سعودی عرب میں عادلانہ نظام کے قیام عمل کے لیے

شہید شیخ نمر باقر النمر کے ہاتھوں کی تحریر، عزت و کرامت کی عرضداشت

 شہید شیخ نمر باقر النمر کے ہاتھوں کی تحریر، عزت و کرامت کی عرضداشت

شیخ نمر کی عرضداشت نے سعودی عرب کے اندرونی اور بیرونی افکار کی توجہ کو اپنی طرف جلب کر لیا، ان کی یہ تحریر ہر عام و خاص کا موضوع سخن بن گئی۔ یہ وہ چیز تھی جس نے آل سعود کی نیندوں کو حرام کر دیا۔ حالانکہ اگر سعودی حکومت اس منشور کو غنیمت جانتے ہوئے اپنی رعایا کے پامال ہو رہے شہری حقوق پر تجدید نظر کرتی تو ملک کی صورت حال میں بہتری آ سکتی تھی۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔

ترجمہ: سید افتخار علی جعفری

۲۰۰۷ کے موسم گرما میں سعودی عرب کے مشرقی علاقے کے رہنے والے عالم دین شہید شیخ نمر باقر النمر نے ایک سیاسی و سماجی ترقیاتی پلان اور منشور پیش کیا تھا جو اس ملک کے سیاسی اور سماجی حالات کو بہتر بنانے اور حکومت و ملت کے درمیان تعلقات میں بہتری لانے کے لیے ایک بہترین اور لاجواب لائحہ عمل تھا۔
شیخ نمر نے اس منصوبہ اور منشور کو ’’ریضۃ العزۃ و الکرامۃ‘‘ (عزت و کرامت کی عرضداشت) کے عنوان سے سعودی عرب کی حکومت کو پیش کیا اور اس کے بعد اپنے اس ایجاد کردہ منشور کو عملی جامہ پہنانے کے طریقہ کار کو نماز جمعہ کے خطبوں میں وضاحت کے ساتھ بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مبتکرانہ عرضداشت کے ذریعے کوشش کی جاتی ہے کہ  عدالت، برابری، آزادی اور سربلندی کے بنیادی قواعد پر مبنی عوامی حکومت کا وجود عمل میں لایا جائے اور اس کی قانونی حمایت، منصفانہ عدلیہ کے ذریعے کی جائے۔
یہ عرضداشت سعودی عرب کے سیاسی سوجھ بوجھ رکھنے والے عوام کے مطالبات کا خلاصہ اور عوامی حکومت کے قیام کو عمل میں لانے کا ایک شرعی منشور تھا۔ ایسی حکومت جس میں عدالت، آزادی اور سربلندی قانونی اور عدالتی دائرے میں بغیر کسی امتیاز کے تحقق پائے۔
شیخ نمر کی عرضداشت نے سعودی عرب کے اندرونی اور بیرونی افکار کی توجہ کو اپنی طرف جلب کر لیا، ان کی یہ تحریر ہر عام و خاص کا موضوع سخن بن گئی۔ یہ وہ چیز تھی جس نے آل سعود کی نیندوں کو حرام کر دیا۔ حالانکہ اگر سعودی حکومت اس منشور کو غنیمت جانتے ہوئے اپنی رعایا کے پامال ہو رہے شہری حقوق پر تجدید نظر کرتی تو ملک کی صورت حال میں بہتری آ سکتی تھی۔
اُدھر شیخ نمر کا اپنی عرضداشت پر ثابت قدم رہنا اور اسے بار بار جمعے کے خطبوں میں دھرانا اس بات کا باعث بنا کہ ۸ جولائی ۲۰۱۲ کو حکومتی معیاروں کے خلاف زبان کھولنے کے جرم میں وحشیانہ طریقے سے انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ دنیا نے سیٹلائٹس چینلوں کے ذریعے دیکھا کہ کس بے دردی سے آیت اللہ نمر کو گرفتار کیا گیا۔ سکیورٹی مزدوروں نے ان کی گاڑی کا تعاقب کیا اور گولی چلائی جس کی وجہ سے ان کی دونوں ٹانگوں میں گولیاں پیوست ہو گئیں۔ اور بے ہوشی کے عالم میں انہیں جیل میں بند کر دیا گیا۔
بعد از آں شیخ نمر کو عدالت کے کٹیرے میں لا کر کھڑا کر دیا گیا۔ اور سعودی فوجداری نے ۱۵ اکتوبر ۲۰۱۴ کو ۱۳ عدالتی سماعتوں کے بعد آیت اللہ نمر کو سزائے موت دیئے جانے کا حکم صادر کر دیا۔ یہ سیاسی اور ظالمانہ  فیصلہ آیت اللہ نمر کے اس اصلاحی منشور کی وجہ سے تھا جو نہ صرف سعودی حکومت کے نقصان میں نہیں تھا بلکہ حکومت اور عوام دونوں کے لیے مفید فائدہ تھا۔ لیکن آل سعود نے دولت اور غرور کے نشے بلکہ یہود و نصاریٰ سے دوستی کو بحال رکھنے کی خاطر ۲ جنوری ۲۰۱۶ کو انہیں تختہ دار پر لٹکا دیا۔
