’امریکی جنگ القاعدہ کو کمزور کرنے میں ناکام‘

پاکستان اور مصر میں رائے دہندگان کی ایک بڑی تعداد القاعدہ تنظیم کے بارے میں منفی خیالات نہیں رکھتی

بی بی سی کی طرف سے کرائے جانے والے ایک عالمی سروے کے مطابق دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ اپنے سب سے بڑے ہدف القاعدہ کو کمزور کرنے میں ناکام ہوئی ہے۔سروے میں حصہ لینے والے تئیس میں سے بائیس ممالک کے افراد کے مطابق اوسطاً بائیس فیصد رائے دہندگان کا خیال ہے کہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کی وجہ سے القاعدہ تنظیم کمزور ہوئی ہے۔ سروے میں شریک ہر پانچ میں سے تین رائے دہندگان کہتے ہیں کہ اس جنگ کا القاعدہ پر کوئی اثر نہیں ہوا (انتیس فیصد) یا القاعدہ اس جنگ سے مضبوط ہوئی ہے (تیس فیصد)۔ سوائے مصر اور پاکستان کے تقریباً ہر وہ ملک جہاں یہ سروے کیا گیا ہے وہاں القاعدہ کے بارے میں منفی رویہ بہت مشترک ہے۔ مصر اور پاکستان دونوں القاعدہ کے خلاف جنگ میں اہم ترین ممالک ہیں۔ سروے کے یہ نتائج تئیس ممالک کے تئیس ہزار نو سو سینتیس بالغ شہریوں کی رائے پر مبنی ہیں۔ بی بی سی کے لیے یہ سروے عالمی پولنگ فرم گلوب سکین نے امریکہ کی میری لینڈ یونیورسٹی میں پروگرام آن انٹرنیشنل پالیسی ایٹیچوڈ کے ساتھ مل کر کیا ہے۔ اس سروے کے لیے فیلڈ میں آٹھ جولائی اور بارہ ستمبر کے درمیان کام کیا گیا۔ پاکستان اور مصر میں القاعدہ کے بارے میں ملی جلی یا مثبت سوچ رکھنے والے افراد کی تعداد کہیں زیادہ ہے جو اس تنظیم کے متعلق منفی خیال کے حامل ہیں۔ مصر میں چالیس فیصد اور پاکستان میں بائیس فیصد القاعدہ کے بارے میں ملی جلی رائے رکھتے ہیں جبکہ مصر میں بیس فیصد اور پاکستان میں انیس فیصد رائے دہندگان کا رویہ القاعدہ کے بارے میں مثبت ہے۔ مصر میں القاعدہ کے بارے میں منفی خیال رکھنے والے رائے دہندگان کی تعداد پینتیس فیصد جبکہ پاکستان میں انیس فیصد ہے۔ اس سوال کے جواب میں کہ ’دہشت گردی کے خلاف جنگ القاعدہ جیت رہی ہے یا امریکہ‘ رائے دہندگان کی ایک بھاری اکثریت کا کہنا ہے کہ یہ جنگ دونوں ہی نہیں جیت رہے۔یہ خیال پندرہ ممالک کے رائے دہندگان کا ہے۔ تین ملکوں کینیا، نائجیریا اور ترکی کے رائے دہندگان کی غالب اکثریت کہتی ہے کہ امریکہ یہ جنگ جیت رہا ہے۔جو رائے دہندگان یہ سمجھتے ہیں کہ یہ جنگ القاعدہ جیت رہی ہے ان کی تعداد پانچ میں ایک سے زیادہ کسی بھی ملک میں نہیں ہے۔ پاکستان میں یہ تعداد اکیس فیصد بنتی ہے جبکہ دوسرے ممالک میں رائے منقسم ہے۔ جن تئیس ممالک میں یہ سروے کیا گیا ہے وہاں اوسطاً صرف دس فیصد افراد کا خیال ہے کہ القاعدہ یہ جنگ جیت رہی ہے۔ بائیس فیصد سمجھتے ہیں کہ امریکہ اس جنگ کا فاتح ہے جبکہ سینتالیس فیصد کے مطابق یہ جنگ القاعدہ جیت رہی ہے اور نہ امریکہ۔خود امریکہ میں رائے دہندگان میں سے چونتیس فیصد کا کہنا ہے کہ القاعدہ کمزور ہوئی ہے۔ انسٹھ فیصد سمجھتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف (امریکی) جنگ بے اثر رہی (چھبیس فیصد) یا پھر اس سے القاعدہ مضبوط ہوئی (تینتیس فیصد)۔ امریکہ میں چھپن فیصد رائے دہندگان اس خیال کے حامل ہیں کہ یہ جنگ دونوں میں سے کوئی بھی نہیں جیت رہا، اکتیس فیصد کی رائے ہے کہ امریکہ جیت رہا ہے جبکہ آٹھ فیصد کا کہنا ہے کہ یہ جنگ القاعدہ جیت رہی ہے۔ اوسطاً تئیس ممالک کے اکسٹھ فیصد افراد کہتے ہیں کہ القاعدہ کے بارے میں وہ منفی رائے رکھتے ہیں، آٹھ فیصد کی رائے القاعدہ کے بارے میں مثبت ہے جبکہ اٹھارہ فیصد ملے جلے خیالات رکھتے ہیں۔ سٹیون کل جو پروگرام آن انٹرنیشنل پالیسی ایٹیچوڈ کے ڈائریکٹر ہیں کہتے ہیں: ’ امریکہ کے پاس بے پناہ فوجی طاقت ہے مگر پھر بھی القاعدہ کے خلاف جنگ میں اسے زِچ ہونے سے زیادہ کچھ نہیں ملا جبکہ بہت لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اس جنگ سے القاعدہ کو تقویت حاصل ہوئی ہے‘۔ گلوب سکین کے چیئرمین ڈاگ ملر کے الفاظ میں: ’یہ حقیقت کہ مصر اور پاکستان میں القاعدہ کے بارے میں بہت سے لوگوں کی رائے ملی جلی یا پھر مثبت ہے، اس بات کا عندیہ ہے کہ دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ لوگوں کے دل و دماغ نہیں جیت رہی‘۔    یہ سروے ایسے ممالک میں بھی کیا گیا ہے جن کے امریکہ کے ساتھ دوستانہ تعلقات ہیں۔ فرانس میں اڑتالیس فیصد، میکسیکو میں اڑتالیس فیصد، اٹلی میں تینتالیس فیصد، آسٹریلیا میں اکتالیس فیصد اور برطانیہ میں چالیس فیصد رائے دہندگان کا خیال ہے کہ امریکی جنگ سے القاعدہ مضبوط ہوئی ہے۔ وہ ممالک جن میں اکثر رائے دہندگان کے خیال میں امریکی جنگ سے القاعدہ کمزور ہوئی ہے ان میں کینیا میں اٹھاون فیصد، مصر میں چوالیس فیصد اور نائیجیریا میں سینتیس فیصد افراد شامل ہیں۔ جن ممالک میں غالب اکثریت کی رائے القاعدہ کے بارے میں منفی ہے ان میں چین کے اڑتالیس فیصد، انڈیا کے چوالیس فیصد، انڈونیشیا کے پینتیس فیصد، نائیجیریا کے بیالیس فیصد اور فلپائن کے بیالیس فیصد رائے دہندگان شامل ہیں۔