اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی

ماخذ : ابنا
پیر

1 اگست 2022

2:01:51 PM
1278885

دین معاشرے کو معتدل دیکھنا چاہتا ہے، علامہ علی رضا رضوی

واقعہ کربلا ،امام حسین اور آپ کے انصار نے دین کے بیان کردہ اصول ، سماجی عدل ، معقول و معتدل رویے اور عقل و جذبات کے مشترکہ اقدامات کی خاطر کسی قسم کی استبدادی و استحصالی روش کو قبول نہیں کیا لہٰذا آپ اور آپ کے انصار کے خون کی مہک انسان کے لئے ہر دور میں رہبری کا ذریعہ ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ شہدائے کربلا ٹرسٹ اور خیر العمل ورکنگ کمیٹی کے زیرِ اہتمام عشرہ محرم الحرام کی دوسری مجلسِ عزاء سے خطیب اہلبیت علیہم السلام علامہ سید علی رضا رضوی نے اپنے موضوع دین و حکمت پر خطاب کرتے ہوئے کہا دین کا تعلق معاشرے سے ہے اور دین اپنے پیروکاروں کو ذمہ داری اور معاشرے میں معقولات  کو رواج دینا چاہتا ہے اور اپنی نمائندگی کرنے والے ہر نفر و کارکن سے یہ امید رکھتا ہے کہ ضد ، ہٹ دھرمی ، دھونس اور جبر کو ترک کرتے ہوئے حکمت ، معقولات ، عدالت اور تواضع کے ذریعہ معاشرے کو اخلاقیات سے نزدیک کرے جہاں دعوت کا اہتمام کلام کے بجائے عمل و کردار سے ہو دین عقل و جذبات ہردو لحاظ سے انسان کو اعتدال کے دروازے پر کھڑا دیکھنا چاہتا ہے تاکہ دل و دماغ یکسوئی کے ساتھ انسانوں کے انفراد و اجتماع کے سہولت کار بن سکیں جبکہ دل و دماغ اور عقل و جذبات کے مابین اعتدال انسان کو ہر طرح کی تجاوز و تقصیر سے بھی باز رکھتا ہے اور سماج میں انصاف کے نظام کے استحکام اور ظلم و زیادتی کے خلاف انسدادی عمل کے فروغ کا باعث بنتا ہے واقعہ کربلا ،امام حسین اور آپ کے انصار نے بھی دین کے بیان کردہ اصول ، سماجی عدل ، معقول و معتدل رویے اور عقل و جذبات کے مشترکہ اقدامات کی خاطر کسی قسم کی استبدادی و استحصالی روش کو قبول نہیں کیا لہٰذا آپ اور آپ کے انصار کے خون کی مہک انسان کے لئے ہر دور میں رہبری کا ذریعہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