ایران کے متعلق بے بنیاد خبریں چھاپنے کا مقصد سعودی عرب کے جرائم سے توجہ ہٹانا ہے

ایران کے متعلق بے بنیاد خبریں چھاپنے کا مقصد سعودی عرب کے جرائم سے توجہ ہٹانا ہے

سعودی عرب کے مظالم اب کسی پر بھی ذرہ برابر پوشیدہ نہیں رہے اور مسلمانوں کا ناحق خون بہانے کے بعد جس میں نہتے عوام، خواتین اور معصوم بچے شامل ہیں؛ کوئی بھی منصف مزاج انسان اسکی حمایت نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کی نیوز ایجنسیاں اور ان کے تابع دوسرے ذرائع ابلاغ اس قسم کی بیہودہ اور بے بنیاد خبریں شائع کرکے عوام کی توجہ کو سعودی عرب کے جرائم سے موڑنا چاہتے ہیں.

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ نہایت ہی افسوس کا مقام ہے کہ  آج کل  ہندوستان  اور کشمیر کے مختلف اخباروں میں رہبر انقلاب اسلامی مد ظلہ العالی، امام خمینی (رہ) اور انقلاب اسلامی ایران کے بارے میں ایک خاص سازش اور مقصد کے تحت ایسی خبریں چھاپی جا رہی ہیں جن کے پیچھے یقینا صیہونیت، وهابیت اور تکفیری گروه کا ہاتھ ہے۔ ان کا مقصد ہی شیعہ سنی اختلاف پیدا کرکے حکومت کرنا ہے اور ان خبروں  کے انتشار سے اس بات کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کون سے افراد بیرونی ملکوں خاص طور پر سعودی عرب یا اسرائیلی ریاست سے اس کام کے لئے ڈالر  لیتے ہیں تاکہ اپنی بے دینی اور بے غیرتی کو ثابت کرسکیں، ہم  دنیا کے تمام لوگوں کو آگاہ کرنا چاہتے ہیں کہ ولایت فقیہ ہماری ریڈ لائن ہے  اور ہمارے لئے یہ صرف ایک عام سیاسی اور دنیاوی منصب نہیں بلکہ اس کا ریشہ ہمارے عقائد سے جڑا ہوا ہے لہذا ولایت فقیہ اور ہمارے دینی عقائد کے سلسلہ میں ناروا الفاظ استعمال کرنا ہمارے عقائد پر براہ راست حملہ شمار ہوگا جو ناقابل قبول ہے۔
ہندوستان اور کشمیر کے تمام مومنین کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ افسوس کی بات ہے کہ حالیہ ہفتوں میں ایک جھوٹی اور مکمل طور پر گڑهی ہوئی افواہ بعض اخبارات اور سوشل میڈیا...وغیرہ میں پھیلائی گئی کہ تہران میں اہلسنت کی ایک مسجد کو مسمار کر دیا گیا ہے. وہابی اور تکفیری جماعتوں کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران سے اپنی دشمنی نکالنا اس افواہ کا مقصد ہے. ہم اس بے بنیاد شبہ کے ازالہ کے لئے اپنے قارئین کے لئے حقیقی صورتحال کو بیان کرنا لازم سمجھتے ہیں اور وہ کچھ اس طرح ہے. جنہوں نے ایران کا سفر کیا ہے وہ جانتے ہیں کہ ایران میں اہلسنت کی تقریبا گیارہ ہزار مسجدیں موجود ہیں.جن میں کئی لاکھ اہلسنت برادران خصوصا سیستان و بلوچستان، کردستان اور گلستان صوبوں میں نمازیں قائم کرتے ہیں.اہلسنت کے علاقوں میں سیکڑوں اہلسنت کے حوزہ ہائے علمیہ اور دینی مدارس موجود ہیں.اس کے علاوہ، مجلس شورائے اسلامی (قانون ساز پارلیمنٹ جس کے ممبران کو لوگ منتخب کرتے ہیں) میں شیعوں کی طرح برادران اہلسنت کے نمائندے بھی ہیں. مجلس خبرگان (ملک ایران کے قائد کی تعیین کیلئے کمیٹی) میں اہلسنت کے مندوب ہیں. ایران کے سنی نشین علاقوں میں مقام معظم رہبری حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای مدظلہ کی جانب سے ایک خاص نمائندہ ان کے امور کی رسیدگی کیلئے ہوتا ہے. لہذا ایسے حالات میں جب کہ ایران میں شیعہ اور سنی بهائیوں کے درمیان اتحاد اور ہمدلی اعلی سطح میں موجود ہے افسوس کہ دشمن اختلاف پهیلانے کی کوشش کرتے ہیں یہ وہی ایران ہے کہ جس کے بارے میں کہتے ہیں کہ ایران سے خبر آئی شیعہ و سنی ہے بھائی بھائی، عرب ممالکوں کے برعکس ایران میں  شیعہ و سنی دونوں مسالک کے پیروکار آباد ہیں.
قابل ذکر ہے کہ سعودی عرب کے مظالم اب کسی پر بھی ذرہ برابر پوشیدہ نہیں رہے اور مسلمانوں کا ناحق خون بہانے کے بعد جس میں نہتے عوام، خواتین اور معصوم بچے شامل ہیں؛ کوئی بھی منصف مزاج انسان اسکی حمایت نہیں کر سکتا۔  یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کی نیوز ایجنسیاں اور ان کے تابع دوسرے ذرائع ابلاغ اس قسم کی بیہودہ اور بے بنیاد خبریں شائع کرکے عوام کی توجہ کو سعودی عرب کے جرائم سے موڑنا چاہتے ہیں.
حالانکہ گذشتہ کچھ مہینوں میں سعودی عرب کے حملہ سے یمن کے اندر کئی سو مسجدیں، ہسپتال  اور اسکول ویران ہو گئے، بحرین میں بیس سے زیادہ شیعوں کی مساجد مسلمان حکومت نے مسمار کیں، عراق اور شام میں تکفیری جماعت داعش کے ہاتهوں سیکڑوں مسجدیں اور انبیا(ع)و اولیائے الہی کی قبریں دهماکوں سے اڑا دی گئیں اور کسی بھی میڈیا اور مولوی نے اس کی خبر نہیں شائع کی اور نہ ہی رد عمل ظاہر کیا . افسوس کہ وہ ایران میں ایک مسجد کے مسمار کئے جانے کی ایک جھوٹی افواہ کو پھیلانے میں بہت آگے نظر آئے. ان کا مقصد اختلافات کو ہوا دینے کے علاوہ کیا ہو سکتا ہے؟ آج ہندوستان میں شیعہ اور سنی برادران کے درمیان وحدت اور ہمدلی پہلے سے زیادہ ضروری اور واجب ہے. ہمیں متحد اور پیار و محبت سے رہنا چاہئے. اور داعش اور القاعدہ جیسی شدت پسند جماعتوں کے مقابلے میں ہوشیار رہنا چاہئے جن کا مقصد اسلام کو نقصان پہونچانے کے علاوہ کچھ نہیں ہے. اس لئے ہمیں ہوشیار اور بیدار رہنا چاہئے تاکہ ہم دشمن اسلام کے ہم نوالہ و ہم پیالہ نہ بنے اور اسلام محمدی(ص) کے بجائے اسلام امریکائی کے غلام نہ بنے .والسلام
تحریر: ریان حسین کشمیری

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

زیارت اربعین کی خبریں
دنیا میں عزائےحسینی کی خبریں
سینچری ڈیل، نہیں
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی

All Content by AhlulBayt (a.s.) News Agency - ABNA is licensed under a Creative Commons Attribution 4.0 International License