رہبر معظم انقلاب اسلامی :

علماء دین ترقی و اصلاح کے علمبردار ہیں

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے صوبہ کردستان کے علماء و فضلا سے ملاقات میں فرمایا: علماء دین ترقی و اصلاح کے علمبردار ہیں اورعوام کو صراط مستقیم کی طرف ہدایت کرنے کے لئے علماء کووقت کے تقاضوں کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔

رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے صوبہ کردستان کے علماء و فضلا سے ملاقات میں فکر و اندیشہ کو منتقل کرنے کی پیچیدگی و پیشرفت اور ایران میں اسلامی حکومت کے قیام کو موجودہ دور کی دو خصوصیات قراردیتے ہوئے فرمایا: علماء و طلاب کو وقت کی پہچان کے ساتھ ان دو خصوصیات پر خصوصی  توجہ مبذول کرنے کے ساتھ ان سے استفادہ  بھی کرنا چاہیے اور حق و انصاف کے قیام اور ظلم و ستم اور فتنہ و فساد کامقابلہ کرنے کے لئے اپنی اہم و سنگین ذمہ داریوں کو پورا کرنا چاہیے۔اس ملاقات کا اہتمام سنندج کی جامع مسجد میں ہوا۔ اس میں رہبر معظم نے علماء کو قوم کی پیشرفت و ترقی اور اصلاح کا علمبردار قراردیتے ہوئے فرمایا: علماء کی ذمہ داری عوام کے سامنے صرف حلال و حرام کو بیان کرنے پر ختم نہیں ہوجاتی  بلکہ علماء انبیاء (ع‏) کے وارث ہیں اور انھیں چاہیے کہ وہ ان لوگوں کا مقابلہ کریں جو طاغوتی طاقتوں کا مظہر ہیں اور اپنے وجود کے بت کو قوموں پر مسلط کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔رہبر معظم نے موجودہ دور کی خصوصیات اور فکر و اندیشہ کے منتقل کرنے کے طریقوں اور وسائل میں گہری تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: آج سامراجی طاقتیں دھمکیوں کی برہنہ شمشیر دکھانے کے علاوہ جدید ترین تبلیغاتی وسائل کے ذریعہ اپنے باطل خیالات اور غلط نظریات کو دوسری قوموں پر مسلط کرنے کی کوشش میں ہیں اور اس پیچیدہ ہجوم کا مقابلہ کرنے اور عوام کو راہ راست کی طرف ہدایت کرنے کے لئے علماء کو وقت کے ساتھ اپنے آپ کو منطبق کرنا چاہیے۔رہبر معظم نے دشمنوں کی طرف سے طلباء اور جوانوں کے ذہنوں میں جدید اور نئے شبہات ڈالنے اور ان کے دلوں میں نفوذ پیدا کرنے کی طرف اشارہ کیا اور علماء کو سفارش کرتے ہوئےفرمایا: علماء عقائد کے پاسباں ہیں  اور انھیں جوانوں کے احساس و فکر کو اہمیت دینے کے علاوہ جدید طریقوں سے دشمن کی شوم سازشوں کامقابلہ کرنا چاہیے۔رہبر معظم نے ایران میں قرآن و سنت پر مبنی حکومت کے وجود کو موجودہ دور کی دوسری خصوصیت قراردیتے ہوئے فرمایا: البتہ ہم یہ دعوی نہیں کرتے ہیں کہ یہ حکومت مکمل طور پر قرآنی ہے لیکن ہمارا اس بات پر یقین ہے کہ اس حکومت کی حرکت صحیح اور درست سمت میں ہےاور ہر فرد بالخصوص علماء کا فرض ہے کہ وہ صدر اسلام کے بعد اس غنیمت موقع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں اور اسلامی معارف کو فروغ دینے اور عوام کی ہدایت اور ان کی پیشرفت کے لئے اہم اقدامات عمل میں لائیں ۔رہبر معظم نےفرمایا:  دشمن، اسلامی جمہوریہ ایران کو نابودکرنے اور اس کی عدم پیشرفت کی تمنا کو اپنے دل میں لئے ہوئے ہے لیکن اس کی یہ تمنائیں کبھی پوری نہیں ہونگی کیونکہ انقلاب اسلامی تمام سازشوں اور مشکلات کے باوجود اپنے پاؤں پر کھڑا ہے اور حیرت انگیزعلمی ترقی اور پیشرفت کے سائے میں دینی حکومت نے اپنی ترقی و پیشرفت کو ثابت کردیا ہے اسلامی حکومت نے سیٹلائٹ کو فضا میں روانہ کرکے اسلام اور مسلمانوں کے لئے عزت و افتخار کے اسباب فراہم کئے ہیں۔رہبر معظم نے عالم اسلام کی ممتاز شخصیات اور مسلمانوں کی طرف سے ایران کے ساتھ قلبی لگاؤ کو سامراجی طاقتوں اور بعض رجعت پسند علاقائی  ممالک کی ایران کے ساتھ خصومت کا سبب قراردیتے ہوئے فرمایا: شیعہ اور سنیوں کے درمیان اختلاف کو شعلہ ورکرنے اور شیعیت کی ترویج کے جھوٹے الزامات اور وہ بھی ایک ایسے ملک میں جہاں کے تمام سنی،  اہلبیت (ع)کے دوستدار اور محب ہیں اور اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی منہ زور طاقتیں اور ان کے علاقائی رجعت پسندحواری انقلاب اسلامی سے کس قدر خائف ہیں۔رہبر معظم نےفرمایا: جمہوری اسلامی کےبارے میں سامراجی طاقتوں کی سازش اور خصومت کا اصلی سبب یہ ہے کہ ایرانی عوام نے تسلط پسند نظام پر گہرا وار کیا ہے اور ایرانی عوام اور اسلامی نظام اس وقت ایک مضبوط و مستحکم چٹان کی طرح استوار ہیں  ہمیں ایرانی عوام کی استقامت اور ہوشیاری میں خدا وند متعال کی رحمت کے جلوے نظر آتے ہیں خدا وند متعال کی عظیم پشتپناہی نےہر فرد بالخصوص علماء کی ذمہ داری کو دو چنداں بنا دیا ہے۔رہبر معظم نے دوست و دشمن کی پہچان کی ضرورت اور سامراجی طاقتوں کے بعض پیچیدہ طریقوں کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا: غزہ کی 22 روزہ جنگ میں جب ایرانی عوام کی طرف سے غزہ کے مظلوم فلسطینیوں کی مکمل مدد کا سلسلہ جاری تھا اس وقت تخریب کاری کا ایک ایسا شیطانی وائرس معاشرے میں چھوڑا گیا کہ فلسطینی ناصبی اور اہلبیت(ع) کے دشمن ہیں اور ان کی مدد جائز نہیں ہے تاکہ اس طرح ایرانی عوام کو فلسطینیوں کی مددکرنے سےروکا جائے اور شیعہ اور سنیوں کے درمیان بدگمانی پھیلائی جائے اور ایران کو فلسطینی عوام کی حمایت سے دست بردار ہونے پر مجبور کیا جائے۔رہبر معظم نے اسی سلسلے میں فرمایا: اسی طرح بعض افراد شیعہ کتابوں اور تقریروں میں ایسی باتوں کی تلاش و جستجو میں رہتے ہیں تاکہ ان کے ذریعہ سنیوں کے مقدسات کی توہین کو پیدا کریں اور ان میں شیعوں کی نسبت بد گمانی پھیلائیں  لیکن قوم کے ہر فرد بالخصوص شیعہ اور سنی علماء کا فرض ہے کہ وہ دشمن کی پیچیدہ سازشوں سے باخبر رہیں اور دشمن کی مخفی اور ظاہری حرکات کے سامنے استقامت کا مظاہرہ کریں اور اسے مسلمانوں کی صفوں میں اختلافات ڈالنے اور بدگمانی پھیلانے کی اجازت نہ دیں اور معاشرے میں باہمی تعاون و ہمدردی و ہمدلی کی فضا کو قائم رکھیں۔


All Content by AhlulBayt (a.s.) News Agency - ABNA is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License