رہبر انقلاب:

اسلام کو خطرناک اور ایران کو مہلک ظاہر کرنا، سامراج کے دو حربے

اس وقت دشمنوں کے مقابلے میں استقامت اور عز و وقار، قدرت و توانائی اور اسلامی ترقی کی بلندیوں تک رسائی کے لئے مسلم امہ اور مسلم حکومتوں کی سب سے بڑی ضرورت الہی صراط مستقیم کی سمت واپسی، اسلامی احکام کی حکمرانی اور اتحاد و یکجہتی کی حفاظت کے ساتھ ساتھ سیاسی و جغرافیائی توانائیوں سے بھرپور استفادہ کرنا ہے۔

20-09-2009  قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے عید الفطر کے دن اسلامی نظام کے عہدہ داروں، اسلامی ممالک کے سفیروں اور عوامی طبقات سے ملاقات میں اسلامی عیدوں بالخصوص عید فطر کو صلاحیتوں، توانائيوں اور موجودہ حالت اور مستقبل پر نظر ڈالنے اور نقائص و عیوب کی شناخت کا اہم موقع قرار دیا اور فرمایا: اس وقت دشمنوں کے مقابلے میں استقامت اور عز و وقار، قدرت و توانائی اور اسلامی ترقی کی بلندیوں تک رسائی کے لئے مسلم امہ اور مسلم حکومتوں کی سب سے بڑی ضرورت الہی صراط مستقیم کی سمت واپسی، اسلامی احکام کی حکمرانی اور اتحاد و یکجہتی کی حفاظت کے ساتھ ساتھ سیاسی و جغرافیائی توانائیوں سے بھرپور استفادہ کرنا ہے۔ قائد انقلاب اسلامی نے ملت ایران کو ایک نمونہ عمل قرار دیا اور اسلامی انقلاب سے قبل کی ایرانی قوم کی حالت زار اور صیہونی حکومت کے حامیوں کی صف میں خائن پہلوی حکومت کی شمولیت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: اسلامی انقلاب کی کامیابی اور اسلام کی حکمرانی کی برکت سے ملت ایران اس وقت صیہونی حکومت کے مقابلے میں پیش پیش ہے اور یہ قوم دنیا کے گستاخ سامراجی عناصر کے مقابلے میں اپنی استقامت و پائیداری پر فخر کرتی ہے۔قائد انقلاب اسلامی نے ترقیوں اور اہم سائنسی پیشرفت اور اسلامی نظام کے سیاسی وقار کے میدان میں ملت ایران کی بھرپور موجودگی کو اسلام کی حکمرانی کا ثمرہ قرار دیا اور فرمایا: ایران کا اسلامی نظام اسلامی احکام کی مکمل حکمرانی کا دعوی تو نہیں کرتا لیکن ملت ایران جس حد تک اسلامی احکام پر عمل آوری میں کامیاب رہی ہے اتنی مقدار میں اس کے ثمرات کا مشاہدہ بھی کر رہی ہے۔ یہ امت مسلمہ کے لئے نمونہ عمل اور اہم تجربہ ہے۔قائد انقلاب اسلامی نے مسلم حکومتوں اور قوموں کے ما بین اتحاد و یکجہتی کے فقدان اور اس صورت حال سے فائدہ اٹھانے کی دشمنوں کی کوششوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: اگر امت مسلمہ متحد ہوتی اور اپنے تمام سیاسی و جغرافیائی وسائل سے استفادہ کرتی تو فلسطینی عوام اور غزہ میں رہنے والوں کی یہ حالت نہ ہوتی اور توسیع پسند طاقتیں یہ نہ کر پاتیں کہ اپنے منصوبے اسلامی حکومتوں پر مسلط کریں اور انہیں چوں چرا کی اجازت نہ دیں۔ آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے فرمایا: ان حالات میں اگر صیہونی غاصبوں کے خلاف کوئی بات کہی جاتی ہے تو دشمن اپنے تشہیراتی حربوں کے ذریعے تہمت و الزام کا سیلاب جاری کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کچھ لوگ اقوام متحدہ کی ایک رکن حکومت کو مٹا دینا چاہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: صیہونی حکومت ایک جعلی حکومت ہے جس نے ایک قوم کو تباہ کرکے رکھ دیا ہے اور انسانی حقوق کے دعویدار بھی ان آشکارا جرائم اور مظالم پر آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں۔ قائد انقلاب اسلامی نے صیہونی حکومت کو فوجی ساز و سامان کے ذریعے صفحہ ہستی سے مٹا دینے کی اسلامی جمہوریہ ایران کی کوششوں پر مبنی مغربی ذرائع ابلاغ کے جھوٹے دعوؤں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: مسئلہ فلسطین کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کے پاس ایک منطقی اور انسانی منصوبہ ہے جسے اس نے پیش کیا ہے۔قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا کہ قرآن اور اسلامی احکام کی بنیاد پر اسلامی نظام کی پالیسی مظلوم کا دفاع کرنا ہے اور اسلامی نظام سے سامراج کی دشمنی کی اصلی وجہ یہی ہے۔ قائد انقلاب اسلامی نے اسلام کو خطرناک اور ایران کو مہلک ظاہر کرنا اسلامی دنیا کے اتحاد و یکجہتی کو روکنے کے سامراج بالخصوص امریکا کے دو حربے قرار دیا اور فرمایا: امریکی حکومت نے اپنے سابق صدر کے دور میں عالم اسلام منجملہ ایران کے خلاف بڑے اقدامات کئے جبکہ موجودہ امریکی حکومت بھی ظاہری طور پر دوستانہ نظر آنے والے پیغاموں اور باتوں کے باجود انہیں دونوں حربوں کو استعمال کر رہی ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی نے ایرانی میزائلوں کے خطروں کے تعلق سے امریکی حکام کے دعوؤں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ دعوی در حقیقت ایسی تہمت ہے جو ایران کو خطرناک ظاہر کرنے کے حربے کے تحت لگائی جا رہی ہے جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران نے گزشتہ تیس برسوں میں کسی بھی ملک کے خلاف جارحیت نہیں کی اور اسلامی و ہمسایہ ممالک کے ساتھ ایران کی پالیسی دوستانہ اور برادرانہ جبکہ ان دیگر ممالک کے ساتھ جنہوں نے ایران کے خلاف کوئی جارحیت نہیں کی ہے ایران کا برتاؤ منطقی اور مناسب ہے لیکن ایرانی حکومت یا قوم کے خلاف کسی بھی جارحیت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ قائد انقلاب اسلامی نے ایٹم بم بنانے کی کوششوں کے الزام کو بھی ایران کے خلاف ایک سراسر غلط تہمت قرار دیا اور فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران اپنے اسلامی عقائد اور اصولوں کی رو سے ایٹم بم بنانے اور اسے استعمال کرنے کو ممنوع سمجھتا ہے اور اپنے اس نظرئے پر قائم ہے، اس حقیقت سے امریکی حکام بھی آگاہ ہیں لیکن ایران کو خطرناک ظاہر کرنے کی پالسیی کے تحت یہ بہتان باندھتے رہتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ امریکی حکومت اپنی اس پالیسی کی اصلاح کرے کیونکہ ملت ایران پوری دقت نظر سے ان دشمنیوں پر نظر رکھتی ہے اور ان کا مقابلہ کرے گی۔قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا: اسلامی جمہوریہ ایران جارحیت کے مقابلے میں کبھی بھی پسپائی اختیار نہیں کرے گا۔ آپ نے جارحیتوں کے سامنے ڈٹ جانے اور سائنسی ترقی اور اسلامی وقار کے لئے تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کو اسلام اور امام (خمینی رہ) کا سبق اور درس قرار دیا اور فرمایا: ملت ایران اور ملک کے نوجوانوں نے بخوبی یہ درس لیا اور اس پر عمل کیا اور آئندہ بھی یہی سلسلہ جاری رہے گا۔اس ملاقات میں قائد انقلاب اسلامی کے خطاب سے قبل صدر مملکت ڈاکٹر احمدی نژاد نے تقریر کی جس میں انہوں نے عید فطر کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے انسانی معاشرے کی موجودہ مشکلات کو توحید اور انبیاء کے صراط مستقیم سے دوری کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ انبیاء بالخصوص پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی روش، خدا پرستی، عمل صالح، تقوا، ظلم و بے انصافی کا مقابلہ، حق و مظلوم کی حمایت اور ایثار و قربانی ہے اور انسانیت کی نجات کا واحد راستہ اسی راہ پر عملی طور پر قدم بڑھانا ہے۔صدر مملکت نے یوم قدس پر ملت ایران کی شاندار کارکردگی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ملت ایران نے یوم قدس کے جلوسوں میں بھرپور شرکت کرکے ایک بار پھر اپنے عز و وقار، طاقت و اقتدار اور امام (خمینی رہ) کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کے اپنے پختہ ارادے کا مظاہرہ کیا۔  


All Content by AhlulBayt (a.s.) News Agency - ABNA is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License