رہبر معظم انقلاب اسلامی:

ذمہ دار حکام کی ذمہ داری محنت اور تدبیر ہے

کسی کو بھی یہ کہنی کا حق نہیں پہنچتا کہ "میری کوئی ذمہ داری نہیں ہے بلکہ سب کو اسلام، عوام کے حقوق اور ملک کی عزت و عظمت کے سلسلے میں ذمہ داری کا احساس ہونا چاہئے / اگر مسلمان کی حیثیت سے زندگی گذارنا چاہیں تو طاقتور بننا پڑے گا / حکام کوشش کریں کہ مسائل کو "تدبیر کے پنجے"، محنت و کوشش اور "خدا پر توکل"کے ساتھ حل کریں / حکام کی حمایت کا مطلب ہرگز یہ نہیں ہے کہ ہم ان پر تنقید ہی نہ کریں اور انہیں متنبہ ہی نہ کریں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ نے شہر "آمل" سمیت صوبہ مازندران کے مختلف شہروں سے آئے ہوئے ہزاروں افراد ـ اور صوبائی حکام و علمائے کرام ـ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے تاریخی واقعات کو سبق آموز قرار دیا اور  گذشتہ تین عشروں کے دوران عوام کے ایمان و کیاست اور میدان عمل میں ان کی مسلسل موجودگی کے باعث دشمنوں کی مختلف سازشوں کی ناکامی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: آج بھی عوام ـ بالخصوص نوجوانوں، معاشرے کے مؤثر اور بانفوذ افراد ـ کی اہم ترین ذمہ داری یہ ہے کہ انقلاب اسلامی اور اسلامی نظام کے دفاع کے میدان میں حاضر و موجود رہیں اور اپنی ذمہ دار شخصیات پر اعتماد کریں اور ذمہ دار شخصیات کی اہم ترین ذمہ داری یہ ہے کہ رکے بغیر محنت اور کوشش کریں، مسائل و مشکلات کو حل کرنے کے لئے تدبیر سے کام لیں اور اور ملک کے آگے بڑھنے کی رفتار کو تیز تر کردیں. رہبر انقلاب اسلام نے اس تقریب میں ـ جو 26 جنوری 1982 کو  شہر آمل کے عوام کے عظیم کارنامے کی مناسبت سے منعقد ہوئی تھی ـ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: 26 جنوری کے روز آمل کے مؤمن اور انقلابی عوام کا قیام اس قدر اہم تھا کہ امام خمینی (رح) نے اپنے وصیت نامے میں بھی اس کا ذکر کیا تا کہ اس واقعے کو فراموش نہ کیا جائے اور آنے والی نسلوں کے لئے محفوظ رہے. حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے انقلاب اسلامی کے مختلف واقعات ـ بالخصوص آمل کے عوام کے 26 جنوری 1982 کے قیام ـ سے درس و عبرت حاصل کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے فرمایا: آمل کو  شہر ہزار سنگر (ایک ہزار مورچوں والے شہر) کا نام دیا گیا جس کا ظاہری مفہوم ان مورچہ بندیوں سے تعلق رکھتا ہے جو 26 جنوری 1982 کو آمل کی سڑکوں پر نظر آرہی تھیں مگر اسی نام کا حقیقی مفہوم دلوں میں موجود مورچوں سے متعلق ہے اور اس تعبیر کے مطابق اس شہر کے ہر مؤمن انسان کے دل میں دشمن کی یلغار کا راستہ روکنے کے لئے ایک مورچہ قائم ہے.

