اسامہ بن لادن حراست میں !!

ابنا نے شیعہ آنلائن کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ فرانسیسی زبان میں چلنے والے ٹیلی ویژن چینل «ژیمی» نے گذشتہ روز اپنے نیوز پروگرام میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی گرفتاری کا دعوی کیا اور دوسرے چینلز نے بھی ژیمی کے حوالے سے اس خبر کو کوریج دی.      

ژیمی ٹیلی ویژن کی عین عبارت یہ تھی کہ «دنیا اور خاص طور پر امریکہ کی ایجنسیوں کو سب سے زیادہ مطلوب شخص القاعدہ کے سربراہ "اسامہ بن لادن" حال ہی میں پاکستان کی سیکورٹی ایجنسی کے ہاتھوں وزیرستان ایجنسی کے ایک سرحدی علاقے میں گرفتار ہوئے ہیں». اس کے بعد بلجیئم، جرمنی اور دیگر یورپی ممالک کی خبر ایجنسیوں نے یہ رپورٹ شائع کردی.

اس رپورٹ کی خاص بات یہ تھی کہ کل رات گئے ژیمی ٹیلی ویژن نے بعض تصاویر بھی دکھائیں جن سے بن لادن کی گرفتاری کی کیفیت ظاہر ہوتی تھی. ان تصاویر میں ایک لمبے داڑھی والے گرفتار شخص کو دکھایا گیا جس کی آنکھیں بندھی ہوئی تھیں اور «لگتاتھا کہ گویا وہ اسامہ بن لادن ہی ہیں» اور کئی سیکورٹی اہلکار اسے ایک گاڑی میں بٹھارہے ہیں!.

اس چینل نے اس کے بعد صدر پاکستان کو دکھایا جو پاکستانی فورسز کے ہاتھوں بن لادن کی گرفتاری کا اعلان کررہے تھے البتہ ان کے خطاب کا فرانسیسی ترجمہ پیش کیا گیا.

ژیمی نے دعوی کیا کہ پاکستان میں مقیم اس کے نامہ نگار نے بھی اس خبر کی تصدیق کی ہے. چینل کے نیوز ریڈر نے کہا کہ بن لادن کی گرفتاری حادثاتی طور پر عمل میں آئی ہے اور وہ کئی دیگر افراد کے ساتھ ایک گاڑی میں سفر کررہے تھے کہ سیکورٹی اہلکاروں نے انہیں پہچان کر حراست میں لیا!.

مذکورہ چینل نےکئی فرانسیسی تجزیہ نگاروں اور فرانسیسی پارلیمنٹ کے ایک رکن کو بھی اسٹودیو میں بلایا تھا جنہوں نے اس رپورٹ کا تجزیہ پیش کیا.

تاہم پاکستان میں کسی بھی رسمی ذریعے یا کسی آزاد ذریعے نے اس خبر کی تصدیق نہیں کی ہے.

یادرہے کہ امریکی حکومت نے اسامہ بن لادن کی گرفتاری کے لئے اپنے انعام کی رقم 25 میلین سے بڑھا کر 50 میلین ڈالر مقرر کی ہے.

بعض آزاد ذرائع نے بتایا کہ پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا کہ وہ بن لادن کی گرفتاری کی خبر کی تصدیق نہیں کرسکتے! اور بعض تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستانی وزارت خارجہ کے موقف سے ہرگز ظاہر نہیں ہوتا کہ بن لادن گرفتار نہیں ہوئے ہیں بلکہ لگتا ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان اس سلسلے میں معاملات طے ہورہے ہیں اور 5 کروز ڈالر کی رقم کی ادائیگی بھی ان ہی معاملات میں سے ایک ہے. لیکن دوسری جانب سے پاکستان سمیت تمام عالمی خبر ایجنسیوں کی خاموشی نے اس رپورٹ کی حقیقت کو مشکوک بنادیا ہے. گوکہ کہا جاتا ہے کہ بارک اوباما بش دور کے تمام معاملات جلدی سے نمٹانا چاہتے ہیں اور عین ممکن ہے کہ اسامہ واقعی گرفتار ہوگئے ہوں.