آیۃ اللہ رفسنجانی:

انسانی حقوق کا مغربی دعوی جھوٹا ہے

تہران کی مرکزی نمازجمعہ آج تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سربراہ آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی کی امامت میں اداکی گئی جس میں نمازیوں کی ایک بہت بڑی تعدادنے شرکت کی ۔

 آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے نمازکے پہلے خطبے میں نمازیوں کوتقوائ الہی اختیارکرنے اور گناہوں سے دوررہنے کی سفارش کی ۔آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی اسلامی نظام کی تشکیل میں مختلف ارکان کی اہمیت کے تعلق سے اپنی گذشتہ بحثوں کوجاری رکھتے ہوئے مسجد اوراس کی تعمیرکی اہمیت پرروشنی ڈالتے ہوئے اس کی افادیت پرزوردیا  ۔ انھوں نے اسلامی معاشرے کی تعمیراوراس کی باطنی پاکیزگی میں مسجد کے کردارکا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ مسجد کوایک دینی مرکزکے طورپردیکھنا اوراس سے استفادہ کرنا چاہئے ۔انھوں نے مسجد میں امام جماعت کی موجودگي کی بھی اہمیت کوغیرمعمولی اہمیت کا حامل قراردیا اورکہاکہ مسجد کوکبھی بھی اپنے ذاتی مقاصدیا تجارت کے لئے استعمال ہونے کی اجازت نہيں دی جانی چاہئے انھوں نے کہاکہ اسلام اورمسلمانوں کی عظمت کے تحفظ میں مساجد نے ہمیشہ بہت ہی اہم کردارکیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ مدینہ پہنچنے کے بعد رسول اکرم نے جوپہلا کام کیاوہ مسجد کی تعمیرتھا ۔انھوں نے مسجد کی تعمیرمیں اخلاص کے عنصرکی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ  کہ اگرمسجد کی تمعمیر میں غیرالہی مقاصد شامل ہوں گے تودینی مراکزسے عوام کا اعتماد ختم ہوجائے گا ۔ انھوں نے مسجد کے وجودکی اہمیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ حضرت آدم کی پیدائش سے لے کرحضرت رسول اکرم کے زمانے تک مسجدوں کی سرگرمی کسی نہ کسی عنوان سے تاريخ میں موجودہے جس کا مطلب یہ ہوا کہ ہردورمیں مسجد کا انسانی زندگی میں ایک بہت ہی اہم مقام رہا ہے تہران کے خطیب جمعہ آیت  اللہ ہاشمی رفسنجانی نے نمازکے دوسرے خطبے میں ہفتہ کی مختلف مناسبتوں کا ذکرکرتے ہوئے گذشتہ برسوں کے دوران اس ہفتے میں شہیدہونےوالے علماء ومجاہدین کوخراج عقیدت پیش کیا جن میں حجت الاسلام شاہ آبادی بھی شامل ہيں انھوں نے اسی طرح شہید جنرل قرنی کی شہادت کی برسی کا بھی ذکرکرتے ہوئے ان کی فداکاریوں خاص طورپرایران کے صوبے کردستان میں ہونےوالی شورش کوقابوکرنے میں ان دلیرانہ قربانیوں کا ذکرکیا انھوں نے اسی طرح فضائیہ کے کمانڈرشہید شیرودی کوبھی خراج عقیدت پیش کیا اورکہاکہ انھوں نےدفاع مقدس کے مختلف مراحل میں بے پناہ قربانیاں دی ہيں ۔ انھوں نے ایران کے علاقے طبس میں امریکی فوج کوہونےوالی شکست وذلت کومعجزہ الہی سے تعبیرکیا اورکہاکہ طبس کا واقعہ بھی اسی ہفتے میں پیش آیا ۔ انھوں نے تہران میں امریکہ کے جاسوسی اڈے میں یرغمال بنائے گئے امریکی جاسوسوں کوچھڑانے اورایران پرحملہ کرنے کے امریکی منصوبے کی پیچیدگیوں کا ذکرکرتے ہوئے کہاکہ یہ واقعہ ایک ایسے وقت پیش آیا جب ہمیں اس کے بارے میں پہلے سے کسی بھی طرح کا علم نہيں تھا مگراللہ نے انھیں ذلیل ورسوا کیا اوریہ وہ حقیقت ہے جس کا اعتراف خودامریکیوں نے بھی کیا ہے  ۔تہران کے خطیب جمعہ نے اسی طرح عراق کے شہر مقدادیہ میں گذشتہ روزایرانی زائرین پرہونےوالے دہشت گردانہ حملے  کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہاکہ جولوگ اسلام کے نام پراس طرح سے عام شہریوں اورزائرین کا خون بہاتے ہيں وہ اس دورکے سب سے بڑے جاہل اوربے دین ہيں ۔انھوں نے کہاکہ ایسے لوگ اسلام کے دشمن ہيں کیونکہ وہ اپنے اس طرح کے اقدامات سے اسلام کوبدنام کررہے ہيں ۔