آیت اللہ سیداحمدخاتمی:

ایران دینی جمہوریت کا علمبردارہے

عوام نے انتخابات میں اتنے بڑے پیمانے پرشرکت کرکے ایک تاریخ رقم کردی.

تہران کے خطیب جمعہ نے حالیہ صدارتی انتخابات کے بارے میں کہاکہ عوام نے انتخابات میں اتنے بڑے پیمانے پرشرکت کرکے ایک تاریخ رقم کردی اگرچہ عالمی استکبارنے انتخابات سے بہت پہلے سے یہ پروگرام بنالیاتھا کہ عوام کے اس شاندارکارنامے کوکم اہمیت بناکر ظاہرکریں گےمگرانتخابات میں جس طرح سے پچاسی فیصد رائے دہندگان نے شرکت کی وہ انقلاب اوراس کے اصولوں کے لئے عوام کی وفاداری کا ایک اوراعلان تھا ۔ تہران کے خطیب جمعہ نے کہا ان انتخابات نے ثابت کردیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران دینی جمہوریت کا علمبردارہے آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہا جولوگ انتخابات کوکالعدم قراردینے کی بات کررہے ہيں وہ زورزبردستی کی باتیں کررہے ہيں اورعوام کبھی بھی اس طرح کی زورزبردستی کی باتیں قبول نہيں کریں گے انھوں نے کہاکہ انتخابات کے امیدواروں میں بعض کے چوالیس ہزارنمائندے پولنگ اسٹیشنوں پرموجودتھے بنابریں کسی بھی طرح کی دھاندلی کی باتیں یکسرغیرمعقول ہیں اور انتخابات کوکالعدم قراردینے کی بات کوکسی بھی صورت میں تسلیم نہيں کیا جائے گا انھوں نے انتخابات کے بعد بعض عناصر کی طرف سے غیرقانونی اجتماعات کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ عوام کی املاک کو نقصان پہنچانا اورمساجد وپبیلک مقامات کوآگ لگانا اوران جیسے ديگراقدامات کی شریعت میں سنگین  سزا ہے انھوں نے کہا کہ میں عدلیہ سے کہنا چاہوں گا کہ جولوگ ان دنوں امریکہ اوراسرائیل کے اشاروں پراس طرح کے غیرانسانی اقدامات کررہے ہيں ان سے وہ سختی سے نمٹے تاکہ دوسروں کے لئے نشان عبرت بن جائیں ۔تہرا ن کے خطیب جمعہ نے انتخابات کے بعد کی صورت حال میں مغربی ملکوں کے ذرائع ابلاغ کے منفی پروپیگنڈوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا مغرب نے ایران کے خلاف ایک معرکہ چھیڑدیا تھا اورپھر اوبامہ جیسے لوگ مگرمچھ کے آنسوبہاررہے ہيں ۔ انھوں نے اسی طرح امریکہ برطانیہ جرمنی فرانس کے سربراہوں اوراقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی طرف سے ایران کے اندرآشوب بپاکرنے والوں کے لئے اظہارہمدردی کا ذکرکرتے ہوۓ کہا کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے غزہ میں سیکڑوں بچوں کے قتل عام اوراسی طرح عراق اورافغانستان میں امریکی فوج کے ہاتھوں قتل عام پرکبھی بھی ہمدردی کا اظہارنہيں کیا یہ کون سی اقوام متحدہ ہے یہ اقوام کا ادارہ نہيں ہے یہ صرف چند بڑی طاقتوں کے ہاتھوں کا کھلونا ہے انھوں نے اس عالمی ادارے کے ڈھانچے میں تبدیلی کا مطالبہ کیا تہران کے خطیب جمعہ نے امریکہ کی طرف سے انسانی حقوق کی باتوں کومضحکہ خیزقراردیتے ہوئے کہا کہ ایک ایسے وقت جب وہ دنیا کے مختلف علاقوں منجملہ خود امریکہ کے اندرداودیہ فرقے کے لوگوں کے قتل عام میں ملوث ہے اس کے ذریعہ انسانی حقوق کی بات کرنا بہت ہی مضحکہ خیزہے۔انھوں نے کہا  ابوغریب اورديگرجگہوں پرامریکہ کے ہاتھوں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی داستان ابھی جاری ہے  تہران کے خطیب جمعہ نے اسی طرح برطانیہ اورفرانس کے حکمرانوں کے بھی حالیہ موقف کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ نے ہی ہمارے عوام پرپہلوی کومسلط کیا اورفرانس نے ہی  صدام کوجنگی طیارے فراہم کیئےتھے اورجرمنی کی حکومت نے صدام کوکیماوی ہتھیارمہیا کرائے تھے اس کے باوجود یہ ممالک انسانی حقوق کی باتیں کرتے ہيں۔ تہران کے خطیب جمعہ نے کہاکہ ان ملکوں کے سربراہوں کویہ جان لینا چاہئے کہ ایران کےعوام ان کی تمام ترسازشوں اورمظالم کا جواب مناسب وقت پرپوری قوت کے ساتھ دیں گے۔ انھوں نے کہا کہ انتخابات کے بعد کی صورت حال میں بعض یورپی ممالک نے بہت ہی بچگانہ حرکتیں انجام دی ہیں جن سے یہ  پتہ چلتا ہے کہ ابھی ان میں سیاسی پختگی نہيں پائی جاتی  انھوں نے کہا کہ دنیا ا وراستکباری طاقتوں کویہ جان لینا چاہئے کہ ہماراعظیم اسلامی انقلاب وہ شجرہ طیبہ ہے جسے زوردگذرطوفان کسی بھی قیمت پرنہيں ہلاسکتے اوریہ انقلاب پورے وجود کے ساتھ ثابت قدم ہے  اوراپنی تمام تراقدارکادفاع  کرتا رہے گا ۔ 


All Content by AhlulBayt (a.s.) News Agency - ABNA is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License