جمعةالوداع:

عالمی یوم قدس پر تہران کی مرکزی نمازجمعہ کا اجتماع

آیت اللہ خاتمی: تنقید کرنے والوں کو قانون کے دائرےمیں رہتے ہوئے تنقید کرنے کی پوری اجازت ہے؛ لیکن قانون اپنے ہاتھ میں لینے والوں کے ساتھ پوری قوت کے ساتھ نمٹا کیا جائے گا ۔

تہران کی مرکزی نمازجمعہ آج عالمی یوم قدس کے موقع پرانتہائی جوش وعقیدت کے ساتھ اداکی گئی  جس میں لاکھوں کی تعداد میں روزہ دارنمازیوں نے شرکت کی ۔آج نمازجمعہ کی امامت آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کی۔ انھوں نے نمازکے پہلے خطبے میں نمازیوں کوتقوای الہی اختیارکرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہاکہ جمعۃ الوداع کومعروف صحابی جابربن عبداللہ آنحضرت صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئے انھيں دیکھ کر سرکاردوعالم نے فرمایا اے جابر آج ماہ مبارک رمضان کا آخری جمعہ ہے اوریہ مہینہ ہم سے رخصت ہورہا ہے بنابریں خداکی  بارگاہ میں دعا کرویہ ہمارے لئے  آخری ماہ رمضان نہ ہواوراگریہ  جمعہ  ہماری زندگی کا آخری جمعہ  ہوتودعاکروکہ خداہميں اس کی برکتوں اورفیوضات سے محروم نہ کرے ۔ تہران کے خطیب جمعہ نے اس واقعہ کا ذکرکرنے کے بعد نمازیوں کونصیحت کی ہم سب کوچاہئے کہ ماہ رمضان کی ان آخری گھڑیوں اورلمحات سے زیادہ سےزیادہ مستفیض ہوں تہران کے خطیب جمعہ نے یوم القدس کا ذکرکرتے ہوئے کہاکہ امام خمینی نے عالمی یوم قدس کا اعلان کرکے مسئلہ فلسطین کوجسے پس پشت ڈال دیا گیا تھا دوبارہ زندہ کیا اورجوعناصراس مسئلہ کوعربی مسئلہ قراردے کراسےعرب اوراسرائیل  تک محدودکرنا چاہتے تھے امام خمینی نے اس فکرکا خاتمہ کرتے ہوئے مسئلہ فلسطین کوعالمی اوراسلامی مسئلہ میں  تبدیل کردیا ۔تہران کے خطیب جمعہ نے کہا کہ یہ اس بات کوثابت کرتا ہے کہ اسلامی نظام کس حدتک مسئلہ فلسطین کواہمیت دیتا ہے ۔آیت اللہ احمدخاتمی نے اسی طرح آج یوم قدس کی ریلیوں میں عوام کی بہت بڑے پیمانے پر شرکت کرنے پر ان کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ آپ لوگوں نے فلسطینی امنگوں کی حمایت میں ایک اورمضبوط قدم اٹھایا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ صہیونیوں نے اپنی پوری کوشش کرڈالی اورآئندہ بھی کرتے رہيں گے  کہ یہ ریلیاں اورجلوس نہ نکلنے پائيں مگریوم القدس کی ریلیاں ہرسال، پہلے سے بھی زیادہ شان وشوکت کے ساتھ نکلتی ہيں اورنکلتی رہيں گی ۔ تہران کے خطیب  جمعہ نے کہا کہ بیت المقدس اورمظلوم فلسطین کے لئے امام خمینی اوراسلامی نظام کی حمایت صرف سیاسی بنیاد پرنہيں ہے بلکہ اس کی بنیاد دینی ہے کیونکہ قرآن امت مسلمہ کو، ایک امت سمجھتاہے اوراس کا ارشاد ہے کہ یہ امت، امت واحدہ ہے امام جعفرصادق علیہ السلام بھی فرماتے ہیں مومن اپنے بھائی کی نسبت ایک عضوکے مانند ہے ۔