آزادی صحافت کا عالمی دنۛ

2009-2010 دہشت گردانہ کارروائیوں میں 21 صحافی ہلاک اور 45 زخمی

آج دنیا بھر میں آزادی صحافت کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق انیس سو تیرانوے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے تین مئی کو آزادی صحافت کا دن قرار دیا اور اسے ہر سال بھرپور طریقے سے منایا جاتا ہے۔پاکستان میں بھی اگرچہ صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون تسلیم کیا جاتا ہے لیکن اہل صحافت نے پابندیوں ، کالے قوانین اور اسیری کے مختلف ادوار دیکھے۔

سال 2009ء میں 7 پاکستانی صحافیوں سمیت دنیا بھر میں 76 صحافی قتل کئے گئے جبکہ 573 صحافیوں کو گرفتار کیا گیا جن میں 150 بدستور جیلوں میں ہیں، سب سے زیادہ 31 صحافی نومبر 2009ء کے الیکشن کے دوران فلپائن میں قتل کئے گئے۔

صحافیوں کی ایک بڑی نمائندہ تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر اپنی رپورٹ میں 2009 ء اور 2010ء کو پاکستان میں صحافیوں کے لیے ایک بدتر سال قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ اس عرصے کے دوران دہشت گردانہ کارروائیوں اور خودکش حملوں میں 21 صحافی ہلاک اور 45 زخمی ہوئے ۔آمرانہ دور اقتدار میں ہمیشہ ہی قلم اور کیمرے کے مزدور ناروا سلوک کا نشانہ بنے۔ آج بھی حکمران یہی کہتے ہیں کہ میڈیا کو آزادی حاصل ہے لیکن صحافت بے لگام نہیں ہونی چاہئے جبکہ سینئر صحافیوں کا تجربہ ہے کہ ہر سیاسی جماعت اپوزیشن میں بیٹھ کر تو ضرور آزادی اظہار رائے کی بات کرتی ہے لیکن اقتدار ملتے ہی آزاد صحافت ایک آنکھ نہیں بھاتی کیونکہ اس آئینے میں ہر چہرہ صاف دکھائی دیتا ہے۔ پابندیوں کی طویل تاریخ کے باوجود تین مئی پاکستان کے اہل صحافت کے لئے اپنے پیشے سے اس عہد کی تجدید کا دن ہے کہ ہم پرورش لوح و قلم کرتے رہیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/152