حضرت شاہ چراغ، امامزادہ میراحمد بن امام موسیٰ کاظم (ع)

شاہ چراغ، سیدنا امامزادہ میراحمد بن امام موسیٰ کاظم

تاجدارِ شیراز، ایران

عظمتوں کی انتہا ہیں شاہ چراغِ موسیٰ کاظم

فضل وکرم کبریا ہیں شاہ چراغِ موسیٰ کاظم

آپ ہمنامِ رسالتماب، احمد مجتبیٰ

تاجدارِانما ہیں شاہ چراغ موسیٰ کاظم

نور کی جلوہ گری ہے آپ کے دربار میں

نوریوں کے پیشوا ہیں شاہ چراغ موسیٰ کاظم

حیدرِکرّار کے نورِ نظر، شیر خدا

سیدہ کی وہ عطا ہیں شاہ چراغ موسیٰ کاظم

سنت شبیر زندہ کی تھی پھر شیراز میں

عکس شاہِ کربلا ہیں شاہ چراغ موسیٰ کاظم

پاسبان دین ہیں وہ ہیں محافظ راہِ حق

عاصیو!قبلہ نما ہیں شاہ چراغ موسیٰ کاظم

جن کے دادا پاک ہیں اہل جہاں کے دادرس

میرے وہ مشکل کشا ہیں شاہ چراغ موسیٰ کاظم

صورت وسیرت میں ہیں وہ ہوبہو شاہ نجف

نائب خیر الوریٰ ہیں شاہ چراغ موسیٰ کاظم

ہے علی عباس کے دل میں چراغ مرتضٰی

وہ رضائے مصطفٰی ہیں شاہ چراغ موسیٰ کاظم

سیدنا امام موسی کا ظم  کی اولاد اطہار میں ہر جلیل المنزلت صاحبزادہ مقام منفرد رکھتا ہے جن کی حیات طیبہ فدا کاری، تبلیغ دین، ایثار اور فلاح انسانی کی باکمال کاوشوں سے لبریز ہے۔  آٹھویں خلیفہ ء راشد سیدنا امام علی بن موسیٰ الرضا کے بعد سیدنا احمد بن امام موسیٰ کاظم، کمال جاہ وجلال،  رفیع الدرجات،  قدر ومنزلت اور شان وعظمت کے مالک ہیں۔ آپ سیدنا امام موسیٰ کاظم کے بزرگ ترین فرزندان میںسے ہیں۔ امام موسیٰ کاظم آپ سے بیحد محبت فرماتے اور تمام امور میں آپ کو مقدم رکھتے۔ آپ نے اپنی یُسَیْرَہْ نامی جاگیر اُن کے لئے وقف فرمائی۔ سیدنا احمد، سیدنا محمد اورسیدنا حمزہ  بن امام موسیٰ کاظم ایک والدہ سے ہیں۔

آپ کی والدہ مکرمہ حضرت ام احمد بزرگ ترین خواتین میں سے تھیں۔ سیدنا امام موسیٰ کاظم ان مخدومہ پہ خصوصی نگاہ کرم فرماتے۔ جب آپ مدینہ منورہ سے عازم بغداد ہوئے تو تمام تبرکاتِ امامت آپ کے سپرد کرتے فرمایا،

’’یہ تبرکات امامت آپ کے پاس میری امانت ہیں۔ میری شہادت کے بعد جب کوئی یہ تبرکات طلب کرے تو دے دینا، وہی خلیفہ اورامام ہوں گے۔ آپ پر اور دیگر لوگوں پر ان کی اطاعت واجب ہو گی ‘‘۔ حضرت امام علی رضا  کو حضرت ام احمد کے گھر میں بڑے احتیاط سے وصیت فرمائی۔ اس کے بعد ہارون الرشید عباسی نے سیدنا امام موسیٰ کاظم کو زہر دلوا کر شہیدکر دیا۔

آپ کی جانگدازشہادت کے بعد سیدنا امام علی رضا، حضرت ام احمد کے پاس تشریف لائے اور تبرکاتِ امامت کا مطالبہ کیا۔ سیدتنا ام احمد نے یہ سن کر گریہ زاری فرمائی اور سر کوبی فرماتے پوچھا،  ’’سیدی !کیا آپ کے والد بزرگوار شہید ہو گئے ؟‘‘۔ فرمایا، ’’ہاں، ابھی ان کے دفن کے بعد مدینہ واپس آیا ہوں۔ آپ وہ امانتیں مجھے دے دیں جو میرے والد بزرگوار نے بغداد کا سفر اختیار کرتے وقت آپ کے سپرد فرمائی تھیں۔ میں ان کاخلیفہ اور جن وانس پہ امام برحق ہوں ‘‘۔ مخدومہ پاک نے یہ سن کر شدت سے آہ وزاری کی اور امانتیں واپس کر کے سیدنا امام علی رضا کی بیعت کی۔ جب حضرت امام موسیٰ کاظم  کی شہادت کی خبر مدینہ منورہ میں معروف ہوئی تو اہل مدینہ جوق در جوق حضرت بی بی ام احمدکے گھر کے دروازے پر جمع ہونے لگے۔

امامزادہ احمد:

