حجت الاسلام والمسلمین صدیقی:

22 بہمن کا دن قومی اتحاد و بصیرت کا مظہر تھا

تہران کے خطیب جمعہ حجت الاسلام والمسلمین صدیقی نے 22 بہمن کی ریلیوں میں عوام کی حماسی شرکت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ ریلیاں قومی اتحاد، طاقت، معرفت، بصیرت، ولایتمداری اور پورے ملک کے عوام کی یکجہتی کا مظہر تھیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق تہران کے خطیب جمعہ حجت الاسلام والمسلمین صدیقی نے تہران کی نماز جمعہ کے دوسرے خطبے میں نمازگزاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: جیسا کہ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے پیشین گوئی فرمائی تھی عوام کا حضور دشمنوں کی ناامیدی اور مایوسی، مستضعفین کی امیدواری، انقلاب اور دین کی تجدید حیات، اور ایرانی عوام کے اعتقادات کی گہرائی کی علامت تھا۔ انھوں نے کہا کہ دنیا کے مختلف ممالک کے انقلابات میں عوام انقلاب کا پہلا سال گذرنے کے بعد جشن انقلاب مناتے ہیں مگر ان کے انقلابات کا تشخص کمزور اور ان کا جشن سال بسال ضعیف سے ضعیف تر ہوجاتا ہے مگر دیکھئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے انقلاب سے 14 صدیاں گذر چکی ہیں اور یہ انقلاب سال بسال تازہ اور تازہ تر ہوتا جارہا ہے اور امام خمینی رحمةاللہ علیہ کا انقلاب بھی چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے عالمی انقلاب، قرآن اور ولایت کا تسلسل ہے چنانچہ یہ انقلاب نہ صرف کہنگی کا شکار نہیں ہورہا بلکہ ہر روز اس کے شکوہ و جلال اور شوق و شعف، تازگی و طراوت اور جدید و نوظہور تخلیقات کے ساتھ ظہور کرتا ہے۔ تہران کے خطیب جمعہ نے کہا: ایرانی عوام کی انقلابی اور ولائی وفاشعاری، شوق و شعور، جذبہ و بصیرت ناقابل بیان ہے اور اور یہ شوق و شعف بے ساحل سمندر ہے اور وہ بلند چوٹی ہے جسے پوری دنیا مل کر بھی فتح نہیں کرسکتی اور در حقیقت آپ ملت ایران کی عظمت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ائمۂ طاہرین علیہم السلام کی عظمت کا ایک جلوہ ہے۔حجت الاسلام والمسلمین صدیقی نے کہا: ہم اپنے آپ کو عوام کا مقروض سمجھتے ہیں اور ہمیں فخر ہے کہ ہم ہی ان کے خادم ہیں۔ تہران کے عارضی امام جمعہ نے کہا: عوام کی عظیم ریلیوں نے کچھ پیغام بھی دیئے ہیں اور جشن انقلاب میں شریک کروڑوں عوام کا پہلا پیغام یہ تھا کہ دشمنوں نے تشہیراتی مہم کے سلسلے میں ہمارے عوام کو تشہیراتی بموں اور میزائلوں کا نشانہ بنایا تھا اور سیٹلائت ٹی وی چینلوں اور اپنے جاسوسوں کے ذریعے عوام کو ناامید کرنے کی بھرپور کوشش کی تھی مگر عوام نے ثابت کرکے دکھایا کہ یہ تشہیراتی مہم نہ صرف قومی یکجہتی اور ملی اتحاد کو نقصان نہیں پہنچاسکتی بلکہ اس مہم کا نتیجہ بالکل معکوس ہے۔ انھوں نے کہا: دنیا کے بیشتر تشہیراتی اداروں سمیت بعض اندرونی ذرائع نے بھی صورتحال کو بالکل تاریک دکھانے کی کوشش کرتے ہوئے لوگوں میں ناامیدی پھیلانے کی کوشش کی اور ان کے ان اقدامات کا نتیجہ بپھرے ہوئے انسانوں کے ابھرتے ہوئے جذبات کی شکل میں نکلا اور انھوں نے دشمن کو ولایت فقیہ اور انقلاب اسلامی کی منفرد انداز میں حمایت کرکے دشمنوں اور ان کے تشہیراتی اداروں کو مایوسی اور ناامیدی کا تحفہ لوٹادیا۔ انھوں نے کہا کہ اس عظیم حماسۂ حضور و بصیرت کا دوسرا پیغام ان افراد کے لئے تھا جو ملک کے اندر انتحابات کے مسائل کی وجہ سے تخیلات اور توہمات کا شکارہوگئے تھے اور ملک میں فضا کی آلودگی کا باعث بن گئے تھے اور ان کا خیال تھا کہ "کامیابی مغربی تہذیب کے لئے مختص ہے اور انقلاب اسلامی کا سورج ڈوبنے والا ہے اور اب اس انقلاب کا جنازہ اٹھانے کا وقت ہے" اور اسی توہم کی بنا پر تیزرفتاری سے امریکہ اور برطانیہ کے قریب ہوگئے اور ان کے ساتھ خفیہ معاہدے کئے کہ اگر کامیابی ہوئی تو وہ ان کے لئے کیا کریں گے اور کیا نہیں کریں گے، بعض لوگوں نے ملک کے اندر مغربی ممالک کی قربت حاصل کی اور بعض لوگ بیرون ملک بھی گئے اور بیرونی قوتوں کو بھی یہ توہم آمیز خبر سنانے لگے کہ انقلاب کا کام ان ہی دنوں میں تمام ہورہا ہے مگر اللہ نے ملت ایران کو بصیرت کی دولت عطا کرکے تمام دشمنوں کو مایوس کردیا۔حجت الاسلام والمسلمین صدیقی نے کہا: ہم  دشوار ترین حالات میں بھی امامت اور ولایت کا دامن نہیں چھوڑیں گے اور شہداء کے پاک خون سے حاصل ہونے والی آزادی اور خودمختاری کو کسی حال میں بھی ضائع نہیں ہونے دیں گے اور کسی حال میں بھی دشمن کے اہداف کی خدمت نہیں کریں گے۔ آج معاشرے کے امن و امان کو بلؤوں کے ذریعے مخدوش کرنے والوں کے لئے کہیں بھی امن میسر نہیں ہے اور عوام کے نزدیک ان کی کوئی قدر و منزلت باقی نہیں رہی ہے اور عوام کا سامنا کرنے کی جرأت ان سے سلب ہوکر رہ گئی ہے؛ گو کہ یہ افراد اب بھی توبہ کرنے اور اظہار ندامت کرنے اور برائی و خیانت کا اعتراف کرنے اور ملک کو چیلنجوں میں دھکیلنے کا اعتراف کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں تاہم اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آخر کار یہ لوگ بھی ندامت کا اظہار کرہی لیں گے۔ انھوں نے مؤمنین کو تقوائے الہی کی تلقین کرتے ہوئے کہا: جو تقوی کے ہتھیار سے لیس ہو اللہ تعالی اس کو بصیرت کی دولت عطا فرماتا ہے اور وہ اجنبیوں کی سازشوں کا دھوکہ نہیں کھاتا اور فتنوں میں اپنی راہ کھو نہیں دیتا؛ تقوی اپنانے کی بدولت زندگی کے مسائل آسان ہوجاتے ہیں اور اگر آج ہمیں معیشت اور گھریلو مسائل میں نقائص کا شدید احساس ہے تو ظاہر ہوتا ہے کہ کسی مقام پر ہم نے تقوی کی رعایت نہیں کی ہے ورنہ حقیقت یہ ہے کہ زندگی اتنی بھی مشکل نہیں ہے۔ انھوں نے اربعین کے روز کربلا میں ہونے والے بم دھماکوں اور مارٹر حملوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ دھماکے بعثیوں کی موجودگی کی توجیہ کے لئے ہیں اور قابض قوتیں آنے والے انتخابات میں خود ہی بعثیوں کی شرکت کو جائز اور قانونی قرار دینے کی کوشش کررہی ہیں اور ان کی سازش کا مقصد یہ ہے کہ عراق کی مظلوم اور پسی ہوئی قوم کو ایک بار پھر سابقہ مصائب سے دوچار کردیں۔ یہ دھماکے قابضین اور امریکیوں کی ایما پر ہورہے ہیں تا کہ عراق کے لوگوں کو خوفزدہ کردیں اور عراق کا سیاسی ماحول ایک بار پھر بعثیوں کی موجودگی کے لئے تیار کردیں۔ انھوں نے اربعین حسینی کے ایام میں کربلائے معلی میں ایک کروڑ سے زائد زائرین اور عزاداروں کے عظیم اجتماع کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: دھماکے اور دہشت گردی کبھی بھی عشق امام حسین علیہ السلام میں خلل نہیں ڈال سکتے۔