آپ نے معینہ اہداف و مقاصد تک پہنچنے میں بعض اقوام کی تحریکوں کی ناکامی کے اسباب اور ان تحریکوں کو درپی‍ش آفات و مسائل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ان اقوام کے رک جانے اور متوقف ہوجانے اور ان کی تحریکوں کی ناکامی کا سبب یہ تھا کہ وہ اقوام خطروں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیار نہ تھیں اور تاریخی واقعات و حوادث کا ایک سبق یہ ہے کہ آنے والے خطروں کا مقابلہ کرنے کے لئے تیاری کی جائے اور ان خطرات کی صحیح شناخت کی جائے۔رہبر انقلاب اسلامی نے انقلاب کے تین عشروں کے واقعات اور بعض تفکرات اور گروہوں کے انحراف اور ان گروہوں کے عوام کے مدمقابل کھڑے ہونے کے اسباب کا تجزیہ کرتے ہوئے فرمایا: انقلاب کے ابتدائی ایام میں بعض افراد اور گروہ ـ جو منورالفکری (Intellectuality) اور عوامی رائے کے دفاع کے دعویدار بھی تھے اور جمہوریت کے نعرے بھی لگایا کرتے تھے ـ اس ملت کے مد مقابل آکھڑے ہوئے جس نے بھاری قیمت ادا کرکے اسلامی نظام کو اقتدار تک پہنچایا تھا اور ملت نے ہی اس نظام کو رائے دی تھی اور ان بظاہر منورالفکر گروہوں نے عوام کے خلاف مسلحانہ جنگ لڑی۔ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے ان تفکرات اور گروہوں کی طرف اشارہ کیا جن میں منافقین، کافر افراد، مغرب نواز افراد اور حتی ظاہری طور پر دینداری کا اظہار کرنے والے افراد شامل تھے اور فرمایا: ان افراد اور گروہوں نے ابتداء میں منورالفکری پر مبنی موقف اپنا اکر امام خمینی (رح) کی فکر اور اسلامی جمہوریہ پر اعتراض کیا اور پھر قدم بقدم انھوں نے فکری اور سیاسی جنگ کو مسلح بغاوت اور بلؤوں میں تبدیل کرکے جنگ کے زمانے میں عوام اور حکام کے لئے تکلیف و زحمت کے اسباب فراہم کئے۔آپ نے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران کا تشخص درحقیقت عوام اور ان کی عزم و ایمان کا تشخص ہے؛ اس دور میں اللہ کی لطف و ہدایت کے سائے میں لوگ میدان میں اترے اور تمام سازشوں کو ناکام بنایا؛ گو کہ دشمن کی سازشوں کی ناکامی کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اس کی سازشیں ختم ہوگئی ہیں لیکن اہم بات یہ تھی کہ عوام میدان عمل میں حاضر تھے اور انھوں نے اپنی پیشقدمی آج تک جاری رکھی ہوئی ہے۔ آپ نے گذشتہ تیس برسوں کے دوران اسلامی نظام کے مخالف محاذ کی کارکردگی پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا: اس محاذ میں ہمیشہ کے لئے دو بڑی غلطیان موجود رہیں؛ پہلی غلطی یہ تھی کہ یہ لوگ اپنے آپ کو ملت اور عوام سے برتر و بالاتر سمجھتے تھے اور دوسری یہ کہ انھوں نے اپنی تمام امیدیں ملت ایران کے دشمنوں سے وابستہ کررکھی تھیں۔ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے مخالفین کی پہلی غلطی کا تجزیہ کرتے ہوئے فرمایا: اپنے آپ کو عوام سے برتر و بالاتر سمجھنے کا نتیجہ یہی ہوتا ہے کہ اگر لوگ ایک قانونی حرکت، یا اقدام یا انتخاب کریں تو یہ حضرات اس اقدام کی مخالفت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ عام اور سادہ لوگوں کا اقدام یا انتخاب ہے اور وہ لوگوں کو سادہ اور ناسمجھ قرار دینے لگتے ہیں۔