوں پر سودے بازي نہ کرنے والا اور اسلام محمدی کا حقیقی مبلغ قراردیتے ہوئے آپ کے بتائے ہوئے سیاسی اصولوں کو آئندہ نسلوں کے لئے مشعل راہ قرار دیا ۔

/169 - 110


دنیا بھر میں میلاد پیغمبر رحمت(ص) کی محفلوں کی خبریں
سینچری ڈیل، نہیں
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی