مقدس دفاع ( 80 ۔ 1988 ) اور ملت ایران کی دفاعی صلاحیتیں

سن 80 کے عشرے میں، ایران میں اسلامی انقلاب کامیابی کے بعد جب امریکہ اور مغربی ممالک نے ایران کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کیں تو بانی انقلاب حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے مغرب کے اس اقدام کو الہی تحفہ قرار دیا تھا ۔

حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا تھا:  آپ نے پابندیوں کا کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ایک بیان میں مسلح افواج اور دفاعی شعبے کے ماہرین سے مخاطب ہوکر فرمایا تھا ۔آپ نے اچھی طرح اور عملی طور پر دیکھا کہ اقتصادی ناکہ بندی کے بعد اس تھوڑے سے عرصے میں وہی لوگ جو معمولی سے چیز بھی بنانے سے خود کو عاجز سمجھتے تھے اور جنہیں کارخانے اور فیکٹریاں چلانے سے مایوس کیا جارہا تھا انہوں نے اپنی فکر اور تخلیقی صلاحیتوں سے کام لیکر دفاع نیز دیگر صنعتوں سے متعلقہ کارخانوں کی بہت سے ضروریات کو خود پورا کرنا شروع کردیا ۔امام خمینی (رح) مزيد فرماتے ہیں اقتصادی ناکہ بندی اور غیرملکی ماہرین کا اخراج ایک الہی تحفہ تھا جس سے ہم غافل تھے آج اگر حکومت اور اسلامی جمہوریۂ ایران کی فوج ، عالمی لیٹروں کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرکے، ایجاد اور تخلیق کی راہ میں کوشش کرے تو امید ہے کہ ملک خود کفیل ہوجائے گا اور ہمیں دشمن کے آگے ہاتھ پھیلانے سے نجات مل جائے گی ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ایران کے اعلی حکام اور مختلف شعبہ جات کے ماہرین نے امام خمینی (رح) کی اس نصیحت کو اپنا نصب العین قرار دیکر اقتصادی پابندیوں اور امریکہ و مغرب کی مخاصمانہ پالیسیوں کے باوجود، مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اس انداز سے ترقی و پیشرفت کی کہ آج ایران کی ہر نئی ایجاد اور پیشرفت پر سامراج خون کے آنسو روتا نظر آتا ہے۔اس سال، 9جون کو اسرائیل اور امریکہ کے دباؤ پر سلامتی کونسل نے ایران کے خلاف پابندیوں کے حوالے سے قرارداد نمبر 1929 منظور کی تو اس وقت بھی ایران کے اسلامی نظام اور ایرانی قوم سے آشنا بین الاقوامی ماہرین نے اس بات کا عندیہ دیا تھا کہ پہلے کی طرح یہ قرارداد بھی ایران کی ترقی و پیشرفت میں اضافے کا باعث بنے گی اور ایران سلامتی کونسل اور مغربی ممالک کے دباؤ کے باوجود مختلف شعبوں میں ترقی و پیشرفت کی بلندیوں کو سرکرتا رہے گا۔یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے فورا" بعد ہی امریکہ اور مغربی ممالک نے سیاسی، اقتصادی ، فوجی اور تشہیراتی شعبے میں ایران پر دباؤ بڑھانا شروع کردیا تھا تا ہم ایران کی غیور قوم اور ذمہ دار حکومت نے دباؤ اور دھمکیوں کو ذرا برابر اہمیت نہیں دی اور دشمن کی تمام سازشوں کو ناکام بناتے ہوئے ترقی و پیشرفت کے سفر کو جاری رکھا ۔اسی حوالے سے اسلامی جمہوریۂ ایران نے اکیس اگست کو بوشھر ایٹمی بجلی گھر میں ایٹمی فیول کو انجیکٹ کرکے سلامتی کونسل کی بے بنیاد اور غیر عادلانہ پابندیاں کا عملی اور دندان شکن جواب دیا ہے ۔