حجت الاسلام و المسلمین صدیقی نے کہا: جیسا کہ ملت ایران نے مکتب سیدالشہداء علیہ السلام سے سبق سیکھا اور ایران کے نوجوان بسیجیوں نے ملک کی نجات کی خاطر موت کا خندہ پیشانی سے استقبال کیا عراقی عوام بھی ایرانی عوام کے راستے پر گامزن ہیں جیسا کہ غزہ لبنان کی راہ پر گامزن ہوا اور لبنان نے ایران کے اسلامی انقلاب کی راہ کا انتخاب کیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ وہ راستہ ہے کہ امام عصر عجل اللہ فَرَجَہ الشریف کے ظہور پر منتج ہوگا۔حجت الاسلام والمسلمین صدیقی نے اس سے قبل پہلے خطبے میں جمعہ کے نمازگزاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: اسلامی جمہوریہ ایران کی وحدت، یکجہتی اور قوت و طاقت کا حصول ولایت فقیہ کے سائے میں ممکن ہوا ہے۔حجت الاسلام و المسلمین کاظم صدیقی نے خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور  حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام اور حضرت علی بن موسی الرضا علیہ السلام کی شہادت کی مناسبت سے تسلیت و تعزیت پیش کرتے ہوئے انسان کی سعادت میں رسول اللہ الاعظم (ص) کے کردار کی طرف اشارہ کیا اور کہا: یہ کہ رسول اللہ (ص) امّی تھے اور کسی مکتب کے پڑھے لکھے نہیں تھے، آپ (ص) کی بہت بڑی خصوصیت اور اللہ کی قدرت کا عظیم مظہر ہے۔ انھوں نے کہا: باطنی طور پر شدید اندھیرے کا شکار انسان کہتے ہیں کہ قرآن مجید رسول اللہ (ص) کی ذہنیت سے معرض وجود میں آیا ہے اور اس میں شک نہیں ہے کہ یہ افراد یا تو قرآن کی ترجیحات سے لاعلم ہیں یا پھر لاعلمی کا اظہار (تجاہل عارفانہ) کررہے ہیں اور منطق سے عاری سیاسی مصلحتوں کا شکار ہوگئے ہیں؛ یا تو یہ لوگ اپنی معلومات کو نظر انداز کررہے ہیں یا پھر گناہوں کی کثرت کی وجہ سے مسخ ہوگئے ہیں۔انھوں نے کہا: علوم و فنون جتنی بھی ترقی کرتے ہیں اور انسانی توانائیاں جتنی بھی پھل پھول جاتی ہیں تمام دانشور اور سائنسدان اور غیر معمولی ذہن کے مالک اہل دانش اسلام کی فکری قوت و عروج اور قرآن کی معجز نمائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عظمت و کرامت کے سامنے زانوئے تعظیم تہہ کرتے ہیں؛ قرآن عرفان، حکمت، حقوق و قوانین، سیاست، ثقافت و تعلیم و تربیت، اخلاق، خاندانی مسائل، جنگ و جہاد، خودسازی، انسان شناسی، وجود شناسی اور انسانوں کے لئے ضروری دیگر علوم و فنون میں منفرد انداز کا حامل ہے اور یہ واحد آسمانی کتاب ہے جس کے الفاظ ہماہنگ ہیں اور اس کا لب و لہجہ ابتداء سے انتہا تک ایک ہے اور اس کے عظیم معانی و مفاہیم ایک دوسرے کی تأئید کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا: انبیاء (ع) کا ایک بڑا مشن انسانوں کے ہاتھوں سے غلامی اور وابستگی کی زنجیریں کھولنا اور غلاموں کو احرار میں تبدیل کرنا ہے اور اس عظیم کتاب میں ـ جو رسول اللہ (ص) کی عظیم یادگار ہے ـ انسانوں کے تمام حوائج و ضروریات کا جواب موجود ہے۔ انھوں نے کہا: رسول اللہ (ص) نے گناہوں، خرافہ پرستی اور دھونس دھمکی کا بوجھ انسان کے کندھوں سے اتار پھینکا اور ترقی و پیشرفت کی راہ میں حائل غل و زنجیر انسان کے ہاتھ پاؤں سے کھول دیئے اور انسان کو آزادی اور حریت کی لذت سے روشناس کرایا۔


All Content by AhlulBayt (a.s.) News Agency - ABNA is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License