بحرین کے شہید انقلابی راہنما عبدالکریم فخراوی کے مختصر حالات زندگی

شہید عبدالکریم فخراوی کو آل خلیفی اور آل سعودی درندوں نے گرفتار کرکے تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے انھوں نے جام شہادت نوش کیا۔ یہاں اس شہید کے مختصر حالات زندگی پیش خدمت ہیں:

شہید عبدالکریم فخراوی البحرینی کا تعارفشہید عبدالکریم فخراوی البحرینی بحرین کی نامور اور معروف شخصیات میں سے تھے۔ اہل بیت (ع) کے خدمت گذار تھے اور بحرین میں مجالس عزاداری کے فروغ میں ان کا مقام و مرتبہ یہ ہے کہ انہیں بحرین میں عزاداری کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ وہ شہید ہوکر بحرین کے شیخ الشہداء کے لقب جیت گئے ہیں۔شہید فخراوی انقلابی، عاشق رسول و آل رسول (ص)، مفکر، زیرک و نکتہ فہم، دیندار و دیانتدار اور بہت زیادہ خوش اخلاق تھے اور ان کے چہرے پر مسکراہٹ عمر کے آخری لمحوں تک سجی رہی یہاں تک کہ آل خلیفیوں اور آل سعودیوں نے انہیں اغوا کیا اور ان کے چہرے کی مسکراہٹ کیا چھینی کہ اہل بحرین میں سے بہت سوں کی مسکراہٹیں بھی چھن گئیں۔شہید تشیع کی تہذیب و تعلیم کے فروغ میں پیش پیش رہتے تھے۔ بحرین کے عوام ان سے محبت کرتے تھے اور انہیں ایک دانشور اور خادم مذہب و ملت کے عنوان سے پہچانتے تھے۔ ان کے اہم کاموں میں سے ایک "الفخراوی پبلکیشنز کی تأسیس" ہے جس کا مقصد دینی و مذہبی کتب کی تألیف و تصنیف اور اشاعت سے عبارت تھا۔ وہ بحرین کے تمام چھولے بڑے کتب خانوں کو کتاب فراہم کیا کرتے تھے۔ وہ سالانہ کئی کتب شائع کرکے بحرین، حجاز اور امارات میں سمیت عرب ممالک میں وگوں تک پہنچایا کرتے تھے۔ انھوں نے بیروت میں بھی اسی سلسلے میں کافی کام کیا اور وہاں بھی انھوں نے متعدد کتب شائع کردیں۔ شہید فخراوی کے اہم ترین علمی و ثقافتی اقدامات:1- تشیع کے مکتوب علمی آثار کی اشاعت کی غرض سے بحرین کے مختلف علاقوں میں نمائش کتب اور کتب فروشی کے مراکز قائم کئے۔ 2۔ بحرین سمیت خلیج فارس کے جنوبی کنارے کی ریاستوں میں اہل تشیع تک کتب پہنچانے کا اہتمام کیا۔3۔ انھوں نے شہید آیت اللہ مطہری، شہید آیت اللہ سید عبدالحسین دستعیب شیرازی، آیت اللہ جوادی آملی، حجت الاسلام و المسلمین محسن قرائتی اور متعدد دیگر علماء کی 250 سے زائد فارسی کتب کا عربی میں ترجمہ کرکے انہیں بحرین اور لبنان سے شائع کیا۔ 4۔ ایران کے اہم ناشرین سے رابطے میں رہ کر تراجم اور اشاعت کے لئے بہترین کتب کے انتخاب کے حوالے سے ان سے مشاورت کیا کرتے تھے۔ 5۔ بحرین سمیت خلیجی ریاستوں کی مساجد اور حسینیات نیز مدارس اور سرکاری اسکولوں کو سینکڑوں کتب کے عطئے دے کر انہیں تقویت پہنچائی۔6ـ  عزاداری کے ایام میں مجالس کے لئے ایران سمیت دیگر ممالک سے علماء کو دعوت دیا کرتے تھے۔7ـ بحرین کی کئی مساجد و حسینیات میں نماز جماعت اور مجالس کی برپائی میں اہم کردار کرتے رہے اور ان مجالس و نمازہائے جماعت میں فعالانہ شرکت کیا کرتے تھے۔ 9۔ وہ صرف تبلیغ ہی کے حوالے سے نہیں بلکہ ابلاغ کی دنیا میں بھی سرگرم عمل تھے اور انھوں نے بحرین کے واحد شیعہ اخبار "الوسط" کی بنیاد رکھی تھی جس نے حالیہ انقلاب میں بھی عوامی امنگوں کے مطابق زبردست کردار ادا کیا اور اب اس اخبار پر بھی آل خلیفی حکمرانوں کا قبضہ ہوچکا ہے اور اس کے چیف ایڈیٹر کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔ شہید فخراوی انقلاب اسلامی کے زبردست حامیوں میں سے تھے اور ہر سال ائمہ طاہرین اور اہل بیت رسول (ص) کی قبروں کی زیارت کے لئے ایران اور عراق کا سفر کیا کرتے تھے۔ شہید فخراوی ہر سال حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کرنے کے حوالے سے منفرد شخصیت تھے۔ شہید فخراوی شیعیان بحرین کی ہر دلعزیز تھے اور اہل تشیع کی خدمت کے حوالے سے بھی ان کی حیثیت ممتاز تھی چنانچہ آل سعود کی کٹھ پتلی آل خلیفی حکومت کو وہ ایک آنکہ بھی نہ بھاتے تھے اور قوم کی سرکوبی کی جاری لہر میں آل خلیفہ اور آل سعود کے درندوں نے انہیں گھر سے اغوا کرکے نامعلوم مقام پر منتقل کیا اور مسلسل نو روز تک ان پر تشدد کے تمام حربے آزمائے جس کے نتیجے میں انھوں نے آخر کار جام شہادت نوش کیا۔ تفصیل کے لئے یہاں رجوع فرمائیں۔آل خلیفیون نے آل سعودیوں کی حمایت سے اس عظیم فکری و علمی شخصیت کو قتل کرکے بحرینی عوام کو خوفزدہ کرنے کی کوشش کی ہے تا کہ وہ اپنی انقلابی تحریک جاری رکھنے سے نادم ہوجائیں لیکن ایسا ہوتا ہوا نظر نہیں آرہا۔ کیونکہ بحرینی عوام نے موت سے خوف کا مرحلہ پیچھے چھوڑ رکھا ہے اور آل خلیفی اور ان کے آل سعودی حامی اسی حقیقت سے غافل ہیں کہ شہید فخراوی سمیت بحرین کے مظلوم شہداء در حقیقت بحرین کی اونچائیوں پر سرخ پرچم بن کر لہرا رہے ہیں اور یہ پرچم بحرینی عوام کے قلبوں میں انتقام کا جذبہ ہمیشہ کے لئے زندہ رکھیں گے اور ان کا خون نا حق عوام کے حق طلبانہ انقلاب کی مسلسل آبیاری کرتا رہے گا۔ شہید فخراوی کے ہزاروں پرستار ان کا خون ہرگز نہیں بھولیں گے اور اسے رائیگان نہیں جانے دیں گے۔  وہ اب سابقہ سیاسی نعرے پر اکتفا نہیں کرتے اور آل خلیفہ کو علامتی بادشاہت کا حق بھی دینے کے لئے بھی تیار نہیں ہیں۔ آج بحرینی عوام کہہ رہے ہیں کہ شہیدوں کے خون کی کم از کم قیمت یہ ہے کہ آل خلیفہ خاندان بحرین سے بوریا بستر باندھ کر چلاجائے، اس کی حامی اجنبی افواج کا انخلاء جلد از جلد ممکن بنایا جائے اور بحرین میں جمہوری حکومت کا قیام عمل میں لایا جس میں بحرین کے ہر شہری کا ایک ووٹ ہوگا اور بحرینی عوام کو ان کا پورا پورا حق دیا جائے گا اور خلیفی فرقہ واریت کو خیرباد کہہ دیا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110

- تصویر - بحرین / لحظہ شہادت تک آل خلیفی تشدد کا شکار رہنےوالے شہید فخراوي کا تشدد زدہ جسم /اپڈیٹ

- قم / بحرینی شہید الفخراوي کے نئے آیت اللہ العظمی مکارم کی طرف سے مجلس فاتحہ 


دنیا بھر میں میلاد پیغمبر رحمت(ص) کی محفلوں کی خبریں
سینچری ڈیل، نہیں
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی