جنیوا میں صہیونیوں کی رسوا کن شکست

صدر مملکت نے کہا: صہیونیت ایک سیاسی جماعت کا نام ہے جو بہت ہی پیچیدہ، تشدد پسند اورانبیائے الہی کی تعلیمات کے خلاف ہے اور دنیا کی تمام قوتوں پر تسلط جمانے کے لئے تشکیل پائی ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی – ابنا کی رپورٹ کے مطابق جنیوا میں صہیونیت اور اس کے حامیوں کو رسوا کردینے کے بعد ڈاکٹر احمدی نژاد تہران واپس آئے اور اسلامی ممالک کے اٹارنی جنرلز کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا:

صہیونیوں نے یہودیت کا نقاب اوڑھ رکھا ہے جو کہ ایک جھوٹا نقاب ہے جبکہ صہیونی دینداری کے خلاف، دین اور دیانت کے بنیادی دشمن اور خدا کی تعلیمات کے مخالف ہیں.

انہوں نے کہا: صہیونی دو روشوں سے دنیا میں اپنا انتظام چلاتے ہیں: خفیہ روش  اور اعلانیہ روش

خفیہ روش کے لئے انہوں نے دنیا میں مختلف ڈھانچے قائم کئے  ہیں جو ان کے مقاصد کے لئے کام کرتے ہیں. اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل ہی کو دیکھئے جن پر صہیونزم کا لیبل نہیں لگا ہے مگر ان کا کام صہیونیت کے مفادات کی حفاظت کرنا ہے. صہیونی قوتیں ان اداروں کا انتظام خفیہ انداز سے چلاتی  ہیں مگر ان کی خفیہ اور اعلانیہ روشیں جنیوا میں ناکام ہوگئیں اور صہیونیوں کو رسوائی کا منہ دیکھنا پڑا.

صہیونی ریاست نسل پرستی ہی کا دوسرا نام ہے۔

صدر مملکت نے کہا: صہیونیت کے حامیوں نے جنیوا کانفرنس میں منصوبہ بندی کررکھی تھی کہ یوں ظاہر کیا جائے کہ گویا صہیونی ریاست نسل پرستی کے خلاف ہے اور صہیونیت کے حامی بھی ایسے ہی  ہیں مگر وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے.

صہیونزم بے شک نسل پرستی کے ہم معنی ہے اور یہ بات اس وقت دنیا کے تمام حریت پسندوں اور بہت سی حکومتوں کے نزدیک امر مسلم ہے اور دنیا والے جانتے  ہیں کہ صہیونیت نسل پرستی کا دوسرا نام ہے؛ انہوں نے جنیوا کانفرنس میں منصوبہ بندی کررکھی تھی کہ ڈربن کانفرنس کے اعلامئے سے "صہیونی ریاست نسل پرستی کے ہم معنی ہے" کی عبارت حذف کی جائے؛ انہوں نے کانفرنس کا انتظام اس طرح سے چلانا چاہا کہ یہ کام بغیر کسی شور و غل اور بحث و جدل کے، سرانجام کو پہنچے اور اس کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے منظور شدہ قانوں کی حیثیت سے دنیاوالوں پر مسلط کردیں جیسا کہ انہوں نے جنرل اسمبلی میں ہی ہالوکاسٹ کا قانون منظور کرایا تھا. انہوں مدتوں سے اس منصوبے پر کام کیا تھا اور صہیونیت کے حامی - جو عالمی صہیونی جماعت کے رکن  ہیں- اور ہروقت حق بجانب اور قرض خواہ دکھائی دیتے  ہیں اور مسلسل معترض رہتے ہیں، - پیچھے ہٹ گئے تا کہ جنیوا کانفرانس خاموشی کے ساتھ اختتام پذیر ہو اور ان کا مقصد بھی حاصل ہو مگر جب اسلامی جمہوریہ ایران نے کانفرنس میں شرکت کا اعلان کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ ان کے منصوبے خاک میں مل گئے؛ اور صہیونی ریاست کو نسل پرست ریاست کے عنوان سے عالمی مذمت سے نہیں بچایا جاسکے گا اور بعد میں آپ نے بھی دیکھا کہ انہوں نے اپنے اوپر لعنت ملامت کا سلسلہ شروع کیا اور شرکت نہ کرنے پر نادم ہوئے اور اس ندامت کا انہوں نے شدت سے اظہار بھی کیا. وہ کہہ رہے تھے کہ انہوں نے میدان خالی کیوں چھوڑا.