تہران کے خطیب جمعہ نےاسی طرح قابض امریکی فوج کوبھی اس طرح کے حملے کا ذمہ دارقراردیا اورکہاکہ چونکہ امریکہ نے عراق پرقبضہ کررکھا ہے اس لئے وہاں ہرطرح کی سیکورٹی کی ذمہ داری امریکہ پرہی عائد ہوتی ہے ۔جناب ہاشمی رفسنجانی نے اسی طرح یوم مسلح افوا ج کا بھی ذکرکیا اورکہاکہ اس حساس مرحلے میں امام خمینی رہ نے جس شاندار دوراندیشی اوربصیرت کا مظاہرہ کیا وہ اپنی مثال آپ ہے انھوں نے کہاکہ اس وقت بہت سے لوگ یہ کہہ رہے تھے کہ چونکہ یہ فوج شاہ کے زمانے کی ہے اس لئے ایک نئی فوج تشکیل دی جانی چاہئے لیکن امام خمینی رہ نے فوج کے جوانوں کی وفاداریوں پراعتماد کیا اورفوج کی طرف سے اعلان وفاداری پرپورابھروسہ کرکے ایک بہت بڑا کارنامہ انجام دیا اورآج ایران کی فوج کے جوان بے پناہ جذبہ حب الوطنی کے ساتھ ملک کا دفاع اوراس کی خدمت کررہےہيں انھوں نےاسی طرح یوم مئی اورعالمی یوم محنت کشاں کا بھی ذکرکرتے ہوئے کہاکہ ایران کے بھی محنت کشوں نےاسلامی انقلاب کوکامیابی سے ہمکنارکرنے میں بہت ہی اہم کردیا ہے انھوں نے کہاکہ اگرنیشنل آئل کمپنیوں کے کارکن ہڑتال نہ  کرتےتو اسلامی انقلاب اتنی آسانی سے کامیاب نہيں ہوسکتا تھا ۔تہران کے خطیب جمعہ نے اسی طرح پانچ جمع ایک گروپ کے ساتھ ایران کے مذاکراتی عمل کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ ایران نے ہمیشہ غیرمشروط مذاکرات کے لئے اپنی آمادگی کا اعلان کیا مگریورپی ممالک نے ہمیشہ شرط عائد کی جس کی وجہ سے یہ مذاکراتی  عمل معطل رہا مگراب یورپی ممالک اورامریکہ کے لب ولہجہ میں تبدیلی آئی ہے اورامریکی صدرباراک اوبامہ نے بھی ایران کے تعلق سے نسبتا نرم لب ولہجہ اپنایا ہے ۔تہران کے خطیب جمعہ نے کہاکہ ان ممالک نے اب اس بات کا اعتراف کرلیا ہے کہ ایران سے دھونس ودھمکی کی زبان بات نہيں کی جاسکتی ۔انھوں نے کہاکہ ایران نے امام خمینی رہ کی حیات کے زمانے میں بھی کہا تھا کہ اگرامریکہ اپنی رفتاروگفتارکی اصلاح کرلے توامریکہ کے ساتھ مذاکرات میں کوئی مضائقہ نہيں ہے آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی نے اسی طرح امریکہ کی وزیرخارجہ کے حالیہ بیان کوباراک اوبامہ کے بیان سے متضادقراردیا اورکہا کہ ہیلری کلنٹن کا بیان ان کے صدرکے بیان سے فاصلہ رکھتا ہے تہران کے خطیب جمعہ نے اسی طرح جنیوا میں ہونے والے ڈربن ٹواجلاس کا ذکرکرتے ہوئے کہاکہ اس اجلاس میں یورپی ممالک بری طرح رسواہوئے ہيں اوروہ اپنے امتحان میں ناکام ہوگئے ہیں ۔انھوں نے کہا کہ انسانی حقوق کے دعویداروں نے گذشتہ تیس برسوں سے خودکوانسانی حقوق کا علمبردارقراردے رکھا ہے مگرانھوں نے جنیوااجلاس میں جوکچھ کیا اس سے یہ ثابت ہوگیا ہے کہ وہ نسل پرستی کے کسی بھی طرح مخالف نہيں ہيں اورانسانی حقوق کے بارے میں ان کے دعوے کہيں سے بھی صداقت پرمبنی نہيں ہيں ۔تہران کے خطیب جمعہ نے ایران کی مشرقی سرحدوں پرسیکورٹی کے بارے میں کہاکہ ہمیں پاکستان کے حکام سے یہ توقع ہے کہ وہ ایران کی سرحدوں کے قریب سیکورٹی کے معامالات کویقینی بنائيں گے اوراسی طرح افغانستان کی بھی حکومت ایران سے ملحقہ سرحدوں پردہشت گردوں کی سرگرمیوں پرگہری نظررکھے گی آیت  اللہ ہاشمی رفسنجانی اسی طرح آنے والے صدارتی انتخابات کوبھی انتہائی تقدیرسازقراردیا اورکہا کہ انتخابات میں شرکت سبھی کا حق ہے ۔انھوں نےایران کے عوام سے کہا کہ وہ ان انتخابات  کی اہمیت کودرک کریں کیونکہ اگرعوام انتخابات سے لاتعلق رہيں گے تواس سے خود ان کا ہی نقصان ہوگا ۔  


All Content by AhlulBayt (a.s.) News Agency - ABNA is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License