اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی

ماخذ : فاران تجزیاتی ویب سائٹ
جمعہ

29 جولائی 2022

3:26:12 PM
1278021

ناجائز اسرائیلی ریاست خطے کے ممالک کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے سے عاجز کیوں؟

صہیونی ریاست ظاہری طور پر بہت سے ممالک کے ساتھ - دھوکہ دے کر یا خوفزدہ کرکے، - سفارتی تعلقات قائم کر سکتی ہے مگر یہ تعلقات گہرے نہیں ہو سکتے کیونکہ یہ ریاست جعلی اور بناوٹی ہے اور خطے کے عوام اس کے ساتھ کسی قسم کا تعلق برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔  صہیونی ریاست ظاہری طور پر بہت سے ممالک کے ساتھ - دھوکہ دے کر یا خوفزدہ کرکے، - سفارتی تعلقات قائم کر سکتی ہے مگر یہ تعلقات گہرے نہیں ہو سکتے کیونکہ یہ ریاست جعلی اور بناوٹی ہے اور خطے کے عوام اس کے ساتھ کسی قسم کا تعلق برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔
ڈاکٹر سعد اللہ زارعی کے ساتھ جام جم آنلاین کا انٹرویو
حالیہ مہینوں میں مغربی ایشیا میں بڑی تبدیلیاں آئی ہیں۔ ایک طرف سے عرب ممالک ایران کے ساتھ بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں اور دوسری طرف سے مغربی سفارتکار ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے کے احیاء میں حائل رکاوٹیں ہٹنے کی آس لگائے بیٹھے ہیں؛ جس کی وجہ سے تل ابیب کی جعلی ریاست کو تشویش لاحق ہوئی ہے اور اس نے "ابراہیمی امن منصوبے" نامی سازش کے نفاذ کو ملتوی کر دیا ہے۔ اسی اثناء میں یوکرین کی جنگ کے سائے بھی مغربی ایشیا کی صورت حال پر منڈلا رہے ہیں اور اس جنگ نے بین الاقوامی تعلقات کے قواعد کو تبدیل کردیا ہے اور ایک نئے کھیل کا آغاز ہؤا ہے جس میں نئے کھلاڑی بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں۔

سوال: یوکرین کی جنگ کو پانچ مہینے ہو چکے ہیں اور یہ جنگ بدستور جاری ہے۔ اس جنگ نے مغربی ایشیا پر کیا اثرات مرتب کئے ہیں؟
جواب: یوکرین کی جنگ درحقیقت مغرب کے خلاف مغرب کی جنگ ہے۔ یہ گذشتہ 230 برسوں میں یورپ میں لڑی جانے والی ستترویں جنگ ہے؛ یعنی یہ کہ 230 سالوں کے دوران یورپ نے اوسطاً ہر تین سال میں ایک جنگ لڑی ہے۔ عالمی جنگ میں آٹھ کروڑ انسان کام آئے اور چھوٹی جنگوں میں اس سے کم لوگ مارے گئے ہیں۔ یوکرین اور روس کی جنگ براعظم یورپ کی اوسط جنگوں کے زمرے میں آتی ہے (جانی نقصان کے لحاظ سے بھی اور مدت کے لحاظ سے بھی)۔ یقینا مغرب کے خلاف مغرب کی جنگ دوسرے ممالک کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتی ہے اور انہیں امکان دیتی ہے کہ ایک نئی فضا میں محاذ بندیوں اور گروہ بندیوں میں اپنی پوزیشن پر نظر ثانی کریں۔ یہ مسئلہ یوکرین اور مغربی ایشیا کے مسائل پر بھی صادق ہے۔ اس وقت ہمارے خطے میں سیاسی رجحانات کا ایک سلسلہ ابھرا ہے جس کی بنیاد یہ خواہش ہے کہ کس کو اس جنگ میں جیتنا چاہئے اور کس کو ہارنا چاہئے۔
ابتدائی تصور روس کی فیصلہ کن فتح پر مبنی تھا اور یہ تصور بعد میں معتدل ہوکر روس کی نسبتی فتح کے تصور میں بدل گیا۔ فیصلہ کن فتح کے تصور کے غلبے کے دوران عربی محاذ کے تعلقات و تعاملات میں ایک تبدیلی سامنے آئی اور روس اور چین کے ساتھ بہتر تعلقات کے قیام کا رجحان بڑھ گیا لیکن جب یہ تصور تبدیل ہؤا تو یہ سوال اپنی جگہ باقی رہا کہ مستقبل کس فریق کا ہے اور کس فریق کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دینا چاہئے؟ اس مسئلے نے بحیثیت مجموعی مغربی ایشیا پر اچھے اثرات مرتب کئے۔ یہاں تک کہ کہا جا سکتا ہے کہ خطے کے ممالک کے تنفّس کی فضا پہلے سے زیادہ کھل گئی ہے اور بہت سے موضوعات میں نظرثانی کا امکان فراہم ہو چکا ہے۔
اس عرصے میں ایران اور خطے کے ممالک کے درمیان تعلقات بہتر ہوئے ہیں، ان دنوں دوطرفہ وفود کے تبادلوں اور دوروں میں زبردست اضافہ ہؤا ہے۔ ایران برکس  (BRICS) تنظیم کی رکنیت حاصل کررہا ہے، ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات بحال ہو رہے ہیں؛ اور یہ سب ایک لحاظ سے یوکرین کی جنگ کا نتیجہ ہے۔ جو ممالک مغرب کی حمایت کو ہی "سب کچھ" سمجھتے تھے، رفتہ رفتہ سمجھ رہے ہیں کہ یورپ اور امریکہ ماضی جیسی افادیت کھو چکے ہیں، چنانچہ وہ کسی حد تک اپنے رویوں اور پالیسیوں پر نظر ثانی کرنے کی طرف مائل ہوئے ہیں۔
سوال: کیا اس جنگ کا حل سیاسی ہے یا فوجی؟
جواب: اس وقت یہ جنگ فوجی اور سلامتی کی حدود میں لڑی جا رہی ہے لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ حتیٰ جنگ کے دوران بھی سفارتکاری کو معطل نہیں کیا جاتا اور سفارتکاری کا عمل جاری رہتا ہے۔ اس جنگ میں بیک وقت جنگ بھی نظر آ رہی ہے اور سفارتکاری بھی۔ روس یوکرین سمیت کئی ممالک کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہے۔ جنگ بھی آخرکار سیاسی حل کے ذریعے اختتام پذیر ہوتی ہے۔ فطری امر ہے کہ جنگ کو ہمیشہ سفارتکاری کی ضرورت ہوتی ہے، چنانچہ اس جنگ کا حل بھی بالآخر سفارتکاری ہی ہے۔ لیکن یہ نکتہ بھی قابل ذکر ہے کہ روس اس جنگ میں نسبتی کامیابی حاصل کرکے یوکرین کے ایک بڑے حصے پر قابض ہو چکا ہے، اور یہ ابتدائی فتح ہے اور روس اسی کامیابی پر اکتفا کرکے مذاکرات کے ذریعے جنگ کو ختم کر سکتا ہے۔
سوال: اس جنگ میں ایران کیا کردار ادا کرسکتا ہے؟
سیاست کی دنیا میں ایک نظریہ ہے کہ "ہمارا دشمن ہمارا دوست ہے"، یہ نظریہ یہاں صادق آتا ہے۔ ہم نے اس جنگ میں اپنا موقف بیان کیا، جنگ کو مسترد کیا اور اسی اثناء میں مغرب کو اس جنگ کی جڑ قرار دیا۔ ہم ان چند ہی ممالک میں سے تھے جنہوں نے پہلے 24 گھنٹوں میں ہی اپنا دوٹوک موقف اپنا لیا۔ ہمارا یہ موقف ایک طرف سے روس اور یوکرین کے مفاد میں ہے۔ کییف اور ماسکو کی جنگ کی اصل جڑ روس نہیں بلکہ مغرب ہے اور ہمارا یہ موقف روس کی مدد کرتا ہے۔ چنانچہ روس اور یوکرین دونوں - ایک حد تک - ہم سے خوش ہیں۔ ہم روس کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں؛ بلا شبہ ہم یوکرین کی نسبت، روس کے ساتھ زیادہ قریب ہیں۔ کیونکہ ایک طرف سے یوکرین مغربی بلاک میں کھڑا ہے اور مغربی بلاک کے ساتھ ہمارے تعلقات میں گرم جوشی نہیں پائی جاتی، اور روس مشرقی بلاک میں واقع ہؤا ہے اور مشرقی بلاک کے ممالک کے ساتھ ہمارے تعلقات اچھے خاصے ہیں۔ اور پھر ایران کی ضروریات کی تکمیل کے لئے روس جتنے ملک کی ضرورت ہے نہ کہ یوکرین جتنے ملک کی۔ چنانچہ فطری لحاظ سے ہم روس کی طرف ہی دکھائی دیتے ہیں اور اس عمل میں بھی روسی ہی مرکزی حیثیت رکھتے ہیں جس کی مدد سے ہم روس کے ساتھ مختلف مسائل پر بات چیت کر سکتے ہیں؛ اور بات چیت کر بھی رہے ہیں۔ اور ایران اور روس کے درمیان گفتگو اور مشاورت کا سلسلہ جاری ہے۔
سوال: محمد بن سلمان کے دورہ ترکی اور ایران-سعودی سفارتی تعلقات کی بحالی کے لئے ہونے والے مذاکرات کو مدنظر رکھتے ہوئے، ایران-سعودی تعلقات کے بارے میں آپ کا تجزیہ کیا ہے؟
جواب: دو پڑوسی ممالک ہونے کے ناطے ایران اور سعودی عرب کے تعلق مکمل طور پر منقطع نہیں ہو سکتے؛ کیونکہ ہمارے درمیان حج کا موضوع بہت اہم ہے اور سعودیوں کے اوپر حج کے حوالے سے مسلم ممالک کی طرف سے کئی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور ہم اس قاعدے کے ذیل میں آتے ہیں۔ بطور مثال سعودی قلمرو میں پچھتر لاکھ اثناعشری، زیدی اور اسماعیلی شیعہ آباد ہیں جن کا ایران کے ساتھ اعتقادی تعلق ہے کیونکہ عالم تشیّع کا مرکز ایران میں ہے۔ چنانچہ دو ملکوں کے درمیان آمد و رفت کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ بہت سے سعودی شہریوں [خواتین و حضرات] نے ایرانیوں کے ساتھ شادیاں کی ہیں، اور اس قسم کے تعلق کبھی بھی منقطع نہیں ہو سکتے بلکہ خود بخود بحال رہتے ہیں اور بحال رہے ہیں۔ تاہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ رابطے سماجی زمرے سے باہر ہیں اور آمد و رفت اور مناسک حج کو مذاکرات میں بھی جاری رکھا جا سکتا ہے؟ جی ہاں، سلامتی کے میدان میں، ہم تعلقات رکھ سکتے ہیں، اقتصادی مسائل کے میدان میں، خاص طور پر توانائی کے شعبے میں، اور خصوصی طور پر مشترکہ گیس کے کنوؤں کے معاملے میں، ہمارے درمیان بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنا چاہئے۔
سوال: کیا موجودہ سفارتکاری ماضی کی طرح ہے یا یہ کسی دائرے کے اندر اور نقطۂ نظر کی تبدیلی پر مبنی ہے؟
جواب: ایران-سعودی تعلقات کئی عناصر پر مشتمل ہیں۔ مثلا مذہبی حوالے سے ملک حجاز کے شیعہ ایران آنا چاہتے ہیں اور ہم بھی حج اور عمرہ کے لئے حجاز کا سفر کرتے ہیں۔ اقتصادی لحاظ سے، ہمارے کچھ مشترکہ گیس اور تیل کے ذخائر ہیں، حتی کہ ہماری سلامتی بھی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور باہمی تعلق کا باعث بنتی ہے۔ اور بہت سے دوسرے مسائل بھی جو ہمیں ایک دوسرے سے جوڑ دیتے ہیں۔ محمد بن سلمان ایک عملیت پسند انسان ہے جو اپنے مفادات اور بہتر پوزیشن کے حصول کے لئے کوشاں ہے۔ ایران خطے کا طاقتور ملک ہے اور بن سلمان کی بہتر پوزیشن اس طاقت کے ساتھ بہتر تعلقات پر موقوف ہے۔ اس کے باوجود کہ باہمی سفارتی تعلق کو سعودیوں نے منقطع کر لیا ہے، جبکہ ہم تعلقات کے خواہاں تھے۔ بن سلمان کا ذاتی خیال یہ ہے کہ دوبارہ بحالی کے مسئلے کو ایک قیمتی سامان تجارت کے طور پر ایران کو فروخت کر سکے گا، جبکہ ہمارے خیال میں یہ دو طرفہ ضرورتوں کا مسئلہ ہے، اور ایسا نہیں ہے کہ صرف ایران ہی کو سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی ضرورت ہے۔ چنانچہ بالآخر بن سلمان کو بھی ایران کے ساتھ متوازن تعلقات قائم کرنے کی طرف جانا پڑے گا۔
سوال: بحیرہ قزوین کے ساحلی ممالک کے سربراہی اجلاس میں ایران کی علاقائی سفارت کاری کے مواقع کو کیسے دیکھتے ہیں؟
جواب: بحیرہ قزوین (Caspian Sea) ایران اور اس کے ساحلی ممالک کے لئے ایک مشترکہ اقتصادی خطہ ہے، اور ہماری کوشش یہی ہے کہ یہ خطہ اپنے اقتصادی رجحان کو محفوظ رکھے اور سیاسی، فوجی اور سلامتی کے حوالے سے باہمی تنازعات سے دور رہے۔ حالیہ مہینوں میں ایران اور مذکورہ ممالک کے درمیان منعقدہ معاہدوں کے بدولت ایران سمیت تمام ممالک کو ایک بہت اچھا موقع ملا۔ ترکمانستان کے ساتھ اقتصادی حسابات بے باق کرنے کے حوالے سے اختلافات تھے، جو حل ہوئے اور دوطرفہ تعلقات کو فروغ مل رہا ہے۔ تاجکستان کے ساتھ ہمارے کچھ مسائل تھے جو حل ہوئے، ایران اور آذربائی جان کے درمیان تعلقات خراب کرنے کی کوششیں ہو رہی تھیں جو ناکام ہوئی اور دوطرفہ تعلقات ایک منطقی دائرے میں، قائم ہوئے۔ ایران-روس تعلقات کو فروغ ملا، جس کے تحت روس دو طرفہ اقتصادی تبادلات کو ساڑھ چار ارب ڈالر سے 20 ارب ڈالر تک بڑھانے کا خواہشمند ہے۔ واقعات نے بتا دیا کہ بحیرہ قزوین کے ساحلی ممالک کے علاوہ حتیٰ تاجکستان بھی، جو بحیرہ قزوین کے ساحل سے دور اور رکن ممالک میں شامل نہیں ہے، من حیث المجموع اس نتیجے پر پہنچے ہیں بحیرہ قزوین سب کے لئے ایک مشترکہ اقتصادی علاقے کے طور پر کردار ادا کرتا رہے۔
سوال: انقرہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات بہت گہرے ہو چکے ہیں اور حال ہی میں امیر عبداللہیان نے شام کے مسائل کے حوالے سے ترکی کا دورہ کیا تھا۔ آپ اس پیش رفت کو کیسے دیکھتے ہیں اور کیا آپ کے خیال میں اسرائیل-ترکی تعلقات ایران کو نقصان پہنچا سکتے ہیں؟
حواب: سنہ 1922ع‍ میں سلطنت عثمانیہ کے زوال کے بعد ترکی نام کا ملک معرض وجود میں آیا، جبکہ فلسطین انگریزوں کے قبضے میں تھا اور اسرائیل غیر رسمی طور پر معرض وجود میں آ چکا تھا جو یہودیوں کو جمع کر کے فلسطین بھجوانے میں مصروف تھا۔ اور ترکی نے ان ہی ایام میں اسرائیلیوں کے ساتھ تعلقات قائم کرلئے چنانچہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خطے کے ممالک کے ساتھ اسرائیل کے تعلقات کبھی گہرے نہیں ہوئے مثلا مصر اور اسرائیل کے تعلقات کے کا سرکاری تعلق 44 سال پرانا ہے لیکن مصر اور اسرائیل آجع کہاں کھڑے ہیں؟ صہیونی ریاست کے حکمرانوں اور مصر کے آمروں کے درمیان تعلق برقرار ہے لیکن مصری عوام نے کبھی بھی اس تعلق کو تسلیم نہیں کیا اور مصری فوج نے کبھی بھی اسرائیل کو دوست نہیں سمجھا، اور اب تو اسرائیلی زوال کے آثار عیاں ہونے کے بعد غاصب ریاست کے ساتھ تعلق کے حوالے سے مصری حکومت کے تحفظات میں اضافہ ہؤا ہے۔
صہیونی ریاست پوری دنیا پر یہودی نسلی برتری کے تصور پر استوار ہے، وہ نیل سے فرات تک کے علاقے کو اپنی ملکیت سمجھتی ہے؛ اور اس صورت میں دوستی اور برابر کے تعلق کا تصور ہی ممکن نہیں چنانچہ زور زبردستی کے ذریعے آقا اور غلام کا تعلق ہی قائم ہو سکتا ہے اور غاصب ریاست کے ساتھ تعلقات کے دعویدار لوگ محض یہودیوں کے خدمت گزار ہو سکتے ہیں؛ کیونکہ اس طرح کی نسل پرستانہ سوچ کے ہوتے ہوئے کوئی بھی حکومت یا ملک و قوم کسی بھی حکومت یا ملک و قوم کے ساتھ گہرے برادرانہ تعلقات قائم کر ہی نہیں سکتی؛ اور تعلقات یا دوستی کا نعرہ در حقیقت استحصال کا ایک ذریعہ ہو سکتا ہے۔
چنانچہ اسرائیل اس علاقے میں کسی کے ساتھ گہرے تعلقات قائم کرنے سے عاجز ہے؛ کیونکہ یہ ریاست نسل پرست ہے، جعلی ہے، مسلمانوں اور عیسائیوں کی دشمن ہے، دنیا کے تمام انسانوں کو یہودیوں کے غلام و خادم سمجھتی ہے؛ نہ اس کے پاس کوئی قوم ہے نہ ہی سرزمین اور نہ ہی جمہوری حکومت۔ اس ریاست نے فلسطین کو غصب کر لیا ہے جہاں فلسطینیوں کی آبادی غاصب یہودیوں سے کہیں زیادہ ہے اور ملینوں فلسطینی ملک سے نکال دیئے گئے ہیں جو واپسی کے خواہاں ہیں؛ اور اگر کسی دن یہاں آزادانہ انتخابات ہوئے تو حکومت فلسطینیوں کے ہاتھ میں چلی جائے گی لیکن یہودی ایسا نہیں کرنے دیتے ہیں۔ جناب اردوگان نے اپنے ذاتی اور جماعتی مفادات کے لئے اس ریاست کے ساتھ تعلقات قائم کئے ہیں، جو دیر پا نہیں ہیں اور پھر ترک عوام مسلمان اور فلسطینی کاز کے حامی اور صہیونیوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات پر مبنی اردوگانی پالیسی کے خلاف ہیں۔ چنانچہ، جیسا کہ عرب حکمرانوں کی اسرائیل نوازی صہیونی غاصبوں کے ساتھ عرب عوام کی دوستی کے مترادف نہیں ہے، اردوگان کی یہود نوازی کا مطلب بھی یہ نہیں ہے کہ ترک عوام صہیونیوں کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں!
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ڈاکٹر سعد اللہ زارعی کے ساتھ جام جم آنلاین کا انٹرویو
ترجمہ: ابو فروہ مہدوی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