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے مجھ سے کہا کہ «ہم نے ماہرین کی کمیٹیوں اور ابتدائی اجلاسوں میں اسرائیل اور نسل پرستی کے ہم معنی ہونے کی عبارت حذف کردی ہے؛ چنانچہ آپ بھی نرم لب و لہجہ اپنائیں اور میں نے ان کے جواب میں ان کے لئے افسوس کا اظہار کیا اور کہا: آپ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل  ہیں اور ہم سے توقع رکھتے  ہیں کہ غزہ کے مسائل، خطے کے ممالک پر حملوں، فلسطینی عوام کو دہشت گردی کا نشانہ بنائے جانے اور صہیونیوں کے ساٹھ سالہ جرائم کے بارے میں نہ بولیں؟

انہوں نے کہا: ہاں آپ اس سلسلے میں بات کریں تو میں نے کہا کہ ان تمام مسائل اور ان تمام واقعات کا خلاصہ ہے نسل پرستی اور جرم».

ان کا منصوبہ تھا کہ نسل پرستی کی نئی تعریف دنیا والوں پر مسلط کردی جائے تا کہ یہی صہیونی نسل پرست کل کلان اپنے دشمنوں پر نسل پرستی کے الزامات دھرسکیں۔

وہ تمام ممالک میں استعماری گروہ تشکیل دینا چاہتے تھے تا کہ دنیا کے ممالک کو خطرے سے دوچار کردین اور ان گروہوں کی مخالفت کرنے والی کسی بھی حکومت پر نسل پرستی کا الزام لگانا چاہتے تھے؛ انہوں نے انسانی حقوق کے ساتھ بھی یھی سلوک کیا اور انسانی حقوق کی تعریف انہوں نے اس طرح سے پیش کی ہے کہ دنیا والے ہمیشہ ان کے سامنے مقروض رہا کریں اور وہ ہمیشہ مدعی رہیں.

وہ لوگوں کو دہشت گردی کا نشانہ بناتے  ہیں؛ لوگوں کو اسیر کرتے ہیں؛ ان کی خفیہ جیلیں ہوتی ہیں؛ ممالک پر قبضے جماتے ہیں؛ کیمیاوی اور ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کرتے  ہیں اور دنیا کے ہرگوشے میں انسانوں کا قتل عام کرتے  ہیں اور اس کے باوجود انسانی حقوق کے مدعی بھی وہی ہیں!.

وہ جنیوا کانفرنس میں نسل پرستی کے نام پر ایک نیا ہتھیار حاصل کرنا چاہتے تھے تا کہ اس بار نسل پرستی کی مخالفت کا نعرہ لگاکر مستقل ممالک کے خلاف اس ہتھیار سے استفادہ کرسکیں؛ کروڑوں انسانوں کو گھروں سے اٹھانے والے، کروڑوں کو زبردستی غلام بنانے والے اور کروڑوں انسانوں کو نیست و نابود کرنے والے – جو اسی وقت بھی نسل پرستی کی بدترین مثالین قائم کررہے  ہیں– نسل پرستی اور نسلی امتیاز کی مخالفت کرنے کے مدعی بننا چاہتے تھے اور یہ صہیونیوں کا خفیہ منصوبہ تھا؛ مگر حریت پسند اقوام کا ارادہ صہیونیوں کے خبیث منصوبے پر غالب آگیا اور فتحمند ہوا.

ان کا دوسرا اور چھوٹے پیمانے کا منصوبہ یہ تھا کہ انہوں نے کچھ افراد کو تمام رکاوٹوں سے گذر کر کانفرنس ہال میں داخلے کی اجازت دے دی تھی تا کہ وہ اقوام متحدہ کے ایک قطعی رکن ملک کے سربراہ کے خطاب میں خلل ڈال دیں مگر ساری دنیا نے دیکھا کہ صہیونی اس منصوبے میں بھی بری طرح ناکام اور رسوا ہوئے. وہ کچھ بزدل افراد کی خدمات حاصل کرکے اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانا چاہتے تھے؛ انہوں نے جب پہلے منصوبے میں شکست کھالی تو دوسرے منصوبے پر عمل درآمد شروع کیا تا کہ کوئی بھی صہیونی ریاست کے خلاف نہ بول سکے.