جو کچھ ذیل میں ذکر کیا جا رہا ہے وہ شہید شیخ نمر باقر النمر کی اسی تحریر کا مکمل ترجمہ ہے جسے منظر عام پر لانے سے پہلے سعودی ایوان میں پیش کیا گیا لیکن سعودی حکومت نے اسے کوڑے دان میں پھینک دیا۔ ہم اس کو ایک بار پھر منظر عام پر لانے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں تاکہ روشن خیال رکھنے والے تمام انسان اس تاریخی سند کی حقیقت اور اس میں بیان کئے گئے سیاسی اور فلاحی مطالبات سے آشنا ہوں اور اس کے بعد خود فیصلہ کریں کہ کیا یہ منشور اور پلان، حمایت اور حوصلہ افزائی کا طلبگار ہے یا جیل اور سزائے موت کا؟
عربی سے فارسی میں یہ تحریر ’’عالمی کمیٹی برائے ہمدلی با شیخ نمر باقر النمر‘‘ کے توسط سے ترجمہ ہوئی اور اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا کو شائع کرنے کے لیے پیش کی گئی ابنا نے اس کے اردو ترجمہ کا بیڑا اٹھایا ہے۔
بسم اللہ الرحمن الرحیم
شکر اس خدا کا جس نے حق کو واضح اور باقی رہنے والا پیدا کیا اور باطل کو پنہان اور زود گذر، سلام اور درود ہو محمد اور ان کی آل پاک پر جو حق پر ثابت قدم رہے اور ہمیشہ حق کی حمایت کی۔
ابتدا میں، مطالبات کے موضوع میں وارد ہونے سے پہلے کچھ باتیں مقدمے کے طور پر بیان کرتا ہوں:
یکم؛ میں صریح اور واضح، بغیر کسی تقیہ اور تکلف کے گفتگو کروں گا اس لیے کہ تقیہ قابل توجہ نقصان سے بچنے اور ظلم و جور کے خوف سے ہوتا ہے اور مجھے ان دونوں کی پرواہ نہیں ہے۔ لہذا میں تقیہ کرنے پر مجبور نہیں ہوں۔
دوم؛ درست سننے اور صحیح سمجھنے کا ہنر بہت سارے موارد میں درست کہنے اور تقریر کرنے سے زیادہ اہم ہے، اس لیے کہ وہ عوامل جو حاکم اور رعایا، باپ اور بیٹا یا ان جیسے دیگر رشتوں میں کڑواہٹ اور دوری کا باعث بنتے ہیں ان میں سے ایک عامل، رعایا اور بیٹے کے افکار کو حاکم اور باپ کی جانب سے درست نہ سننا ہے یا اگر سنا جاتا ہے تو ایسے ہے جیسے ’’عاج‘‘ کے ٹاور کی بلندی سے سنا گیا ہو جو بغیر توجہ کے سننا ہوتا ہے۔
سوئم؛ حقیقت ابتدا میں بہت تلخ محسوس ہوتی ہے لیکن اگر اسے معیار بنا لیا جائے اور مستقبل کو اس پیمانے پر پرکھا جائے اور بغیر کسی خوف و ہراس کے امور کی باگ ڈور ہاتھ میں لے لی جائے تو وہ شیریں اور لذیذ ہو جاتی ہے۔
چہارم؛ سرسری مطالعہ ابہامات، پیچیدگیوں، الجھنوں اور  غلطیوں سے بچنے اور مسائل کی حقیقت کو درک کرنے کے لیے کافی ہے بشرطیکہ یہ مطالعہ جھوٹی گزارشوں یا غلطیوں سے بھرمار، فرضی یا غلط اعداد و شمار سے مملو، متعصب یا بدگمانیوں سے بھرے تجزیئوں میں منحصر نہ ہو۔
پنجم؛ مجھے امید ہے کہ سینے صراحت گوئی، حقیقت بیانی اور واضح کلام کے لیے گشادہ ہوں گے تاکہ پاک دل اور صاف زبانیں رکھنے والے تقیہ کرنے پر مجبور نہ ہوں اور بیمار دل اور چوٹ پہنچانے والی زبانیں نفاق، دوروئی، جھوٹ اور خیانت سے دور رہیں۔
ششم؛ شیعہ تفکر رافضی تفکر ہے یعنی ظلم و ستم کو پیچھے ہٹا دینے والا ہے۔ لیکن در عین حال بہترین تمام ادیان، مذاہب اور معاشروں کے سامنے بہترین طرز زندگی پیش کرتا ہے۔ اس لیے کہ شیعہ تفکر اصلاح طلبی، امن و شانتی اور مجموعی ہمدلی کا حامل ہے، اگر چہ اس کا نتیجہ اپنے حقوق سے محرومی ہو۔ اس لیے کہ یہ تفکر فتنہ، تشدد، انتہا پسندی اور کھلبلی کو دور بھگا دیتا ہے۔ اس تفکر کے بانی امیر المومنین علی بن ابی طالب علیہ السلام ہیں۔ جو میدان جنگ کے شہ سوار اور حیدر کرار تھے لیکن فرمایا: ’’ خدا کی قسم فلاں شخص نے قمیص خلافت کو کھینچ تان کر پہن لیا ہے حالانکہ اسے معلوم ہے کہ خلافت کی چکی کے لیے میری حیثیت مرکزی کیل کی ہے۔ علم کا سیلاب میری ذات سے گذر کر نیچے جاتا ہے اور میری بلندی تک کسی کا طائر فکر بھی پرواز نہیں کر سکتا۔ پھر بھی میں نے خلافت کے آگے پردہ ڈال دیا اور اس سے پہلو تہی کر لی اور یہ سوچنا شروع کر دیا کہ کٹے ہوئے ہاتھوں سے حملہ کر دوں یا اسی بھیانک اندھیرے پر صبر کر لوں جس میں سن رسیدہ بالکل ضعیف ہو جائے اور بچہ بوڑھا ہو جائے اور مومن محنت کرتے کرتے خدا کی بارگاہ تک پہنچ جائے۔ تو میں نے دیکھا کہ ان حالات میں صبر ہی قرین عقل ہے تو میں نے اس عالم میں صبر کر لیا کہ آنکھوں میں مصائب کی کھٹک تھی اور گلے میں رنج و غم کے پھندے تھے میں اپنی میراث کو لٹتے دیکھ رہا تھا‘‘(نہج البلاغہ، خطبہ شقشقیہ)۔ انہوں نے یوں ہمیں سکھایا ہے کہ ہم سماجی اور شہری امنیت کو برقرار رکھنے کے لیے ظلم کو تحمل کریں جیسا کہ فرمایا: ’’ جب تک کہ مسلمان امن میں ہوں اور میرے علاوہ کسی پر ظلم نہ ہو تو میں برداشت کرتا رہوں گا‘‘ یہ وہ کلام ہے جو آج بھی ان کے چاہنے والوں اور پیروکاروں کے دلوں میں موجزن ہے۔
اس مقدمے کے بعد اپنی بات کو خداوند علیم کے کلام سے آغاز کر رہا ہوں جو اس نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے: ’’ اے داؤد! ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے لہٰذا لوگوں میں حق کے ساتھ فیصلہ کریں اور خواہش کی پیروی نہ کریں، وہ آپ کو اللہ کی راہ سے ہٹا دے گی، جو اللہ کی راہ سے بھٹکتے ہیں ان کے لیے یوم حساب فراموش کرنے پر یقینا سخت عذاب ہو گا‘‘۔
ہم بالکل اس چیز کے خواہاں نہیں ہیں اور نہ ہوں گے جو ملکی یا عوامی سلامتی کو خدشہ دار بنائے، یا حکومت کے اراکین کو کمزور کرے یا منہدم کرے یا اداروں کی کمزوری کا باعث بنے۔ ہم جن چیزوں کا مطالبہ کرتے ہیں وہ ایسی چیزیں ہیں جو ملک میں سلامتی اور استحکام کو تحقق بخشتی ہیں، حکومت کے ستونوں کو مضبوط بناتی ہیں اور اس کی بنیادوں کو تقویت پہنچاتی ہیں۔ اس لیے کہ ہم اس حق کے علاوہ کچھ نہیں چاہتے جو خداوند عالم نے اپنے بندوں کے لیے مقرر کیا ہے اور پیغمبروں نے حکمرانوں کو لوگوں کے درمیان عملی جامہ پہنانے کا دستور دیا ہے۔ وہ حق جو اس کریمانہ زندگی کو وجود عطا کرتا ہے جو اللہ نے بنی آدم کے لیے مخصوص فرمائی ہے ’’ ولقد کرمنا بنی آدم‘‘ (ہم نے اولاد آدم کو مکرم بنایا)؛ وہ انسانی کرامت جسے کوئی بھی چاہے وہ کتنی ہی بڑی طاقت کا مالک ہو یا کتنے بڑے مقام کا حامل ہو انسان سے چھیننے یا اسے پائمال کرنے کا حق نہیں رکھتا اور حتی خود انسان بھی اس سے چشم پوشی اور روگردانی کی اجازت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ یہ کرامت ان جملہ حقوق میں سے ہے جن کی حفاظت اور رعایت کے علاوہ صاحب حق کو بھی کسی اور تصرف کی اجازت نہیں۔ حقِ حیات سے بالاتر حق جس میں نہ کسی کو تصرف کی اجازت ہے اور نہ اس کے بغیر زندگی کی کوئی قیمت ہے وہ انسانی کرامت اور عزت نفس ہے۔
اس کرامت اور عزت نفس کی بلندیوں کو طے کرنا جو ہر صاحب عقل اور شریف انسان کی تمنا ہوتی ہے تقویٰ کے ذریعے ممکن ہے اور تقویٰ ہی ہے جو انسان کو شرافت کے اعلی درجات تک پہنچاتا ہے ‘‘ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم‘‘۔ اور یہ اس وجہ سے ہے کہ تقویٰ ایسی نیک خصلت ہے جس پر تمام انبیاء اور ائمہ(ع) کو پیدا کیا گیا اور ان کے تمام  پیروکاروں اور چاہنے والوں کو تاکید کی گئی کہ وہ اپنے اندر اس خصلت کو پیدا کریں، اس لیے کہ تقویٰ ایسا مضبوط قلعہ ہے جو حکومت کے امن و استحکام کی حفاظت کرتا ہے اور اس کے شیرازے کو بکھرنے سے بچاتا ہے۔ ’’ بھلا جس شخص نے اپنی عمارت کی بنیاد خوف خدا اور اس کی رضا طلبی پر رکھی ہو وہ بہتر ہے یا وہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد گرنے والی کھائی کے کنارے پر رکھی ہو، چنانچہ وہ (عمارت) اسے لے کر آتش جہنم میں جا گرے؟ اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں کرتا‘‘۔
اس لیے کہ حکومت تقویٰ کا رنگ و روپ اختیار کرے جو خیر و برکات کا منشا اور سرنگونی کی راہ میں رکاوٹ ہے، اسے چاہیے کہ تمام قوانین زیور تقویٰ سے آراستہ اور تمام چھوٹے بڑے حکومتی ادارے، تمام وزارت خانے اور ایوان ہائے بالا، عدالت کی بنیاد پر قائم ہوں جو تقویٰ تک پہنچنے کا نزدیک ترین راستہ ہے۔ ’’ اے ایمان والو! اللہ کے لیے بھرپور قیام کرنے والے اور انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے بن جاؤ اور کسی قوم کی دشمنی تمہاری بے انصافی کا سبب نہ بنے، (ہر حال میں) عدل کرو! یہی تقویٰ کے قریب ترین ہے اور اللہ سے ڈرو، بے شک اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے‘‘۔
لوگوں پر عادلانہ حکومت وہ حق ہے جس کا خداوند عالم نے اپنے نبی داوود کو حکم دیا اور وہ امر الہی ہے جو خداوند عالم نے اپنے محبوب ترین بندے سید الانبیاء و اشرف المرسلین حضرت محمد مصطفیٰ(ص) پر نازل کیا: ’’ لہٰذا آپ اس کے لیے دعوت دیں اور جیسے آپ کو حکم ملا ہے ثابت قدم رہیں اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں اور کہہ دیں: اللہ نے جو کتاب نازل کی ہے میں اس پر ایمان لایا اور مجھے حکم ملا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں‘‘۔ یہ امر الہی ان تمام افراد کے لیے ہے جو مسند حکومت پر بیٹھتے ہیں: ’’ بے شک اللہ تم لوگوں کو حکم دیتا ہے کہ امانتوں کو ان کے اہل کے سپرد کر دو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل و انصاف کے ساتھ کرو، اللہ تمہیں مناسب ترین نصیحت کرتا ہے، یقینا اللہ تو ہر بات کو خوب سننے والا اور دیکھنے والا ہے‘‘ اور عدالت کی تکمیل کے لیے سوائے اس کے کوئی راستہ نہیں کہ لوگوں کے درمیان عدل و انصاف سے حکم کیا جائے۔ ’’ اور جب فیصلہ کرتے ہو تو ان کے درمیان عدالت سے حکم کرو کہ خداوند عدالت کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے‘‘۔ خداوند عالم نے عدالت کے قیام کے لیے اپنے رسولوں کو واضح اور آشکار براہین کے ساتھ بھیجا، اور ان کے ساتھ کتابوں اور  وسیع فرامین جو ہمیں ظلم سے محفوظ رکھتے ہیں نیز عدل و قسط کے پیمانے کو نازل کیا تاکہ لوگ عدالت کا قیام عمل میں لائیں اور کوئی کسی پر ظلم و ستم نہ کرے۔ اس نے ایک ایسی روکنے والی طاقت کو بھی اتارا جو اگر کوئی کسی کے حقوق کو پامال کرے تو اسے سزا دیتی ہے اور یہ سزا کبھی بدترین مرحلے یعنی جنگ اور قتل کی صورت میں ہوتی ہے اور کبھی حدود الہی کے اجراء کی صورت میں۔ یہ تمام چیزیں انسانوں کی زندگی، سربلندی اور شرافت کو محفوظ رکھنے، ان کے تمام حقوق کی رعایت کرنے اور دوسروں پر ظلم سے روکنے کے لیے ہیں نہ شہوت اور غضب کو مٹانے کے لیے: ’’ بتحقیق ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل دے کر بھیجا ہے اور ہم نے ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کیا ہے تاکہ لوگ عدل قائم کریں اور ہم نے لوہا اتارا جس میں شدید طاقت ہے اور لوگوں کے لیے فائدے ہیں اور تاکہ اللہ معلوم کرے کہ کون بن دیکھے خدا اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے، اللہ یقینا بڑی طاقت والا، غالب آنے والا ہے‘‘۔
لہذا حاکم کی دو اہم ذمہ داریاں جن کی انجام دہی کے لیے اسے کمر ہمت باندھ لینا چاہیے ایک عدل اور دوسری قسط ہے۔ عدل یعنی حاکم کی جانب سے رعایا پر ظلم نہ ہو اور قسط یعنی رعایا ایک دوسرے پر ظلم نہ کریں۔ عدل و قسط کے قیام سے انسان تمام تر حقوق کی رعایت کر سکتا ہے اور تمام میدانوں معیشتی، سیاسی، اقتصادی، سماجی وغیرہ میں شرافتمندانہ زندگی گزار سکتا ہے۔
بنابرایں، حاکم کے واجب ترین وظائف دو چیزیں ہیں:
اول؛ حکومت عدل کا قیام یعنی خود ظلم نہ کرے۔
دوم؛ حکومت قسط کا قیام یعنی اس کی حکومت میں کوئی کسی پر ظلم نہ کرے۔
حاکم اور رعایا کی جانب سے عدل اور قسط کا قیامِ عمل، ایک حکومت کے استحکام اور اس کی بقا کے دو بنیادی ستون ہیں اور ان مطالبات کا خلاصہ جن کی سماج کو ضرورت ہے اور جن کے تحقق کی رعایا آرزو رکھتی ہے، عبارت ہے اس نظام حکومت سے جس میں سماجی رضامندی ہو، تعمیری تنقید ہو، عاقلانہ نوآوری ہو اور امن و سکون ہو۔ اگر حکمران عدل و قسط کی بنیاد پر حکومتوں کے قیام کے پابند ہو جائیں تو ظلم و ستم کی بیخ کنی ہو جائے گی، نظام کی کشتی پر آشوب اور تھپیڑے مارتے ہوئے سمندر کی متلاطم امواج سے صحیح و سالم نکل کر کنارے پہنچ جائے گی اور زندگی کے تمام میادین پر امنیت سایہ فگن ہو جائے گی۔ اگر امنیت حاکم ہو تو اقتصاد بھی ترقی کرے گا، مال و ثروت میں اضافہ ہو گا، تمام لوگ مستغنی ہو جائیں گے اور ہر انسان بغیر کسی کمی کاستی کے اپنے حقوق حاصل کر لے گا: ’’ جب قائم(عج) ظہور کرے گا عدل کی حکومت ہو گی، ظلم کا نام و نشان مٹ جائے گا، راستے پر امن ہو جائیں گے زمینیں اپنی برکتیں انڈھیل دیں گی اور تمام حقوق اپنے وارثوں کو مل جائیں گے‘‘۔
مذکورہ عرائض سے ہمارے مطالبات واضح ہو جاتے ہیں، وہ مطالبات جن کا خلاصہ درج ذیل ہے:
الف؛ عدالت، قسط اور آزادی عقیدہ کے انتخاب میں، اس پر عمل کرنے میں، اس کے افکار و نظریات کی پیروی کرنے اور اس کے بارے میں گفتگو کرنے میں۔(فکری و عقیدتی آزادی)۔
ب؛ عدالت، قسط اور آزادی کاروبار کے انتخاب اور تمام سرکاری اور غیرسرکاری مراکز میں اور اس کی ترقی میں( کاروبار کی آزادی)
ج؛ عدالت، قسط اور آزادی ان طبیعی ذخائر سے استفادہ کرنے میں جو خداوند عالم نے اس سرزمین کو عطا فرمائے ہیں( اقتصادی آزادی و عدالت)
د؛ عدالت، قسط اور آزادی سیاسی افکار و نظریات پیش کرنے میں(سیاسی آزادی و عدالت)۔