انھوں نے کہاکہ ایران کے بنیادی آئین میں بھی یہ درج ہے کہ امت مسلمہ، امت واحدہ ہے تہران کے خطیب جمعہ نے کہاکہ اس کے ساتھ ہی  ہماری پالیسی کا ایک اہم جزء یہ ہے کہ ہمارے مکتب نے ہمیں تعلیم دی ہے کہ ہم مظلوموں کی حمایت کریں کیونکہ یہ  درس ہمارے مولاحضرت علی نے ہمیں دیا ہے انھوں نے  کہاکہ ہمارے امام علی علیہ السلام  نے ہمیں درس دیا ہے کہ اگرکسی پرظلم ہورہا ہے تواس کا تعلق کسی بھی مذہب سے کیوں نہ ہومسلمان پرفرض ہے کہ اس کی مددکرے آپ نے فرمایا تھا کہ کونا للظالم خصما وللمظلومین عونا۔ آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہا کہ انہی تعلیمات کی بنیاد پرآج ایران کے عوام مظلوم فلسطینی مسلمانوں کی حمایت کرتے ہيں۔ انھوں نے فلسطینی عوام پرصہیونی جلادوں کے مظالم کا ذکرکرتےہوئے کہاکہ گذشتہ  پچاس ساٹھ برسوں سے انھوں نے فلسطینیوں پرظلم کی انتہاکردی ہے اورہرروزفلسطینیوں پرمظالم میں شدت آتی جارہی ہے تہران کے خطیب جمعہ نے کہا کہ ان دنوں فلسطینی مسلمانوں پرتین طرف سے ظلم کیاجارہا ہے علاقے کی بعض عرب حکومتیں فلسطینی عوام کے حق میں غداری کررہی ہیں اورغزہ کے عوام پرصہیونی ریاست کےبائیس روزہ وحشیانہ حملوں کے بعد آج بھی غزہ کا  علاقہ محاصرے میں ہے ۔ دوسری طرف سے فلسطینی عوام پردباؤڈال جارہا ہے کہ یا توبھوک سے مرجاؤیا پھر مشرق وسطی سے متعلق چارجانبہ کمیٹی کے فارمولے کوقبو ل کرلویا پھر باراک اوبامہ کے ظالمانہ فارمولہ کوتسلیم کرو۔انھوں نے باراک اوبامہ کے ظالمانہ فارمولہ کی مذمت کرتے ہوئے  کہا کہ اس فارمولے کے تحت عرب حکومتوں سے یہ کہا جارہا ہے کہ وہ اسرائیل کوتسلیم کرلیں ۔انھوں نے کہا کہ اس امن فارمولے میں کہا گیا ہے کہ عرب حکومتيں اسرائیل کوتسلیم کرلیں توسن دوہزاربارہ میں ایک محدودفلسطینی مملکت کا قیام عمل میں آجائے گا جس کی نہ تواپنی کوئي فوج ہوگي اورنہ ہی اپنی کوئی پالیسی ہوگی اورجس کے پاس نہ تواپنا کسی بھی طرح کا کوئی اختیارہوگا۔ انھوں نے کہا کہ اس طرح کی ریاست کوکچھ بھی کہا جاسکتا ہے مگرمملکت یا حکومت کانام نہيں دیا جاسکتا ۔تہران کے خطیب جمعہ نے کہاکہ آج جوبھی عرب حکومت اس فارمولہ کی جسے جلد ہی امریکہ میں پیش کیا جانے والا ہے حمایت کرے گی وہ غدارکہلائے گی انھوں نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کا واحد حل یہ ہے کہ اسلامی بنیادوں پرسرزمین فلسطین میں ایک آزادحکومت کی تشکیل کا طریقہ اپنایا جائے تہران کے خطیب جمعہ آیت اللہ سید احمد خاتمی نے نمازکے دوسرے خطبے کے آغازمیں عیدفطرکی آمد کی مناسبت سے کہا کہ یہ  عید انعام لینے کی عید ہے ۔بنابریں ہم لوگوں کوچاہئے کہ کوشش کریں کہ اللہ سے بہترین عیدی وصول کریں ۔تہران کے خطیب جمعہ نے اسی طرح ایران کے صوبہ کردستان کے اہلسنت عالم دین کی عالمی استکبارکے ایجنٹوں کےہاتھوں شہادت کی مذمت کرتے ہوئے کہا یہ ممتازعالم دین اسلامی انقلاب اورنظام کے وفادارتھے اورقانون نافذکرنےوالے اداے مجرموں کوجلدہی ان کے کئے کی سزادیں گے ۔انھوں نے ہفتہ دفاع مقدس کی بھی آمد کا ذکرکرتے ہوئے کہاکہ دفا‏ع مقدس اسلامی نظام کا ایک انتہائي درخشاں باب ہے آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہا اسلامی انقلاب سے پہلے جب بھی بڑی طاقتیں ایران پرحملہ کرتيں وہ کچھ نہ کـچھ علاقہ ایران سےلے لیتی تھیں مگراسلامی انقلاب کے بعد ایران پرکی جانےوالی جارحیت کے بعد جس طرح سے ایران کے عوام نے اپنے جذبہ شہادت وعقیدت کے ساتھ دفاع کیا اس میں ایران کی سرزمین کا ایک بالشت حصہ بھی دشمن ہم سے نہيں لے سکا  ۔انھوں نے کہاکہ دفاع مقدس نے یہ پیغام دیا کہ ایران کے عوام کے جذبہ دفاع واستقامت کے مقابلے میں کوئی بھی طاقت نہيں ٹہرسکتی۔ تہران کے خطیب جمعہ  نےعراق کے سابق ڈکٹیٹرصدام کے اس متکبرانہ انٹرویوکا حوالہ دیتے ہوئے جس میں اس نے کہا تھا کہ تفصیلی انٹرویووہ تہران میں دے گا کہاکہ ایرانی عوام نے صدام اوراس کے آقاؤں کی ناگ رگڑ دی اورآٹھ سال تک پوری بہادری اور ثبات قدم  کے ساتھ ایران کے انقلابی عوام نے اسلامی اقداراوراپنی سرزمین کا دفاع کیا اورصدام کے ساتھ ساتھ دنیا کی تمام بڑی طاقتوں کوایران کے انقلابی عوام کے جذبہ استقامت کے بارے میں سوچ بدلنے پرمجبورکردیا انھوں نے کہا کہ دفاع مقدس میں ولایت کی پیروی کا بھی شاندارجلوہ نکھرکردنیا کے سامنے آیا ۔بنابريں ہفتہ دفاع مقدس کوبہت ہی اچھے اندازمیں منا یا جانا چاہئے ۔تہران کے خطیب جمعہ نے اسلامی نظام کے قوانین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس نظام نے اپنے نقادوں کواجازت دی ہے کہ وہ حکومت کی کارکردگی پرتنقید کریں ۔انھوں نے کہاکہ اسلامی نظام میں ديگرمذاہب کے پیرواپنے مذہبی آداب ورسومات کی بجاآوری میں مکمل طورپرآزادہيں ۔ انھوں نےکہا کہ  جیسا کہ رہبرانقلاب اسلامی نے بھی فرمایا ہے تنقیدکرنےوالوں کو قانون کے دائرےمیں رہتے ہوئے تنقید کرنے کی پوری اجازت ہے لیکن کسی نے اگرقانون کواپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی توپوری قوت کے ساتھ اس کامقابلہ کیا جائے گا ۔تہران کے خطیب جمعہ نےکہا کہ نظام کے خلاف کسی بھی طرح کے منصوبے کوبرداشت کرنا کہيں بھی معقول نہيں ہے ۔آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہا کہ اتحاد ہمارے اسلامی معاشرے کی سب سے اہم ضرورت ہے اورپیغمبراسلام صل اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کے ساتھ ساتھ  اس دورمیں بھی امام خمینی اوررہبرانقلاب اسلامی نے اس پربہت زیادہ تاکید کی ہے ۔انھوں نے کہا کہ آج ایران میں جواتحاد پایا جاتا ہے یا پھراپنے اس اتحادکواگراورزیادہ مستحکم بنانا ہے تو وہ امام خمینی کےبتائے ہوئے راستے کے ہی گرد ممکن ہے ۔ انھوں نے کہاکہ آج  نمازجمعہ کا اجتماع بھی اتحاد کا  عظیم مظہرہے ۔  


All Content by AhlulBayt (a.s.) News Agency - ABNA is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License