آیت‌اللہ العظمی نوری ہمدانی:

ولائی نظام کے سوا ہر نظام طاغوتی ہے ‌

آیت اللہ العظمی نوری ہمدانی نے کہا: اسلام ولائی نظام کے سوا ہر نظام حکومت کو طاغوتی نظام سمجھتا ہے چنانچہ ولائی نظام کے علاوہ ہر نظام طاغوتی، ناجائز و نامشروع اور نامعقول ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آیت اللہ العظمی نوری ہمدانی نے بدھ وار کی شام کو تاریخی مدرسہ حقانی کا دورہ کیا اور مدرسے کے منتظمین، طلبہ اور اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا: اسلامی تعلیمات و معارف کی طرف عدم توجہ تاریخ کے تمام ادوار میں مسلمانوں کے زوال کا سبب رہی ہے اور صدر اول میں چونکہ اسلامی معارف و تعلیمات کو توجہ دی جاتی تھی اور مسلمان اسلامی تعلیمات پر عملدرآمد کرتے تھے مسلمانوں کو دنیا میں بلند مقام حاصل تھا... رفتہ رفتہ مسلم معاشرہ تبدیلیوں سے دوچار ہوا اور بعد کے ادوار میں اسلامی تعلیمات کو مکمل توجہ نہیں دی گئی اور اس سلسلے میں افواج کے سپہ سالار اور سلاطین کا کردار بھی بہت مؤثر تھا۔انھوں نے کہا: اگر اسلامی تعلیمات کا مکمل نفاذ ہوتا اور مسلمان تمام اسلامی تعلیمات پر عملدرآمد کرتے تو اموی، عباسی، قاجار اور پہلوی سلطنتیں معرض وجود میں نہ آتیں۔آیت اللہ العظمی نوری ہمدانی نے کہا: اسلامی حکومت کی چوٹی پر رسول اللہ (ص) کی ذات بابرکات ہونی چاہئے اور اگر نبی اکرم (ص) کا وصال ہوجائے تو اسلامی حکومت میں اقتدار امام معصوم (ع) کو منتقل ہونا چاہئے اور اگر معصوم (ع) حاضر و موجود نہ ہو تو راستہ بالکل واضح اور روشن ہے؛ اور موجودہ دور کی طرح فقیہ عادل، مدیر و مدبر اور شجاع فقیہ کو حکومت کا عہدہ سنبھالنا چاہئے۔ انھوں نے کہا: اسلام ولائی نظام کے سوا ہر نظام حکومت کو طاغوتی نظام سمجھتا ہے چنانچہ ولائی نظام کے سوا ہر نظام طاغوتی، ناجائز و نامشروع اور نامعقول ہے۔آیت اللہ العظمی نوری ہمدانی نے اسلامی معارف کی وسعت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: طلبہ کو ان تمام معارف و تعلیمات میں داخل ہونا چاہئے اور انہیں دین میں سمجھ بوجھ حاصل کرنا چاہئے۔انھوں نے کہا: دین میں تفقہ اور سمجھ بوجھ حاصل کرنا آسان نہیں ہے اور یہ کٹھن راستہ طے کرنے کے لئے ہمت، سنجیدگی اور توفیق الہی کے ساتھ ساتھ عزم راسخ اور مضبوط ارادے کی ضرورت ہے اور ہمیں ان وسائل سے اپنے آپ کو لیس کرلینا چاہئے... دین اسلام کے تمام معارف و تعلیمات کی طرف توجہ دینی چاہئے اور تاریخ میں غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے سلاطین اور ملوک اتنے وسیع پیمانے پر دین میں تفقہ اور سمجھ بوجھ کو برداشت نہیں کرسکتے تھے چنانچہ انھوں نے دین کی مخالفت کا آغاز کیا۔ انھوں نے دانستہ یا نادانستہ طور پر دین کی جدید تأویلیں کیں اور دینی تعلیمات کی جدید توجیہات متعارف کرائیں اور متحجر اور گوشہ نشین اسلام کو جنم دیا اور یہ اسلام انفرادی اعمال و افعال اور فردی عبادات اور پرستش کی حدود تک محدود ہوگیا اور دیگر شعبوں اور پہلؤوں سے اس کا کوئی سروکار نہیں تھا۔ آیت اللہ العظمی نوری ہمدانی نے وضاحت کی: یہ جو امام خمینی رحمةاللہ علیہ بعض مقدسین سے شکوہ کیا کرتے تھے اس کا سبب یہی تھا یہ وہ مقدسین تھے جو خوارج کی مانند معرض وجود میں آئے جو صرف انفرادی امور کی طرف توجہ دیتے تھے اور اسلامی تعلیمات کے دیگر پہلؤوں سے غافل تھے۔انھوں نے کہا: دین کے یک پہلو تصورات کی وجہ سے تصوف جیسے جعلی مذاہب و مکاتب معرض وجود میں آئے اور صوفی فرقی نے اسلام کو کشکول، تبرزین (کلہاڑے)، اور بہت لمبی داڑہی {اور لمبی مونچھوں} میں محصور کردیا اور سلاطین و بادشاہوں نے بھی ان کی حمایت کی اور انہیں پروان چڑھایا۔ اس مرجع تقلید نے امریکی اسلام کو بھی اسلام کے یک جہتی تصور کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ امریکی اسلام وہ اسلام ہے جو ہم پر استبداد و آمریت کی حکمرانی سے متصادم نہیں ہے اور اگر ہم امریکہ یا برطانیہ کے زیر تسلط ہوں تو یہ اسلام اس صورت حال کی حمایت کرتا ہے۔ انھوں نے تمام اسلامی معارف و تعلیمات کی طرف توجہ پر زور دیا اور کہا: دشمنان اسلام نے دین اسلام کو بدترین توہین و بےحرمتی کا نشانہ بنایا اور اسلام کو یک پہلو اور یک جہتی دین کی صورت میں متعارف کرانے کی کوشش کی؛ اور اسی سلسلے میں انھوں کبھی عورت کو اسلام سے بدظن کرنے کی کوشش کی اور کبھی اپنی تشہیراتی مہم کے ذریعے غرباء کو اسلام سے دور کرنے کی سازش کی۔ آیت اللہ العظمی نوری ہمدانی نے دین کی سیاست سے جدائی کو بھی دشمن کی تشہیراتی مہم کا نتیجہ قرار دیا اور کہا: انھوں نے اسلام کو سیاست سے جدا کرنے کی بھرپور کوشش کی اور اسی غرض سے انھوں نے مسلمانوں کو انفرادی عبادات میں مصروف کرنے کی سعی کی... تاہم حماسہ ساز عارف و عالم کامل حضرت امام خمینی رحمۃاللہ علیہ ایک بار پھر اسلام کی تمام تعلیمات کو میدان میں اتارا اور اسی بنا پر مستکبرین، مستبدین اور آمرین اس اسلامی ولائی نظام کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔انھوں نے کہا: گو کہ شیعہ علماء کے سیاسی نظریات و تفکرات امام رحمۃاللہ علیہ سے قبل بھی کتابوں کی صورت میں موجود و دستیاب تھے لیکن امام رحمۃاللہ علیہ ان معارف و تعلیمات کو میدان عمل میں لاسکے اور انہیں نافذ کیا اور دنیا میں حقیقی اسلام کا پرچم بلند کیا۔انھوں نے کہا: امام رحمۃاللہ علیہ نے کارعظیم سرانجام دیا اور اس ولائی نظام کی بنیاد رکھی اور آج امام رحمۃاللہ علیہ کے خلف صالح حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای بھی امام رحمۃاللہ علیہ کے نقش قدم پر گامزن ہیں اور یہ سب ـ بالخصوص نوجوانوں ـ کا فریضہ ہے کہ اس نظام کی حفاظت کریں... اس نظام کی تقویت و حفاظت ـ جو شہداء کے خون اور سخت محنت کے نتیجے میں قائم ہوا ہے ـ ہم سب کا فریضہ ہے اور اوجب واجبات میں سے ہے۔انھوں نے کہا: امام عصر (عج) کی غیبت کی بعد ایسا نظام حکومت ـ جو اتنا باعظمت ہو اور دنیا میں تحول و تغیر و تبدیلی کی لہر اٹھا سکے ـ کبھی بھی معرض وجود میں نہیں آیا تھا۔ آیت اللہ العظمی شیخ حسین نوری ہمدانی نے ایران کا عظیم اسلامی انقلاب جہاد اور الہی عمل تھا اور ہم اس نظام کو قیام کربلا اور امام عصر عج کے درمیان رابطہ اور واسطہ سمجھتے ہیں اور اس نے کربلا سے عملی نمونے اخذ کئے ہیں اور امام عصر (عج) کے ظہور کی تمہید ہے ... ایران کے انقلاب اسلامی کے ذریعے دنیا کے مستضعفین ـ جو عرصۂ دراز سے استکبار و استبداد کے جوتوں تلے پس رہے تھے، بیدار و ہوشیار ہوگئے اور مستضعفین عالم اپنی خوداعتمادی کی قوت کے ذریعے عالمی استکبار کے دانت کٹھے کردیں گے۔انھوں نے کہا: بے شک امریکہ، صہونیت، برطانیہ وغیرہ کبھی بھی استکبار کی سواری سے نہیں اتریں گے اور سائنسی ترقی کے ذریعے تسلط خواہی کی راہ پر گامزن رہیں گے مگر ان کے مقابلے میں مستضعفین انقلاب اور اسلام کی تعلیمات سے متأثر ہوکر زیادہ سے زیادہ بیدار و ہوشیار ہونگے حتی کہ یہ دوقوتیں ایک دوسرے کے روبرو صف ارائی کریں گی حتی کہ امام عصر (عج) ظہور فرمائیں۔ ...../110


All Content by AhlulBayt (a.s.) News Agency - ABNA is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License