ھ؛ عدالت، قسط اور آزادی اجتماعی اور انفرادی مسائل میں( اجتماعی آزادی و عدالت)
و؛ عدالت اور قسط، عدالتی اور تعزیری مسائل میں( عدالتی انصاف)
اس لیے کہ یہ مطالبات مبہم نہ رہ جائیں اور کلی بیانی کے دریا میں غرق نہ ہو جائیں ان میں سے بعض مسائل کو جن کا تحقق سماج کی امید ہے واضح طور پر بیان کرتا ہوں اور ابہام کو دور کرنے کی کوشش کرتا ہوں:
۱؛ مذہب تشیع کو سرکاری طور پر قبول کیا جائے اسے رسمیت دی جائے اور تمام سرکاری و غیر سرکاری اداروں و مراکز میں تشیع کے ماننے والوں کو احترام کی نظر سے دیکھا جائے اور ان کے ساتھ عدل و انصاف سے پیش آیا جائے۔
۲: ہر انسان؛ مسلمان یا غیر مسلمان کو حق حاصل ہے کہ وہ جس مذہب کو پسند کرتا ہے اس کی پیروی کرے۔ لہذا انسان کو حق حاصل ہے کہ مذہب اہل بیت(ع) کو اپنا مذہب منتخب کرے اور اس کے اصول و فروع پر عقیدہ رکھے اور اس کے مطابق عبادت کرے اور کسی کو حق نہیں ہے کہ وہ اس کی سرزنش کرے، اسے مذہب چھوڑنے پر مجبور کرے یا اسے دھشتگردی کا نشانہ بنائے یا اسے دینی مناسک کی انجام دہی سے روکے یا اسے اذیت پہنچائے۔
۳؛ ان تمام قوانین، احکامات اور پالیسیوں کو منسوخ کیا جائے جو شیعہ مذہب اور اس کے ماننے والوں کے حقوق کو پامال کرتی یا انہیں بے اہمیت اور درکنار کرتی ہیں۔
۴: مدارس اور یونیورسٹیوں کے تمام دینی نصاف کو تبدیل کیا جائے اور اس کی جگہ مندرجہ ذیل آپشنوں میں سے کوئی ایک آپشن کو انتخاب کیا جائے:
الف: دینی نصاب میں صرف ایسے مواد کو لایا جائے جو اسلام کے مشترکہ نکات پر مبنی ہوں اور ان میں کسی قسم کے اختلافی مسائل کو اشارۃ بھی بیان نہ کیا جائے۔ یہ وہ بہترین آپشن ہے جو سب کی خوشحالی کا باعث ہے مگر وہ لوگ کہ جو اختلافی نظریات کے مالک ہیں اور دوسروں کو اپنی طاقت یا اسلحہ کے زور پر دبا کر رکھنا چاہتے ہیں، دلیل کے مقابلے میں دلیل اور برہان کے مقابلے میں برہان لانے سے عاجز ہیں( وہ دینی مشترکات پر مبنی نصاب کو رائج کرنے پر راضی نہیں ہوں گے)۔
ب؛ ہر مذہب کے ماننے والوں کے لیے الگ الگ نصاب معین کیا جائے اس طریقے سے کہ ہر طالبعلم اس صورت میں کہ وہ سن بلوغ کو پہنچ چکا ہو اپنے لیے خود دینی نصاب کا انتخاب کرے اور سن بلوغ تک نہ پہنچنے کی صورت میں اس کا ولی و وارث اس کے لیے نصاب کا انتخاب کرے۔
 پ؛ علاقے کی مذہبی اکثریت کے پیش نظر نصاب کا مواد انتخاب کیا جائے مثال کے طور پر قطیف اور اس کے مانند علاقوں میں شیعی عقائد پر مبنی نصاب رائج کیا جائے۔
ت؛ اسکول یا یونیورسٹی میں مذہبی اکثریت کے پیش نظر نصاب معین کیا جائے یعنی جن اسکولوں میں شیعہ طالبعلم زیادہ ہیں وہاں ان کے مذہب کے مطابق نصاب لگایا جائے۔
۵: مدینہ منورہ میں مدفون ائمہ اطہار(ع) کی قبروں پر روضے بنانے نیز دیگر ممالک( ایران و عراق) میں موجود روضوں کی زیارتوں کی اجازت دی جائے۔ وہ حکومت جو اس سے پہلے ایک معمولی اور چھوٹے سے ٹولے کے سامنے جھک گئی اور اسے جنت البقیع کے روضوں کو گرانے کی اجازت دے دی اور نہ صرف شیعوں بلکہ اہل بیت(ع) کے چاہنے والوں کے دلوں کو زخمی کرنے کا باعث بنی، لہذا وہ حکومت اپنی گزشتہ خطاؤں اور غلطیوں کے جبران کے لیے ان روضوں کو تعمیر کئے جانے کا سارا خرچ برداشت کرے۔ یہ زخم ایام، سال یا صدیاں گزرنے کے بعد بھی نہیں بھریں گے جب تک کہ ان روضوں کو پہلے سے بہتر انداز میں تعمیر نہ کیا جائے۔ روضوں کو مسمار کرنے والا مٹھی بھر ٹولہ نہ کسی اسلامی مذہب کا نمائندہ ہے اور نہ اس کے افکار و عقائد کسی اسلامی مذہب سے ملتے جھلتے ہیں۔ اسلامی مذاہب سے اس کا کوئی رشتہ نہ ہونے کی واضح دلیل ایک یہ ہے کہ وہ روضہ رسول(ص) کو بھی گرانا چاہتا ہے جبکہ کوئی اسلامی فرقہ اس کام کی اجازت نہیں دیتا۔