میں ان سے کہتا ہوں کہ تم جو یورپ کے قلب میں ایک بین الاقوامی اجلاس کو سیکورٹی فراہم کرنے سے عاجز ہو عالمی امن کی ضمانت کیونکر دے سکوگے؟

تم نے پچاس برسوں سے بیان کی آزادی، تحمل، مسامحت، اور ٹالرنس جیسے نعرے لگا لگا کر گوش فلک بہرا کردیا ہے اور انبیاء الہی تک کی توہین کو جائز قرار دیا ہے تم نے انسانی قدروں کی بھی توہین کی ہے اور جب بھی کسی نے احتجاج کیا ہے تم نے بیان کی آزادی کا بہانہ پیش کیا ہے.

میں ان سے کہتا ہوں کہ یہ نعرے لگانے کے باوجود تمہاری اپنی تشکیل یافتہ کانفرنس میں تم 20 منٹ تک اپنے مخالفین کی باتیں سننے کے روادار نہیں ہو! اس اجلاس سے ایک بار پھر ثابت ہوگیا ہے کہ بیان کی آزادی کا نعرہ بھی اپنی مرضی دوسروں پر ٹھونسنے کے لئے ہے. حیرت ہے کہ جو لوگ صرف دس منٹ تک اپنے مخالفین کی باتیں نہیں سن سکتے دوسروں کو عدم تحمل مزاجی کے حوالے سے مورد الزام ٹہراتے ہیں؟

میں ان سے کہتا ہوں کہ ابھی ابتدائے راہ ہے اب تو تمہیں اپنا چہرہ مزید بھی دیکھنا ہے آئینے میں!؛ صہیونیوں کی زبان درازی کا دور گذر گیا ہے. 50 برسوں سے ان کو یکطرفہ طور پر بولنے کی عادت پڑگئی تھی ان کی عادت تھی کہ قرض خواہوں کی طرح اقوام عالم سے مخاطب ہوں ان کی زبان بہت لمبی تھی مگر ان کے پاس سننے کے لئے کان نہیں تھے؛ میں ان سے کہتا ہوں کہ وہ دور ختم ہوگیا ہے اب تمہیں اپنے کان کھولنا پڑیں گے اور زبان بند رکھنی پڑے گی.

گزشتہ چار صدیوں کے دوران عالم انسانیت نے عالمی انتظام کی بنا پر ماضی کی طرف سفر کیا؛ چار صدیوں کا یہ دور بڑی بڑی جنگوں اور انسانی حقیقت کو نیست و نابود کرنے کی کوششوں سے بھرا پڑا ہے؛ خاص طور پر گذشتہ ایک صدی کے دوران ہم نے انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب کا عروج دیکھا اور صرف دو جنگوں کے دوران دس کروڑ انسان موت کے بھینٹ چڑھ گئے جبکہ مورخین کے مطابق بیسویں صدی سے قبل لڑی جانے والی جنگوں میں بھی ایک کروڑ انسان ہلاک ہوگئے تھے؛ مسلط قوتوں نے دنیا کے تمام گوشوں پر جنگیں مسلط کردیں؛ انہوں نے منظم انداز سے اقوام کی دولت لوٹ ڈالی اور ان کے حقوق کو ضائع کردیا مگر میں آج کہنا چاہتا ہوں کا دنیا پر حکمفرما یہ سیاہ دور ختم ہوچکا ہے اور آج اقوام عالم جاگ اٹھی ہیں؛ آج انصاف پسندی، دوستی، پاکی اور پاکیزگی اور برادری کے فروغ، امتیازات، جارحیت اور جدید نسل پرستی کے خاتمے کا دور ہے؛ اور اب اس عظیم لہر کو روکنا ان کی بس کا روگ نہیں ہے اور وہ اس کو بچگانہ اور نہایت ابتدائی روشوں کے ذریعے روک نہیں سکیں گے.

انسانیت کا روشن مستقبل بہت قریب ہے اور نیا دور ظلم، تحقیر و تذلیل، اپنی مرضی دوسروں پر مسلط کرنے، جارحیت، نسل پرستی، انسان کشی، انسانیت


All Content by AhlulBayt (a.s.) News Agency - ABNA is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License