ایران نے دفاعی شعبے میں اب تک جن مصنوعات اور ایجادات کی رونمائی کی ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایران میں سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں جس ترقی و پیشرفت کا ماضي میں آغاز ہوا تھا اب وہ رکنے والا نہیں ہے اور یہ سلسلہ روزبروز آگے بڑھتا رہے گا بائیس اگست جسے ایران میں صنعتی دفاع کے دن کے نام سے منایا جاتا ہے اس مرتبہ اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے کرار نامی بغیر پائلٹ کے بمبار جیٹ طیارے کا افتتاح کیا جس کا تجربہ بھی انتہائي کامیابی سے انجام پایا ۔کرار نامی بغیر پائلٹ کا یہ بمبار جیٹ طیارہ جدیدترین ٹیکنالوجی کا بہترین نمونہ ہے اس بغیر پائلٹ کے طیارے میں ٹربوجیٹ انجن استعمال کیا گيا ہے اور اس جیٹ طیارے میں اپنے مدنظر اہداف کو نشانہ بنانے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے اس بمبار جیٹ طیارے میں ہائی اسپیڈ کے ساتھ ہی طویل فاصلے تک مسلسل اونچی اڑان بھرنے اور مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت پائي جاتی ہے ۔ امریکہ اور فرانس کے بعد ایران پہلا ملک ہے جو بغیر پائلٹ کا طیارہ بنانے میں کامیاب ہوا ہے البتہ غاصب اسرائیل بھی امریکہ کی مدد سے اس سے ملتا جلتا طیارہ بنا چکا ہے ۔ ایران نے سن 80 کے اوائل میں صدام کی مسلط کردہ جنگ کے زمانے سے ہی بغیر پائلٹ کے طیارے بنانے کی کوششوں کا آغاز کردیا تھا اور ایرانی ماہرین نے اس وقت سے لیکر اب تک مختلف ماڈل کے بغیر پائلٹ کے طیارے بنائے جن کی ترقی یافتہ شکل، موجودہ کرار نامی بمبار جیٹ ہے جس کا صدر مملکت ڈاکٹر احمدی نژاد کی موجودگي میں افتتاح ہوا ۔بغیر پائلٹ کا یہ طیارہ چار میٹر لمبا ہے اس میں مختلف قسم کے بم اور راکٹ لے جانے کی صلاحیت ہے یہ بلند پرواز کے ساتھ ساتھ ایک ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی سرعت سے اپنے ہدف کو ٹھیک نشانہ بنا سکتا ہے ۔اس جیٹ طیارے کے چار راکٹ ایک ہزار کلومیٹر کے فاصلے تک اپنے ہدف کو نشانہ بناسکتے ہیں جبکہ اس طیارے میں لوڈڈ بم بھی دشمن کے ٹھکانوں کو سخت نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔اسلامی جمہوریۂ ایران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے بغیر پائلٹ کے اس ڈرون طیارے کے افتتاح کے موقع پر کہا ہے کہ اس طیارے کا اصل پیغام امن و دوستی اور دشمن کے ہر طرح کی جارحیت اور حملے کو روکنے کا پیغام ہے ۔ صدر مملکت نے یہ بات زور دیکر کہی ہے کہ اسلامی جمہوریۂ ایران ظلم و ناانصافی کے خلاف غیر جانبدار نہیں رہ سکتا پس اسے ترقی و استحکام کے اس مرحلے تک پہنچنا چاہئے تا کہ دشمن ایران سے مایوس ہوجائے ۔صدر احمدی نژاد نے کرار نامی ڈرون طیارے کے ایک دفاعی طیارہ ہونے پر تاکید کی اور اسے جارح دشمن کے مقابلے میں دفاع کا ایک وسیلہ قرار دیا ۔