۶؛ قرآن کریم، پیغمبر اکرم(ص) اور اہل بیت اطہار(ع) کی تعلیمات پر مبنی دینی علوم کو فروغ دینے کے لیے حوزہ ہائے علمیہ، دانشگاہوں اور دینی انسٹیٹیوٹ قائم کرنے کی اجازت دی جائے جیسا کہ عراق، ایران، شام، لبنان اور دیگر اسلامی ممالک میں اجازت ہے۔
۷؛ مذہب جعفریہ کے مطابق مستقل شرعی عدالتیں قائم کرنے کی اجازت دی جائے اور دیگر عدالتوں میں بھی ضرورت کے مطابق شیعہ قاضیوں کو رکھا جائے تاکہ وہ اپنے مذہب تشیع کے ماننے والوں کے تمام امور کو ان کے مذہب کے مطابق حل و فصل کر سکیں۔
۸؛ شیعہ علماء کونسل کو بنعنوان ’’ اہل بیت(ع) فقہا کونسل‘‘ تشکیل دینے کی اجازت فراہم کی جائے کہ جس میں وہ لوگ رکنیت حاصل کریں جو درجہ اجتہاد پر فائز ہوں اور ان کی ذمہ داری شیعہ طبقے کے دینی و دنیوی امور کی دیکھ بھال، ان کی شرعی ضروریات کو پورا کرنا اور دیگر مسائل میں صحیح صلاح و مشورہ دینا اور ان کی بطور کلی ہدایت کرنا ہو۔ یہ کونسل مستقل اور اندونی یا بیرونی مداخلت سے محفوظ ہو۔
۹؛ مساجد، امام بارگاہوں اور دینی مراکز تعمیر کرنے کی اجازت دی جائے اور ان مشکلات و مسائل کو ختم کیا جائے جو اس راہ میں رکاوٹ ہیں۔
۱۰؛ تمام دینی شعائر کو منعقد کرنے میں لوگوں کو آزاد چھوڑا جائے۔
۱۱؛ سرکاری ذرائع ابلاغ میں مذہب تشیع کے علماء کو بھی دینی مسائل بیان کرنے کی اجازت دی جائے۔
۱۲؛ مسجد الحرام اور مسجد النبی میں نماز جماعت کی امامت میں شیعہ مذہب کے ماننے والوں کو بھی مناسب سہم دیا جائے۔
۱۳؛ بیرون ملک سے شیعہ کتابوں کو لانے یا ملک کے اندر چھپوانے کی اجازت دی جائے۔
۱۴؛ حکومت کے زیر نظر تنظیموں جیسے مسلم ورلڈ لیگ یا اس کے مانند تنظیموں میں شیعوں کو بھی منصفانہ شراکت دی جائے۔
۱۵؛ حکومتی مناصب میں ترقی نیز وزارتخانوں، مشاورتی کمیٹیوں اور ایوان بالا میں اہل تشیع کے تناسب سے انہیں بھی منصفانہ سہم دیا جائے۔
۱۶؛ لڑکیوں کے تعلیمی نظام میں مدیریت کا حق، اسکولوں سے لے کر یونیورسٹیوں تک اہل تشیع کو بھی ان کی تعداد کے مطابق دیا جائے۔
۱۷؛ آرامکو کمپنی اور دیگر حکومتی کمپنیوں میں شیعوں کو بھی ان کی صلاحیتوں کے مطابق مینیجمنٹ کرنے کی اجازت دی جائے۔
۱۸؛ شیعہ جوانوں کو سرکاری نوکریاں اور حکومتی یا حکومت سے وابستہ اداروں میں مینیجمنٹ کی اجازت دی جائے۔
۱۹؛ قطیف میں ایک ایسا دانشگاھی ٹاون تعمیر کرنے کی اجازت دی جائے جس میں تمام علمی و تخصصی شعبہ جات فراہم ہوں ہائی اسکینڈری کے بعد طلبہ اور طالبات اس میں اعلی تعلیم حاصل کر سکیں۔
۲۰؛ وہ تمام ملازم جنہیں ۱۹۷۹ یا اس کے بعد مختلف اسباب کی بنا پر جیلوں میں بند کئے جانے کی وجہ سے نوکریوں سے برکنار کر دیا گیا تھا کو دوبارہ ملازمتیں دی جائیں اور اس درمیان جو ان کی تنخوائیں ضائع ہوئی ہیں انہیں ادا کیا جائے اور ان کے لیے آئندہ بہتر زندگی گزارنے کے شرائط مہیا کئے جائیں۔