آپ نے مخالفین کی اسلامی نظام کے دشمنوں سے دلبستگی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: گذشتہ تیس برسوں کے دروان امریکی حکومت، صہیونی حکام اور دنیا کی تمام صہیونی ملت ایران کے بدترین دشمن رہے ہیں اور آج بھی حق و انصاف یہی ہے کہ وہ ہمارے دشمن ترین دشمن ہیں اور ان دشمنوں سے امیدیں وابستہ کرنا عظیم غلطی ہے۔ رہبر انقلاب نے فرمایا: جب ہمارا دشمن میدان میں اتر آیا ہے تو ہمیں بھی اس مسئلے کو سمجھ لینا چاہئے اور اگر ہم کسی غلطی کے مرتکب بھی ہوئے ہیں تو اس کی تصحیح کرنی چاہئے۔حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے گذشتہ تیس سالوں کے دوران امریکی سازشوں کی ناکامی کو بہت واضح و آشکار قرار دیا اور فرمایا: سازشوں کی ناکامی کی دلیل یہ ہے کہ آج اسلامی جمہوریہ ایران ابتدائی برسوں سے دسیوں گنا زیادہ طاقتور ہوگیا ہے اور اپنے راستے پر زیادہ تیز رفتاری اور زیادہ قوت کے ساتھ گامزن ہے۔ آپ نے فرمایا: سابقہ سازشوں میں ناکامیوں سے دشمن نے کوئی عبرت نہیں لی اور اب نئی سازشوں میں مصروف ہے اور درحقیقت پرانی سازشیں دہرا رہا ہے اور یہ مسئلہ واقعی حیرت انگیز ہے؛ امریکیوں کا کہنا ہے کہ انھوں نے 45 ملین ڈالر کا بجٹ منظور کیا ہے تا کہ انٹرنیٹ کے ذریعے اسلامی جمہوریہ ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کریں اور یہ رشمن کی انتہائی عاجزی اور درماندگی کا ثبوت ہے کیونکہ انھوں نے اب تک سفارتی اقدامات، پابندیوں، جاسوس روانہ کرنے، کرائے کے ایجنٹ بھرتی کرنے اور دیگر روشوں کو بروئے کار لانی پر 45 ملین ڈالر سے دسیوں گنا زیادہ رقم خرچ کی ہے مگر انہیں ان اقدامات سے کوئی نتیجہ نہیں مل سکا ہے۔رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا: دشمن انقلاب اسلامی اور اس کی عوامی قوت کی فہم و ادراک سے دشمن کی عاجزی کو سنت الہیہ قرار دیا اور اور فرمایا: ملت ایران کی دشمنوں نے طویل عرصی تک منصوبہ بندی کی تھی تا کہ تہران میں آشوب اور فتنہ کھرا کرسکیں لیکن کیا ان کی منصوبہ بندیوں کا نتیجہ اس کی سوا کچھ اور تھا کہ "عوام اسلامی جمہوریہ کی دفاع کی حوالی سے زیادہ سے زیادہ بیدار اور ہوشیار ہوگئی؟"۔حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا: حالیہ واقعات اس امر کا باعث ہوئے کہ لوگوں نے اسلامی جمہوریہ کے دفاع کے سلسلے میں میدان عمل میں حاضر ہونے کے حوالے سے ذمہ داری کا زیادہ سے زیادہ احساس کیا۔آپ نے فرمایا: البتہ بعض مواقع پر دشمن کی منصوبہ بندی کا مقصد یہ تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو بلیک میل کیا جاسکے مگر ہمارے امام بزرگوار رحمۃ اللہ علیہ کبھی بھی بلیک میل نہیں ہوئے اور "سب جان لیں کہ ہم بھی ملت ایران کی طرف سے اور اپنی طرف سے کسی کے سامنے سرتسلیم خم نہیں کریں گے اور بلیک میل نہیں ہونگے"۔آپ نے فرمایا: ملت ایران اپنے حق پر مبنی موقف پر ڈٹی ہوئی ہے اور کسی صورت میں بھی قدم پیچھے نہیں ہٹائے گی؛ ملت ایران مستقل، متحرک (Dynamic)، آگے کی طرف پیشقدمی کرنے والی، اسلامی احکام پر عمل کرنے والی اور اپنے حقوق اور عقائد کے دفاع کے سلسلے میں قوی اور طاقتور قوم رہنا چاہتی ہے؛ تو کیا عوام کی یہ حق بجانب خواہش جرم و گناہ ہے؟ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا: ہم اسلامی احکام کی روشنی میں یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ جب حق اور باطل ایک دوسرے کی مدمقابل کھڑے ہوجائیں اور اس حال میں حق و حقیقت کے ساتھی اپنے حق بجانب مطالبات اور خواہشات کے حصول کے لئے استقامت کریں تو باطل قطعی طور پر ناکام ہوگا اور گذشتہ تیس برسوں کے تجربے سے بھی یہی حقیقت ثابت ہوچکی ہے۔ آپ نے موجودہ حالات میں عوام او حکام کے فرائض کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: لوگوں اور حکام ـ بالخصوص نوجوانوں اور بااثر لوگوں ـ میں سے ہر فرد کی اہم ترین ذمہ داری یہ ہے کہ میدان عمل میں حاضر رہنے کی ذمہ داری کے احساس کی حفاظت کریں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے زور دے کر فرمایا: آج کسی کو بھی یہ کہنے کا حق حاصل نہیں ہے کہ "مجھ پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی اور میرا کوئی فریضہ نہیں ہے" بلکہ اسلامی جمہوری نظام کا دفاع  ہر فرد کی ذمہ داری ہے اور اس نظام کا دفاع درحقیقت عوامی حقوق اور ملک کی عزت و عظمت کا دفاع ہے اور ہر فرد کو اس سلسلے میں ذمہ داری کا احساس ہونا چاہئے۔ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا: عوام نے ذمہ داری کا احساس تسلسل کے ساتھ ثابت کرکے دکھایا ہے اور اسی احساس ذمہ داری کا زندہ ثبوت 30 دسمبر کی عظیم عوامی ریلیاں تھیں اور 22 بہمن (11 فروری) کو بھی ملت ایران ہمیشہ کی طرح اپنے نشاط اور اور آمادگی کا ثبوت دے گی۔ آپ نے فرمایا: حکام کی ذمہ داری ہے کہ مسائل کے حل کے سلسلے میں محنت، کوشش اور تدبیر کو اپنا فریضہ سمجھیں اور ایک لمحے کے لئے بھی اس فریضے سے غفلت نہ برتیں۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا: ملک کی آگے کی جانب پیشقدمی ایک لمحے کے لئے بھی سست نہیں ہونی چاہئے بلکہ اس کی رفتار تیز سے تیزتر اور ہمہ پہلو ہونی چاہئے۔ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا: عوام کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے حکام پر اعتماد کریں اور ان کی پشت پناہی کریں کیونکہ دشمن کی سازشوں کا ایک ہدف یہ ہے کہ حکام پر عوام کے اعتماد کو سلب کیا جائے اور سب کو اس سلسلے میں ہوشیار رہنا چاہئے۔ آپ نے فرمایا: البتہ حکام کی حمایت اور پشت پناہی کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ انہیں کبھی بھی کسی بات کی یادآوری نہ کرائی جائے اور ان پر صحیح اور بجا تنقید نہ کی جائے مگر یہ یاد آوری اور ضروری تنقید ایک مورچے میں بیٹھے دو مجاہدین کی آپس کی تنقید و تجویز کی مانند ہونی چاہئے ایسا نہ ہو کہ ہماری تنقید کا مقصد مقابلہ اور نزاع ہو۔ رہبر انقلاب اسلامی نے فرمایا: ایسی بہت سے نشانیاں موجود ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ کا دست قدرت اس ملت کی پشت پناہی کررہا ہے اور اللہ تعالی اپنے فضل و عنایت اور حضرت ولی عصر ارواحنا فداہ کی مستجاب دعاؤں کے صدقے اس ملت کو اس کے عظیم اور اعلی اہداف و مقاصد تک پہنچائے گا اور دشمن کو اس ملت کے سامنے خوار و ذلیل کرے گا۔ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اپنے خطاب کے آخر میں ایک بار پھر مازندران ـ بال


All Content by AhlulBayt (a.s.) News Agency - ABNA is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License