حج کے موقع پر ولی امر مسلمین کا پیغام:

یمن میں برادرکشی نے امت اسلامی کا قلب داغدار کیا ہے

حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے حجاج کرام کو اس مبارک موقع سے حصول فیض اور فرائض کی شناخت کا فائدہ اٹھانے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا: باہمی رشتوں کا استحکام، استعمار کے متعدد چہروں والے دیو کے مد مقابل استقامت کی تقویت اور قول و فعل میں مشرکین سے برائت و بیزاری کا اظہار امت مسلمہ کی اولین ذمہ داری ہے۔

 رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے حج کے عظیم اجتماع کے نام اپنے پیغام میں حجاج کرام کو اس مبارک موقع سے حصول فیض اور فرائض کی شناخت کا فائدہ اٹھانے کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا: آج امت اسلامی کا بنیادی فریضہ الفت، اخوت، باہمی رشتوں کا استحکام، استعمار کے متعدد چہروں والے دیو کے مد مقابل استقامت کی تقویت اور قول و فعل میں مشرکین سے برائت و بیزاری کا اظہار امت مسلمہ کی اولین ذمہ داری ہے۔

پیغام کا متن:

بسم اللَّہ الرحمن الرحيم

حج کا موسم معنویت و روحانیت اور عالمی آفاق میں توحید کی تابندگی کی بہار ہے؛ اور حج کی رسم شفاف چشمہ ہے جو حاجی کو گناہ اور غفلت کی آلودگی سے پاک کرتا ہے اور اس فطرت کی نورانیت و پاکیزگی کو اس کے دل و جان میں لوٹا دیتا ہے۔ میقات کے مقام پر لباس تفاخر و امتیاز اتار کر احرام کا عمومی اور یکرنگ لباس زیب تن کرنا امت اسلامی کی یکرنگی اور اتحاد کی علامت اور دنیا کے ہرگوشے میں مسلمانوں کی یکدلی اور وحدت و یگانگت کا علامتی فرمان ہے۔

حج کا شعار ایک طرف سے " فَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَلَهُ أَسْلِمُوا وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ " (1) ہے تو دوسری طرف سے " وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِي جَعَلْنَاهُ لِلنَّاسِ سَوَاء الْعَاكِفُ فِيهِ وَالْبَادِ" (2) ہے اور اس طرح کعبہ "کلمہ توحید" کی نمائندگی بھی کرتا ہے اور توحیدِ کلمہ اور اسلامی برادری اور برابری کا مظہر بھی ہے۔

دنیا کے چار گوشوں سے طواف کعبہ اور حرم رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زیارت کے شوق کی بنا پر اس مقام پر اکٹھے ہونے والے مسلمانوں کو اس موقع سے استفادہ کرتے ہوئے باہمی اتحاد اور یکدلی کا رشتہ مستحکم کرنا چاہئے کہ اتحاد اور یکجہتی امت اسلامی کے بہت سے بڑے دکھوں کا علاج ہے۔

آج ہم واضح و آشکار طور پر دیکھتے ہیں کہ عالم اسلام کے بدخواہوں کے ہاتھ ماضی سے کئی گنا زیادہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف افکنی اور تفرقہ اندازی میں مصروف عمل نظر آرہے ہیں چنانچہ یقینی امر ہے کہ امت مسلمہ کو آج گذشتہ ادوار سے کہیں زیادہ یکجہتی اور وحدت و یگانگت کی ضرورت ہے۔

آج دشمنوں کے خونی چنگل عالم اسلام کے کے ہر گوشے میں مسلمانوں کے لئے المیئوں کا سبب بن رہے ہیں؛ فلسطین صہیونیوں کی خباثت کے زیر تسلط ہے؛ مسجد الاقصی سنجیدہ خطرات میں گھری ہوئی ہے؛ غزہ کے عوام المناک نسل کشی کے بعد سے اب تک دشوار ترین حالات سے گذر رہے ہیں؛ افغانستان قابضین کے بوٹوں تلے ہر روز ایک نئی مصیبت سے دوچار ہے؛ عراق میں امن و امان کے فقدان نے لوگوں کا سکون و اطمینان چھین لیا ہے؛ اور یمن میں برادرکشی نے مسلمانوں کے قلب پر ایک نیا داغ رکھ لیا ہے۔

پوری دنیا کے مسلمانوں کو سوچنا چاہئے کہ حالیہ برسوں میں عراق، افغانستان اور پاکستان میں شروع ہونے والے فتنوں، جنگوں، دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور اندھادھند دہشت گرد حملوں اور قتل عام کے واقعات کیونکر شروع ہوئے ہیں اور ان کی منصوبہ بندی کہاں ہورہی ہے؟

علاقے میں امریکہ کی سرکردگی میں مغربی افواج کے تحکم آمیز مالکانہ داخلے سے قبل علاقے کی قوموں کو اس طرح کے واقعات اور مصائب وغم و حزن کا سامنا کیوں نہیں تھا؟

قابضین و غاصبین ایک طرف سے فلسطین، لبنان اور دیگر علاقوں میں مزاحمتی تحریکوں کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں اور دوسری طرف سے علاقے کی قوموں کے درمیان درندگی پر مبنی فرقہ وارانہ اور قومی و قبائلی دہشت گردی کو فروغ دیتے ہیں اور اس کی سرپرستی اور راہنمائی کرتے ہیں۔

مشرق وسطی اور شمالی افریقہ کے عوام ایک صدی سے بھی زائد عرصے تک برطانیہ اور فرانس و دیگر مغربی ممالک اور بعد ازاں امریکہ کے ہاتھوں استحصال و استعمار کا نشانہ بنے رہے؛ ان کے ممالک زیر قبضہ رہے، ان کی تذلیل ہوئی ان کے قدرتی وسائل کو غارت کیا گیا اور ان کے اندر حریت پسندی اور مزاحمت و استقامت کے جذبات کا گلا گھونٹ دیا گیا اور ان ممالک میں بسنے والی قومیں جارح اجنبیوں کی لالچ کے ہاتھوں یرغمال بن گئیں۔ اور جب اسلامی بیداری ظہور پذیر ہوئی اور قوموں کی مزاحمتی تحریکوں نے بین الاقوامی لٹیروں کے لئے سابقہ غارتگرانہ اعمال ناممکن بنائے تو "شہادت"، "عروج الی اللہ" اور ہر عمل "فی سبیل اللہ" کا مسئلہ ایک بار پھر اسلامی جہاد کے میدان میں ـ ایک بے مثال و بے بدیل عامل کی شکل میں ـ نمودار ہوا تو منفعل اور شکست خوردہ جارحوں نے مکاری اور حیلہ گری پر مبنی اقدامات کا سہارا لیا اور انھوں نے استعمار کی سابقہ شکل کو خیرباد کہہ کر استعمار کی نئی شکل پر عمل کرنا شروع کیا۔ لیکن آج

لیکن آج استعمار کا کئی چہروں والا دیو اسلام کو گھٹنے ٹیکنے پرمجبور کرنے کی غرض سے اپنی پوری طاقت اور تمام تر توانائیان میدان میں اتار چکا ہے؛ فوجی قوت، آہنی مکے اور آشکار قبضے سے لے کر تشہیرات کے شیطانی نیٹ ورکس قائم کرنے، جھوٹ پھیلانے کے لئے ہزاروں قسم کے تشہیراتی وسائل کو بروئے کار لانے اور بیرحمانہ قتل و غارت کے لئے دہشت گرد ٹیمیں تشکیل دینے سے لے کر اخلاقی فساد و فحشاء اور منشیات کی ترویج اور نوجوان نسلوں سے عزم و ارادے کی قوت اور اخلاق و پاکیزہ جذبات سلب کرنے تک اور مزاحمتی مراکز پر ہمہ جہتی سیاسی یلغار سے لے کر قومی اور فرقہ وارانہ نخوتوں اور عصبیتوں کو ہوادینے اور بھائیوں کے درمیان دشمنیان ڈالنے تک۔

اگر مسلمان قوموں اور اسلامی فرقوں اور مکاتب کے درمیان محبت، حسن ظن اور یکدلی اور محبت بدظنی اور غلط فہمی کی جگہ لے لے ـ جبکہ بدظنی اور غلط فہمی دشمنوں کی خواہش ہے ـ تو دشمنوں اور بدخواہوں کی سازشوں کا ایک بہت بڑا حصہ ناکارہ اور ناکام ہوجائے گا اور امت مسلمہ پر ان کے ہمہ جہت تسلط کے لئے ان کی مذموم سازشوں اور منصوبوں کو ناکام اور عقیم بنایا جاسکے گا۔

حج اس عظیم مقصد کے حصول کے لئے بہترین اور برترین مواقع میں سے ایک ہے۔

قرآن و سنت مسلمانوں کے درمیان تعاون اور اشتراکات کا سہارا لینے کی ضرورت کی شہادت دیتے ہیں اور یقینا مسلمان ان اشتراکات کا سہارا لے کر مقتدر اور طاقتور و قوی بن جائیں گے اور کئی چہروں والی اس ابلیسی قوت کے مد مقابل پامردی کے ساتھ ڈٹ کر اسے اپنے ارادے اور ایمان کی قوت کے ذریعے مغلوب کرسکیں گے۔

اسلامی ایران "امام خمینی کبیر" کی تعلیمات کا اتّباع کرنے کی بدولت اس کامیاب مزاحمت کی عملی اور کامیاب مثال ہے۔ انہیں اسلامی ایران میں شکست فاش ہوئی ہے۔ انھوں نے تیس برسوں سے مسلسل حیلہ گریوں، مکاریوں، سازشوں اور عداوتوں سے لے کر فوجی کودتا کے ذریعے اسلامی نظام کا تختہ التنے کی سازش اور آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ تک، معاشی اور تجارتی پابندیوں سے لے کر اثاثے منجمد کرنے تک، نفسیاتی اور تشہیراتی یلغار اور ذرائع ابلاغ کی صف آرائی سے لے کر علمی اور سائنسی ترقی اور جوہری دانش سمیت سائنسی ترقی اور علمی پیشرفت کی راہ میں روڑے اٹکانے تک اور حتی حالیہ عظیم الشان انتخابات کے بامعنی اور پر شکوہ واقعے میں اعلانیہ مداخلت اور فتنہ انگیزی تک ساری کی ساری دسیسہ کاریان دشمن کی شکست و رسوائی اور انفعال


All Content by AhlulBayt (a.s.) News Agency - ABNA is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License