آيت‌اللہ العظمی نوري:

عوام میدان عمل میں موجود رہیں تو فتنوں کی آگ بجھ جاتی ہے

حضرت آيت اللہ العظمی حسين نوري ہمداني نے کہا: اگر لوگ میدان عمل میں موجود رہیں تو تمام فتنوں کی آگ بجھ جاتی ہے اور ذمہ دار افراد کو چاہئے کہ عوام کو میدان عمل میں با استقامت رکھنے کی فکر کریں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق آیت اللہ العظمی نوری ہمدانی نے شہید و جانباز فاؤنڈیشن (بنیاد شہید و ایثارگران)، کے سربراہ و دیگر ذمہ دار اہلکاروں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: عوام کو ہر وقت میدان عمل میں حاضر رہنا چاہئے ہمارے مہذب عوام انقلاب کی عظمت اور اس کے فوائد و اثرات کا ادراک رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا: 30 دسمبر کے روز عوام کی میدان میں عمل میں حاضری نے ہی تمام فتنوں کو ناکام بنایا۔ آيت اللہ العظمی نوري ہمداني نے کہا: ہماری ذمہ داری ہے کہ بے روزگاری، مہنگائی اور غربت کا خاتمہ کریں کیونکہ ایسی صورت میں عوام انقلاب کے ابتدائی ایام کی مانند اسلامی نظام کی پشت پناہی کرین گے۔ انھوں نے ملکی حکام سے مخاطب ہو کر کہا: لوگوں کو راضی رکھیں، مہنگائی، غربت، اور امتیازی رویوں کا خاتمہ کریں تا کہ لوگوں کے لئے نعمتوں کی فراوانی کے اسباب فراہم ہوں۔ انھوں نے کہا: نظام کی بنیاد اسلام پر استوار ہے؛ اسلام شہنشاہی نظام میں کنارے لگایا گیا تھا مگر امام خمینی (رح) نے خالص محمدی اسلام ملک میں رائج و نافذ کیا اور ہمیں اسلامی اقدار کی حفاظت کرنی چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے دشمنوں نے موجودہ حالات میں ولایت فقیہ کو اپنے نشانے پر لیا ہوا ہے اور ولایت فقیہ پر بہتان تراشیان کررہے ہیں کیونکہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ولایت فقیہ ہی وہ واحد حقیقت ہے جو انقلاب اسلامی کی حفاظت کررہی ہے اور ایک عادل ولی فقیہ کا حصول ـ جو مدیر، مدبر اور شجاع بھی ہو ـ آسان نہیں ہے۔ انھوں نے کہا: عشرہ فجر نزدیک ہے اور 11 فروری (22 بہمن) جوش و خروش کا دن ہے اور ہم اس سال گذشتہ برسوں سے کہیں زیادہ اور بہتر انداز میں فتنہ گروں کے سامنے کھڑے ہونگے اور زیادہ سے زیادہ جوش و خروش کے ساتھ 11 فروری کی تقریبات اور ریلیوں میں شریک ہوکر فتنے کا قلع قمع کرنا ہوگا۔انھوں نے ملاقات کے لئے آنے والے شہیدوں اور جانبازوں کے خاندانوں سے مخاطب ہوکر کہا: آپ نے عظیم تحفے اسلامی انقلاب کی خدمت میں پیش کئے ہیں اورآپ نے اسلامی نظام کی بہترین خدمت کی ہے اور آپ کے عزیزوں کا خون اسلام اور انقلاب کی برقراری اور استواری کا سبب بن گیا ہے اور روشنی کا فجر آپ کی پاک نیتوں کی برکت سے طلوع ہوا ہے؛ بعض خاندانوں نے دو یا تین شہیدوں کا نذرانہ پیش کیا ہے اور اب بھی باقی فرزندوں کا نذرانہ پیش کرنے کے لئے تیار ہیں اور جس قوم میں ایسے جذبات پائے جاتے ہوں وہ کبھی بھی کمزور اور عاجز نہیں ہوسکتی؛ امام (رح) نے شہداء کی برکت سے اسلامی تحریک کو آگے بڑھایا کیونکہ حق و باطل کے ٹکراؤ کے وقت شہیدوں کا خون اور جہاد ہی مؤثر ہوتا ہے۔ آیت اللہ العطمی نوری ہمدانی نے کہا: عشرہ فجر استبداد و استکبار کی شدید ناکامی کا روشن مصداق ہے اور انقلاب کی کامیابی کے تین ارکان "عوام، اسلام اور ولایت" ہیں۔انھوں نے کہا: حضرت امام خمینی (رہ) نے عوام کو میدان عمل میں حاضر، تیار اور آگاہ کیا جبکہ اسلامی انقلاب سے قبل کی فضا میں انقلابی فکر حکمفرما نہ تھی اور عوام صدیوں تک استبدادیوں کے جوتوں تلے پِستے رہےتھے۔ انھوں نے کہا کہ ایران کا اسلامی انقلاب سن 1963 سے شروع ہوا اور 1979 کے ابتدائی مہینوں تک جاری رہا اور امام خمینی (رح) نے اس انقلاب کو عوام کی مدد سے کامیابی سے ہمکنار کیا۔


All Content by AhlulBayt (a.s.) News Agency - ABNA is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License