سیدنا میراحمد بزرگی، زہد وعبادت، نفوذشریعت، حق گوئی، بے باکی، اطاعت ایزدی، خوارق عادات، کرامات اور شان وعظمت کے باعث بڑے رعب وجلال کے مالک تھے۔ آپ انتہائی خوشخط اور نفیس رقم تھے۔  کلام مجید کے ایک ہزار نسخے اپنے مبارک ہاتھوں سے تحریر فرمائے۔  کلام پاک کی کتابت سے ملنے والی رقم کے عوض ایک ہزار غلام خرید کر راہ خدا میں آزاد فرمادیئے۔ آپ کے فضائل ومحاسن اور بزرگی احاطۂ تحریر وتقریرمیں نہیں آسکتی۔ سیدناامام موسیٰ کاظم کی شہادت کے بعد لوگ آپ ہی کو امام وقت ماننے لگے۔  مسجد میں لے جا کر امر امامت میں بیعت شروع کر دی۔  تمام لوگوں سے بیعت لے کر آپ منبر پر تشریف لے گئے اورانتہائی فصاحت وبلاغت سے فرمایا،

’’اے لوگو!اچھی طرح ذہن نشین کر لو کہ ابھی آپ تمام لوگوں نے میری بیعت کی ہے اور آپ میری بیعت میں ہیں اور میں خود اپنے بھائی حضرت امام علی رضا علیہ السلام کی بیعت میں ہوں۔ آپ آگاہ رہیں کہ میرے ابا حضور حضرت امام موسیٰ کاظم کے بعد میرے بھائی حضرت علی بن موسیٰ رضا خلیفہ برحق اور ولی خدا ہیں۔ مجھ پر اور آپ سب پر خدا اور رسول صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمْ کی طرف سے یہ امر واجب اور فرض ہے کہ ہم سب ان کی اطاعت وفرمانبرداری کریں، جو حکم بھی ان کی طر ف سے جاری ہو‘‘۔ اس اعلان کے بعد سیدنا امام علی رضا کے کچھ فضائل ومناقب بیان فرمائے۔

سیدنا میر احمد کے اس اعلان اور حکم پر حاضرین نے سر تسلیم خم کرتے گردنیں جھکا دیں۔ اس کام سے فارغ ہو کر تمام لوگ حضرت سید احمد کی زیر قیادت امام علی رضا کے درِ اقدس پہ حاضر ہوئے۔  سیدنا میر احمد نے ہاتھ بڑھا کر بیعت کی اور تمام لوگوں نے آپ کی متابعت می۔ ں بیعت کی۔  امام علی رضا نے آپ کے حق میں دست دعا بلند فرمائے،

’’خدایا !جس طرح انہوں نے میرے حق کی حفاظت کی ہے تو بھی ان کے حق کی حفاظت فرما ‘‘۔ پھر فرمایا، ’’دنیا وآخرت میں اس سے بڑا کوئی عمل مقام نہ ہو گا کہ آپ نے حق کو حفاظت سے رکھا اور باطل کی آمیزش نہ ہونے پائی۔ نہ دنیا کے فریب میں آئے اور نہ سرداری کی پرواہ کی اور حق کو حقدار کے سپرد کر کے حق امانت ادا کیا۔ اس عمل سے ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ لوگ گمراہی سے بچا لئے اور مخلوق خدا کو صراط مستقیم پہ چلنے کی ہدایت فرمائی ‘‘۔

شیراز آمد:

سیدنا میر احمد اس وقت تک ثَامِنُ الْحُجَّۃْ کی خدمت میں رہے جب تک مامون الرشید نے حضرت امام کو مدینہ سے خراسان نہ بلا لیا۔ امام علی رضا خراسان پہنچے تو مامون نے آپ کو ولی عہد سلطنت مقرر کیا۔ جب یہ خبر مدینہ منورہ پہنچی تو سیدنا احمد اپنے بھائیوں، بھتیجوں، احباء وعقیدت مندوں کے ساتھ جن کی مجموعی تعداد سات سو تھی مدینہ منورہ سے خراسان روانہ ہوئے اور کویت، بصرہ، اھواز،  بوشھرسے ہوتے دروازۂ فارس شیراز کے قریب پہنچے۔ رستہ سے امام کے عقیدت مند اس قافلہ میں شامل ہوتے گئے اور یہ قافلہ دو ہزار نفوس سے تجاوز کر گیا۔ شہر شیراز سے تین میل کے فاصلہ پر تھے کہ آپ نے امام علی رضا کی شہادت کی خبر سنی۔

مامون الرشید عباسی کو خبر ہوئی کہ امامزادگانِموسیٰ کاظم خراسان تشریف لا رہے ہیں تو اس نے تمام عمال سلطنت اور حکام کو ایک مراسلہ کے ذریعے حکم دیا کہ امیر المومنین سیدنا امام علی کی اولاد میں سے جو آدمی جس جگہ ملے قتل کر دیا جائے۔ گورنر شیراز،  قتلغ خان کو خصوصی حکم دیا اور سادات عظام کے خلاف بھڑکایا۔ قتلغ خان کو اطلاع ہوئی کہ سیدنا میر احمد شیراز سے تین میل کے فاصلہ پر ہیں تو اس نے فوراًچالیس ہزار سپاہ پہ مشتمل ایک لشکر ترتیب دیا اور شہر سے باہر آکر سادات عظام کا رستہ روکا۔

سیدنا میر احمد نے پرشکوہ عباسی لشکر کے سامنے قیام فرمایا۔ آپ کو علم ہوا کہ دشمن جنگ اور خونریزی پہ آمادہ ہے تو انہوں نے اپنے انصار ومعاونین کو جمع کر کے ام