۲۱؛ تمام سیاسی قیدیوں خاص طور پر وہ قیدی جو مدتوں سے کال کوٹھریوں میں پڑے ہوئے ہیں ان کے بیوی بچے، ماں باپ اور دیگر گھرانے والے ان کے انتظار میں لمحہ شماری کر رہے ہیں فوری طور پر رہا کیا جائے تاکہ وہ ایک مرتبہ پھر سے اپنی نئی اور کریمانہ زندگی کا آغاز کر سکیں۔
۲۲؛ بے روزگاری کی مشکل کو حل کیا جائے اور دانش آموختہ اور پڑھے لکھے افراد کو اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں مناسب تنخواؤں جن سے وہ باعزت زندگی گزار سکیں( شادی بیاہ کے مسائل نمٹا سکیں، گھر تشکیل دے سکیں اور روز مرہ کے مادی وسائل اور سہولیات فراہم کر سکیں) کے ساتھ نوکریاں دی جائیں۔
۲۳؛ مسائل کو آپس میں گڈمڈ کرنے سے پرہیز کیا جائے اور ہمیشہ انہیں سکیورٹی کی نظر سے نہ دیکھا جائے اس لیے کہ بہت سارے مسائل کا ملک کی سکیورٹی سے کوئی ربط نہیں ہوتا لیکن انہیں سیاسی ایشو بنا کر سکیورٹی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جو بہت ساری مشکلات بلکہ بسا اوقات بحران کے وجود میں آنے کا باعث بن جاتا ہے۔
۲۴؛ حکومت تمام گروہوں اور فرقوں سے مساوی طور پر علیحدگی اختیار کرے اور کسی ایک فرقے یا گروہ کی طرف اپنی رغبت کا اظہار نہ کرے تاکہ دیگر گروہوں اور فرقوں کے لیے ناگواری کا باعث نہ بنے، اس لیے کہ حکومت کا یہ طریقہ کار اسے سخت مشکلات سے دوچار کر سکتا ہے۔
۲۵؛ ایسے عوامی اور سرکاری مراکز قائم کئے جائیں جو سرکاری عہدہ داروں سے عوام کے مطالبات کی دیکھ ریکھ کریں اور حاجتمندوں کے حقوق کو انہیں دلانے اور مجرموں کو سزائیں دلوانیں کی کوشش کریں۔ بہتر ہے کہ یہ مراکز صوبائی حکومتی ادروں میں موجود ہوں اور حکومت اپنے قابل اعتماد افراد کو ان کے لیے انتخاب کرے اور لوگ بھی اپنے نمائندوں کو منتخب کر کے ان میں شامل کریں اسی طرح یہ مراکز ہر شہر میں ایک کمیٹی تشکیل دیں جس کے اراکین کو خود عوام منتخب کریں تاکہ مستضعف اور مظلوم طبقہ افراد ان کمیٹیوں کی طرف رجوع کریں اور وہ کمیٹیاں ان کے مطالبات کو مراکز تک منتقل کریں اور ان کی شکایتوں کو ان سے مربوط مراکز تک پہنچائیں اور آخر تک ان کا پیچھا کریں۔
آخر میں خداوند منان سے دعا کرتے ہیں کہ ہمارے دلوں کو پاکیزہ بنائے ہماری زبانوں کو پاکیزہ بنائے ہمارے درمیان محبت اور الفت پیدا کرے ہمیں ایک دوسرے کے قریب کرے، ہمارے دشمنوں کو شکست سے دوچار کرے اور ہمارے نعرے( کلمہ توحید) کو سربلندی عطا کرے۔
’’ سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ  وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ و صلی اللہ علی محمد و آلہ الطاہرین۔
                                                                  نمر باقر النمر
                                                                ۳ رجب ۱۴۲۸ ھ ق
                                                         مطابق با ۱۸ جولائی ۲۰۰۷ ع م

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲


متعلقہ مضامین

اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*

اسلام کے سپہ سالار الحاج قاسم سلیمانی اور ابومہدی المہندس کی مظلومانہ شہادت
سینچری ڈیل، نہیں
حضـرت ابــوطالب (ع) حامی پیغمبر اعظـم (ص) بین الاقوامی کانفرنس میں
ہم سب زکزاکی ہیں / نائیجیریا کے‌مظلوم‌شیعوں کے‌ساتھ اظہار ہمدردی