نماز جمعہ میں قائد انقلاب اسلامی کا تاریخی خطاب

نماز جمعہ حضرت امام زمانہ ارواحنا فداہ کے تذکرے سے معمور تھی۔

 قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای کی قیادت میں منعقد ہونے والی نماز جمعہ روحانیت اور حضرت امام زمانہ ارواحنا فداہ کے تذکرے سے معمور تھی۔ قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے آج تہران کی تاریخی اور اتحاد بخش نماز جمعہ میں اپنے انتہائی اہم خطاب میں یاد خدا، نصرت الہی پر اعتماد اور قلبی سکون و اطمینان کو گزشتہ تیس برسوں کے دوران متعدد طوفانوں اور حوادث سے ملت ایران کے سربلندی کے ساتھ گزر جانے کا اہم سبب قرار دیا اور انتخابات کے مختلف پہلوؤں اور انتخابات کے بعد کے مسائل پر پوری صراحت کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ بارہ جون کے انتخابات میں عوام کی بے مثال پر جوش شرکت، دین پر اعتماد اور قومی امید و شادابی کی عظیم نمائش، دشمنوں کے لئے سیاسی زلزلہ اوراسلام و انقلاب کے دوستوں کے لئے تاریخی جشن تھا اور انتخابات کے سبھی چار کروڑ باشعور شرکاء نے امام (خمینی رہ)، انقلاب اور شہداء کو ووٹ دیا، اور چاروں امیدواروں کا تعلق اسلامی نظام سے ہے، بنابریں سب کو چاہئے کہ موجود قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے مسائل کو اٹھائیں۔ قائد انقلاب اسلامی نے نماز جمعہ کے دوسرے خطبے میں جس کے دوران بار بار حاضرین نے نعرہ تکبیر بلند کیا اور اپنے جذبات و عقیدت کا اظہار کیا، انتخابات سے متعلق مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے، قوم، انتخابات کے امیدواروں، سیاسی شخصیات اور بعض سامراجی مغربی حکومتوں کے سربراہوں کو مخاطب کرکے الگ الگ موضوعات پر گفتگو فرمائی۔ آپ نے بارہ جون کے انتخابات میں تقریبا چار کروڑ رائے دہندگان کی شرکت کی قدردانی کرتے ہوئے اسے عوام کے جذبہ شراکت اور احساس ذمہ داری کی عظیم نمائش قرار دیا اور زور دیتے ہوئے فرمایا: بارہ جون کے انتخابات، ملک کی تقدیر کے سلسلے میں ہماری قوم کے احساس ذمہ داری کی عظیم نمائش تھے، ملک کے نظم و نسق کے سلسلے میں شراکت کی عوام کی خصوصیت کی عظیم نمائش تھے، اپنے نظام سے عوام کی قلبی وابستگی کی عظیم نمائش تھے۔ حقیقت میں ملک میں جو عمل انجام پایا، اس کی نظیر مجھے آج کی دنیا میں، ان گوناگوں جمہوریتوں میں، خواہ وہ ظاہری اور جھوٹی جمہوریت ہو یا وہ جمہوریتیں جن میں عوام کی رائے پر عمل کیا جاتا ہے، کہیں بھی نظر نہیں آتی۔ قائد انقلاب اسلامی نے دسویں صدارتی انتخابات میں ملک بھر کے نوجوانوں کی پر جوش شرکت کو انقلاب کی پہلی نسل کے نوجوانوں کے سیاسی ذمہ داری کے احساس اور پابندی عہد کے نئی نسل میں تسلسل کا مظہر قرار دیا فرمایا کہ دل کی گہرائیوں سے، ملت ایران اور نوجوانوں کی عظمت کی تعظیم کرتا ہوں۔ قائد انقلاب اسلامی نے عوام کے الگ الگ نقطہ نگاہ اور ان کی جانب سے الگ الگ امیدواروں کے حق میں ووٹ ڈالے جانے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: عوام کے الگ الگ(امیدواروں کو دئے جانے والے) ووٹوں کے پیچھے ملک و نطام کا نظم و نسق چلانے کے سلسلے میں اجتماعی احساس ذمہ داری کا جذبہ موجزن ہے، اس طرح سے کہ مرد و زن، پیر و جواں، گوناگوں قوموں و مسلکوں سے تعلق رکھنے والوں اور شہر و دیہات میں رہنے والوں نے نا قابل فراموش کارنامہ انجام دیا ہے جو ایران و انقلاب کے دشمنوں کے لئے سیاسی زلزلہ اور دنیا بھر میں ملت ایران کے دوستوں کے لئے ایک حقیقی اور تاریخی جشن سمجھا جا رہا ہے۔ آپ نے بارہ جون کے انتخابات میں چار کروڑ لوگوں کی شرکت کو امام خمینی رحمت اللہ علیہ، انقلاب اور شہدا سے اظہار وفاداری کی عوامی تحریک قرار دیا اور فرمایا: اس عظیم اقدام سے اسلامی نظام ترقی و سربلندی کے اپنے سفر میں پھر سے تازہ دم ہو گیا اور نظام کے بد خواہوں کو دینی جمہوریت کا مطلب سمجھا دیا گيا۔ قائد انقلاب اسلامی نے قومی اعتماد، آزادی اور امید و شادابی کے ساتھ صدارتی انتخابات میں شرکت کو، ملت ایران کی جانب سے سامراجیوں کے ذرائع ابلاغ کے زہریلے پروپیگنڈے کا جواب قرار دیا اور فرمایا کہ اسلامی نظام پر عوام کا اعتماد اسلامی جمہوریہ کے عظیم سرمائے کی حیثیت سے بارہ جون کے صدارتی انتخابات میں ایک بار پھر جلوہ فگن ہوا لیکن ایران و انقلاب کے دشمن انتخابات کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرکے اس قومی اعتماد کو متزلزل کرنا اور عوامی شراکت کو کم کرکے نظام کے اعتبار و جواز پر سوالیہ نشان لگانا چاہتے ہیں۔ اگر ان کا یہ مقصد پورا ہو گیا تو یہ ایسا خسارہ ہوگا جس کا موازنہ کسی بھی دوسرے نقصان سے نہیں کیا جا سکتا۔ آپ نے گزشتہ چند مہینوں کے دوران سامراج کے زہریلے پروپیگنڈوں کی یاددہانی کرائی جن میں بارہ جون کے انتخابات میں بد عنوانی کی بات کہی جا رہی تھی۔ آپ نے فرمایا: میں نے پہلی فروردین (21 مارچ) کی اپنی تقریر میں ملک کے اندر دوستوں کو متنبہ کیا تھا کہ بد عنوانی سے متعلق دشمن کی باتوں کو نہ دہرائیں کیونکہ اغیار اس کوشش میں ہیں کہ نطام اور حکام نے ان برسوں کے دوران اپنی کارکردگی سے جو اعتماد حاصل کیا ہے اس پر سوالیہ نشان لگا دیں۔ قائد انقلاب اسلامی نے انتخابی تشہیرات کے زمانے میں مکمل شفاف اور آزادنہ رقابت منجملہ شفاف اور صریحی ٹی وی مناظروں کا ذکر کیا اور فرمایا: چاروں انتخابی امیدواروں کی شدید مقابلہ آرائی، اسلامی نظام سے وابستہ دھڑوں کی مقابلہ آرائی تھی لیکن خبیث صیہونیوں سے وابستہ ذرائع ابلاغ سراسر دروغگوئی سے کام لیتے ہوئے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ یہ رقابت اسلامی نظام کے حامیوں اور مخالفین کا تنازعہ ہے۔ قائد انقلاب اسلامی نے صدارتی انتخابات کے چاروں امیدواروں سے اپنی قدیمی اور نزدیکی آشنائی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ایک امیدوار، محنتی، بڑا خدمت گزار اور قابل اعتماد صدر مملکت ہے، دوسرا امیدوار آٹھ سال تک میرا وزیر اعظم رہ چکا ہے، ایک اور امیدوار پاسداران انقلاب فورس کا سربراہ اور مقدس دفاع کا اہم (سابق) کمانڈر ہے جبکہ ایک اور امیدوار پارلیمنٹ شورائے اسلامی کے دو دوروں کا اسپیکر رہ چکا ہے، بنابریں یہ سبھی حضرات، نظام کے عناصر اور نظام سے وابستہ ہیں اور خبیث صیہونی، امریکی اور برطانوی ذرائع ابلاغ کے پروپیگنڈوں کے بر خلاف ان کی مقابلہ آرائی نظام کے دائرے کے اندر رہ کر انجام پانے والی مقابلہ آرائی ہے۔ قائد انقلاب اسلامی نے چاروں امیدواروں کے نظریات، سیاسی موقف اور پروگراموں میں اختلاف کا ذکر کیا اور فرمایا کہ نقطہ نگاہ اور نظریات کا یہ اختلاف، نظام کے دائرے کے اندر ہے، البتہ میں ان میں بعض کو نظام کی خدمت کے لئے زیادہ مناسب سمجھتا ہوں تاہم میں نے اپنا نظریہ عوام کے سامنے ظاہر نہیں کیا اور نہ ہی یہ ضروری تھا کہ عوام اس کے مطابق عمل کرتے کیونکہ انتخابات عوام کا حق ہے اور اس کے نتائج عوام کی رائے کے مطابق طے پاتے ہیں۔ آپ نے ٹی وی پر براہ راست نشر کئے جانے والے مناظروں کو بہت اہم اور دلچسپ جدت عمل قرار دیا اور فرمایا: مناظرے شفاف، سنجیدہ و دو ٹوک اور اغیار کے ان پروپیگنڈوں کو بے اثر بنانے والے تھے جن میں انتخابی مقابلہ آرائی کو غیر حقیقی قرار دیا جا رہا تھا۔ قائد انقلاب اسلامی نے صراحت، سنجیدگی، تنقید کے سیلاب کے سامنے لوگوں کے جوابدہی اور دفاع پر مجبور ہونے اور افراد اور گروہوں کے موقف آشکارا ہونے کو مناظروں کے مثبت نکات میں شمار کیا اور فرمایا: عوام کو مناظرے اور دیگر تشہیراتی پروگرام دیکھ کر فیصلے کی طاقت و توانائی ملی، انہیں محسوس ہوا کہ اسلامی نظام میں اندرونی اور بیرونی جیسی کوئی چیز نہیں یہ نظام عوام کو غیر نہیں سمجھتا بلکہ حقیقی معنی میں عوام کو آگاہانہ انتخاب کو حق دیتا ہے۔ آپ نے اظہار خیال کی آزآدی، ذہنوں کی تربیت اور قوم کی انتخاب کی صلاحیت میں اضافے کو مناظروں کے دیگر مثبت نتائج قرار دیا اور مناظروں کے موضوعات کے سڑکوں پر اور گھروں کے اندر تک پہنچ جانے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: گزشتہ انتخابات کے مقابلے میں (اس بار) ایک کروڑ ووٹوں کا بڑھ جانا یقینا انتخابات میں عوام کی فکری و ذہنی شراکت کا ایک نتیجہ تھا جس کی بنا پر عوام نے انتخابات میں شرکت کی، اس زوائے سے مناظرے پسندیدہ ہیں۔ قائد انقلاب اسلامی آيت اللہ العظمی خامنہ ای نے اعلی عہدہ داروں کی سطح پر مناظروں کے تسلسل کو ضروری اور اچھی بات قرار دیا اور فرمایا: مناظروں کو نقائص و منفی پہلوؤں سے پاک کرکے جاری رکھنا چاہئے تاکہ تمام لوگ اور عہدہ دار خود کو تنقید (کا سامنا کرنے) اور جوابدہی کی پوزیشن میں محسوس کریں۔ قائد انقلاب اسلامی نے مناظروں کے منفی نکات کی جانب بھی اشارہ کرتے ہوئے بغض و کدورت و کینہ پیدا ہونے، افواہوں کا سہارا لینے، بحثوں میں منطقی پہلوؤں کی کمی اور جذباتی اور خشمگیں ہو جانے کو مناظروں میں دونوں فریقوں کا نقص قرار دیا اور ان نقائص کے سلسلے میں ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: افسوس کہ بعض اوقات مناظرہ تخریبی رخ اختیار کر لیتا تھا اور موجودہ حکومت کی کارکردگی کو مبالغے کے ساتھ سیاہ و تاریک ظاہر کیا جاتا اور دوسری طرف سے گزشتہ حکومتوں کی کارکردگی کو سیاہ و تاریک قرار دیا جا رہا تھا اور نتیجے میں امیدواروں کے حامیوں کے درمیان تشویش و اضطراب پیدا ہو جاتا تھا۔ قائد انقلاب اسلامی نے اس سلسلے میں مناظرے کے دونوں فریقوں کو قصوروار ٹھہراتے ہوئے فرمایا: ایک فریق ملک کے قانونی صدر کی آشکارا اور شرمناک انداز میں توہین کر رہا تھا، بہتان عائد کر رہا تھا اور حکومت کی کارکردگی کی غلط تصویر پیش کرکے عوام کی حمایت پر تکیہ کئے ہوئے صدر ممالکت کو جھوٹا، عبث باتیں کرنے والا کہہ رہا تھا اور اخلاقیات و قانون و انصاف کو پیروں تلے روند رہا تھا تو دوسرا فریق بھی ایسے ہی اقدامات کے ذریعے انقلاب کی تیس سالہ درخشاں کارکردگی کو بد رنگ کرنے کی کوشش میں تھا اور ایسی شخصیتوں پر سوال اٹھانا چاہتا تھا جنہوں نے نظام کی راہ میں اپنی پوری عمر گزاری ہے اور ایسے الزامات کا ذکر کر رہا تھا جو ابھی قانونی مراکز میں ثابت نہیں ہوئے ہیں۔ قائد انقلاب اسلامی نے جناب ہاشمی رفسنجانی اور جناب ناطق نوری کے نزدیکی افراد کی مبنیہ مالی بد عنوانیوں کا موضوع اٹھائے جانے پر تنقید کی اور فرمایا: ویسے کسی نے ان (دونوں) صاحبان پر مالی بد عنوانی کا الزام نہیں عائد کیا ہے تاہم ان کے اعزاء کے بارے میں بھی اگر کوئی الزام ہے تو قانونی مراکز اور راہوں سے ثابت ہونے سے قبل اسے میڈیا کے سامنے پیش نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس سے معاشرے بالخصوص نوجوان نسل کے ذہنوں میں غلط تاثر پیدا ہوگا۔ آپ نے جناب ہاشمی رفسنجانی سے اپنی پچاس سالہ آشنائی اور انقلاب و نظام کے لئے ان کی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: جناب ہاشمی رفسنجانی شاہی ظلم و استبداد کے خلاف جد وجہد کے زمانے میں تحریک کے انتہائی اہم اور بنیادی ارکان میں تھے اور انقلاب کے بعد وہ امام (خمینی رہ) کے انتہائی با اثر ساتھیوں میں تھے، وہ بارہا شہادت کے قریب پہنچ گئے۔ امام(خمینی رہ) کی رحلت کے بعد سے اب تک وہ قائد انقلاب کے ساتھ ساتھ رہے ہیں۔قائد انقلاب اسلامی نے فرمایا: جناب ہاشمی، انقلاب سے قبل اپنا مال جد و جہد میں خرچ کرتے رہے اور گزشتہ تیس برسوں کے دوران بھی انہوں نے بہت سی ذمہ داریاں سنب


All Content by AhlulBayt (a.s.) News Agency - ABNA is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License