بغیر پائلٹ کے طیارے کے کامیاب تجربے کو عالمی میڈیا نے بھی بھرپور کوریج دی ہے فرانس کے اخبار لوپارزین نے ڈرون طیارے کے کامیاب تجربے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایران نے اپنی ایٹمی تنصیبات پر ممکنہ حملے اور اسکا جواب دینے کے لئے اپنی توانائیوں اور صلاحیتوں کا اظہار کیا ہے ۔یہ اخبار مزید لکھتا ہے ایران نے جدید ہتھیاروں خاص کر میزائل ٹیکنالوجی بغیر پائلٹ کے طیاروں کی ساخت، اور جدید ہائی اسپیڈ بوٹوں اور آبدوزوں کی تیاری میں بہت زیادہ ترقی کی ہے ۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے کرار نامی ڈرون طیارے کے کامیاب تجربے پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے " کرار نامی بغیر پائلٹ کا یہ جیٹ طیارہ تیسری قسم کا بغیر پائلٹ کا طیارہ ہے جسکا ایران نے اس ایک سال میں کامیاب تجربہ کیا ہے ۔ عربی اخبار القدس نے لکھا ہے کہ امریکہ نے رواں سال کے آغاز میں ایران کی طرف سے بغیر پائلٹ کا جہاز بنانے کے اقدام پر تشویش کا اظہار کیا تھا تا ہم بغیر پائلٹ کے طیارے کے کامیاب تجربے کے بعد ایران ڈرون طیارے بنانے والے ممالک کے عالمی کلب میں شامل ہوگیا ہے ۔کرار نامی ڈرون طیارے کے افتتاح سے دو دن پہلے، زمین سے زمین تک مار کرنے والے قیام نامی میزائل کا بھی کامیاب تجربہ کیا گیا ہے ۔ قیام میزائل جدید قسم کا میزائل ہے اور یہ چھوٹے پروں کے بغیر مختلف فاصلوں تک اپنے ہدف کو ٹھیک نشانہ بنا سکتا ہے ۔ ایران کی آئرواسپیں صنعت کے سربراہ جنرل مہدی فرحی نے اس میزائل کی ٹیکنالوجی اور خصوصیات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ میزائل، میزائل ٹیکنالوجی کی تیاری میں مصروف عمل ایرانی ماہرین کے پچیس سالہ تجربات کا نچوڑ ہے ۔قیام میزائل کے ساتھ تیسری نسل کے فاتح 110 میزائل کا بھی کامیاب تجربہ کیا گیا ۔ فاتح 110 نامی یہ بالسٹیک میزائل پہلی بار دوہزار دو میں تیار کیا گيا بعد میں اس میں مختلف تبدیلیاں لاکر اور اسے جدید ترین ٹیکنالوجی سے آراستہ کرکے اب اس مقام پر لایا گیا ہے کہ اس میزائل میں ٹھوس ایندھن استعمال کیا جا سکتا ہے ۔انہی ایام میں سراج نامی ہائی اسپیڈ بوٹ اور ذوالفقار نامی جدید میزائل لانچر کی پروڈکشن لائن کا بھی افتتاح ہوا ۔ سراج ایک ہائی اسپیڈ بوٹ ہے جس کا کام دشمن کی جارحیت کا جواب دینا ہے ۔ چند دن پہلے خلیج فارس کے پانیوں میں انجام دی جانے والی فوجی مشقوں میں سراج نامی ہائی اسپیڈ بوٹ نے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کیا اور اسکے ذریعے انتہائي تیزي اور باریک بینی کے ساتھ مطلوبہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا سراج کو اس انداز سے بنایا گيا ہے کہ یہ سمندر کی تند و تیز موجوں میں بھی اپنے کام کو انجام دے سکتی ہے ۔ ذوالفقار بھی ایک گشتی میزائل لانچر ہے جو سمندر میں دشمن کی کشتیوں پر فوری حملے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ سراج اور ذوالفقار نامی ہائي اسپیڈ بوٹ اور جدید میزائل لانچر کی بڑے پیمانے پر تیاری سے ایران کی بحریہ کی دفاعی اور حملے کرنے کے صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور ان جدید ہائی اسپیڈ بوٹوں اور میزائل لانچروں سے دشمن کے ہر طرح کے امکانی حملوں کو باآسانی ناکام بنایا جا سکتا ہے ۔سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی فدوی نے سراج اور ذوالفقار کی پروڈکشن لائن کے افتتاح کے بعد کہا ہے کہ ایران کی ہائی اسپیڈ بوٹس کی متوسط رفتار امریکی اسپیڈ بوٹس سے دوگنا ہے ۔اسلامی جمہوریۂ ایران نے نہ صرف اسپیڈ بوٹس کے حوالے سے نمایاں ترقی کی ہے بلکہ آبدوزوں کی تیاری اور بغاوٹ میں بھی غیر معمولی پیشرفت دکھائی ہے ۔حال ہی میں غدیر نامی جس جدید آبدوزکا افتتاح کیا گيا ہے وہ جدید ٹیکنالوجی سے مزین ہے اور انتہائي اور صحیح نشانے پر تار پیڈو پھینکنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ ان خصوصیات کے علاوہ یہ آبدوز انتہائي تیزی کے ساتھ کم گہرائی والے پانی میں بھی حرکت کرکے پانی کی سطح کے اوپر اور نیچےحرکت کرنے والی کشتیوں اور آبدوزوں کا باآسانی تعاقب کرسکتی ہے اور ریڈار کے ذریعے نہیں دیکھی جا سکتی ۔اسلامی جمہوریۂ ایران نے ہمیشہ اس بات پر تاکید کی ہے کہ اس کے تمام جدید ہتھیار دفاعی مقاصد کے لئے ہیں اور ان کا مقصد دشمن کے ممکنہ حملوں کو ناکام بنانا ہے ۔ ایران کے دشمنوں نے گزشتہ تین عشروں میں مختلف انداز سے ایرانی قوم کے خلاف اپنے کینے اور مخاصمت کا اظہار کیا ہے اور ایران کے دشمن جنگ اور قتل و غارت کو اپنے اہداف تک پہنچنے کا بہترین وسیلہ گردانتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایران کو ان کی دشمنیوں اور مخالفتوں کاجواب دینے اور اپنے دفاع کے لئے جدید اور ترقی یافتہ دفاعی نظام کی ضرورت ہے ۔اسلامی جمہوریۂ ایران نے ہمیشہ اس بات کو ثابت کیا ہے کہ وہ جنگ کا طالب نہیں اس نے ہمیشہ اپنے ہمسایہ ملک سے حسن نیت کااظہار کیا اور اس وقت بھی اسلامی جمہوریۂ ایران کے اپنے ہمسایہ ملکوں سے سیاسی، اقتصادی اور فوجی شعبوں میں بہترین تعلقات ہیں اور ان میں روز بروز فروغ آرہا ہے ۔اسلامی جمہوریۂ ایران کے وزیر دفاع نے رواں سال کے اگست کے اوائل میں عمان کا دورہ کیا اور دونوں ملکوں کے درمیان دفاعی شعبے میں ایک سمجھوتے پر دستخط بھی ہوئے ہیں جس کے تحت دونوں ملکوں کے دفاعی وفود ایک دوسرے کے ممالک کا دورہ کریں گے تا کہ مشترکہ فوجی مشقوں کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے ۔ اس سے پہلے ایران نے قطر کے ساتھ بھی ایک ایسے ہی سمجھوتے پر دستخط کئے تھے ۔مئی کے وسط میں ایران اور تاجیکستان کے درمیان بھی ایک سمجھوتے پر دستخط ہوئے ہیں، جس کی روشنی میں دونوں ملکوں کے درمیان دفاع، تربیت اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گيا ہے ۔ اسلامی جمہوریۂ ایران کی دفاعی شعبے میں ترقی و پیشرفت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ سب کچھ ایرانی ماہرین کے ہاتھوں انجام پارہا ہے ۔دفاعی شعبے میں نئی ایجادات ایرانی ماہرین کی کوششوں


دنیا بھر میں میلاد پیغمبر رحمت(ص) کی محفلوں کی خبریں
سینچری ڈیل، نہیں
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی