محرم الحرام کا چاند عاشورا کا ازلی پیغام لے کر نمودار ہوا / ماہ محرم کے اعمال

محرم الحرام کا چاند عاشورا کا ازلی پیغام لے کر نمودار ہوا / ماہ محرم کے اعمال

نہ جانے کیا راز ہے کہ ماہ محرم سال کا پہلا مہینہ ہے، شاید راز یہ ہو کہ عزت و عظمت، قیام و جہاد کی گروی ہے اور زندگی صرف خون کے سائے میں بامعنی ہوجاتی ہے۔

ابنا: امام علی رضا(ع) سے روایت ہے کہ جب ماہ محرم آتا تھا تو کوئی شخص والد بزرگوار امام موسٰی کاظم (ع) کو ہنستے ہوئے نہ پاتا تھا ،آپ پر حزن و ملال طاری رہا کرتا اور جب دسویں محرم کا دن آتا تو آہ وزاری کرتے اور فرماتے کہ آج وہ دن ہے جس میں امام حسین - کو شہید کیا گیا تھا ۔

پہلی محرم کی رات

سید نے کتاب اقبال میں اس رات کی چند نمازیں ذکر فرمائی ہیں :﴿۱﴾سورکعت نماز جس کی ہر رکعت میں سورئہ الحمد اور سورئہ توحید پڑھے :﴿۲﴾دورکعت نماز جس کی پہلی رکعت میں سورئہ الحمد کے بعد سورئہ انعام اور دوسری رکعت میں سورئہ الحمد کے بعد سورئہ یاسین پڑھے :﴿۳﴾دو رکعت نماز جس کی ہر رکعت میں سورئہ الحمد کے بعد گیارہ مرتبہ سورئہ توحید پڑھے :روایت ہوئی ہے کہ رسول خدا نے فرمایا کہ جو شخص اس رات دو رکعت نماز ادا کرے اور اس کی صبح جو کہ سال کا پہلا دن ہے روزہ رکھے تو وہ اس شخص کی مانند ہو گا جو سال بھر تک اعمال خیر بجا لاتا رہا ،وہ شخص اس سال محفوظ رہے گا اور اگر اسے موت آجائے تو وہ بہشت میں داخل ہو جائے گا ،نیز سید نے محرم کا چاند دیکھنے کے وقت کی ایک طویل دعا بھی نقل فرمائی ہے۔

پہلی محرم کا دن

اسلامی سال کا پہلا دن ہے اس کے لئے دو عمل بیان ہوئے ہیں ۔﴿۱﴾روزہ رکھے،اس ضمن میں ریان بن شبیب نے امام علی رضا -سے روایت کی ہے ۔ کہ جو شخص پہلی محرم کاروزہ رکھے اور خدا سے کچھ طلب کرے تو وہ اس کی دعا قبول فرمائے گا ،جیسے حضرت زکریا -کی دعا قبول فر مائی تھی ۔﴿۲﴾امام علی رضا -سے روایت ہوئی ہے کہ حضرت رسول پہلی محرم کے دن دو رکعت نماز ادا فرماتے اور نماز کے بعد اپنے ہاتھ سوئے آسمان بلند کر کے تین مرتبہ یہ دعا پڑھتے تھے :اَللّٰھُمَّ ٲَنْتَ الْاِلہُ الْقَدِیمُ، وَھذِہِ سَنَۃٌ جَدِیدَۃٌ، فٲَسْٲَلُکَ فِیھَا الْعِصْمَۃَ مِنَ الشَّیْطانِاے اللہ! تو معبود قدیمی ہے اور یہ نیا سال ہے جو اب آیا ہے پس اس سال کے دوران میں شیطان سے بچاؤ کا سوال کرتاہوں اسوَالْقُوَّۃَ عَلَی ھذِہِ النَّفْسِ الْاََمَّارَۃِ بِالسُّوئِ وَالاشْتِغالَ بِما یُقَرِّبُنِی إلَیْکَ یَا کَرِیمُ،نفس پر غلبے کا سوال کرتا ہوں جو برائی پر آمادہ کرتا ہے اور یہ کہ مجھے ان کاموں میں لگا جو مجھے تیرے نزدیک کریں اے مہربان یَا ذَا الْجَلالِ وَالْاِکْرامِ یَا عِمادَ مَنْ لا عِمادَ لَہُ یَا ذَخِیرَۃَ مَنْ لا ذَخِیرَۃَ لَہُ یَا حِرْزَاے جلالت اور بزرگی کے مالک اے بے سہاروں کے سہارے اے تہی دست لوگوں کے خزانے اے بے کسوں کے نگہبانمَنْ لاَ حِرْزَ لَہُ یَا غِیاثَ مَنْ لاَ غِیاثَ لَہُ یَا سَنَدَ مَنْ لاَ سَنَدَ لَہُ یَا کَنْزَ مَنْ لاَ کَنْزَ لَہُاے بے بسوں کے فریاد رس اے بے حیثیتوں کی حیثیت اے بے خزانہ لوگوں کے خزانے اے بہتر آزمائش کرنے والے یَا حَسَنَ الْبَلائِ یَا عَظِیمَ الرَّجائِ یَا عِزَّ الضُّعَفائِ یَا مُنْقِذَ الْغَرْقیٰ یَا مُنْجِیَ الْھَلْکَیٰاے سب سے بڑی امید اے کمزوروں کی عزت اے ڈوبتوں کو تیرانے والے اے مرتوں کو بچانے والے اے نعمت والےیَا مُنْعِمُ یَا مُجْمِلُ یَا مُفْضِلُ یَا مُحْسِنُ ٲَنْتَ الَّذِی سَجَدَ لَکَ سَوادُ اللَّیْلِ وَنُورُ النَّھارِاے جمال والے اے فضل والے اے احسان والے تو وہ ہے جس کو سجدہ کرتے ہیں رات کے اندھیرے دن کے اجالے چاند کی وَضَوْئُ الْقَمَرِ، وَشُعاعُ الشَّمْسِ، وَدَوِیُّ الْمائِ، وَحَفِیفُ الشَّجَرِ یَا اﷲُ لاَ شَرِیکَچاندنیاں سورج کی کرنیں پانی کی روانیاں اور درختوں کی سرسراہٹیں اے اللہ تیرا کوئی شریک نہیں اے اللہ ہمیں لوگوں نیک گماں لَکَ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنا خَیْراً مِمَّا یَظُنُّونَ وَاغْفِرْ لَنا مَا لاَ یَعْلَمُونَ وَلاَ تُؤاخِذْنا بِما یَقُولُونَسے بھی زیادہ نیک بنا دے لوگ ہم کو اچھا سمجھتے ہیں ہمارے وہ گناہ بخش جن کو وہ نہیں جانتے اور جو کچھ وہ ہمارے بارے میں کہتے ہیںحَسْبِیَ اﷲُ لاَ إلہَ إلاَّ ھُوَ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ، وَھُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیمِاس پرہماری گرفت نہ کر اللہ کافی ہے اسکے سوا کوئی معبود نہیں میں اسی پر بھروسہ کرتا ہوں اور وہ عرش عظیم کا پروردگار ہے ہمارا ایمان آمَنَّا بِہِ کُلٌّ مِنْ عِنْدِ رَبِّنا وَمَا یَذَّکَّرُ إلاَّ ٲُولُوا الْاََلْبابِ، رَبَّنا لا تُزِغْ ہے کہ سب کچھ ہمارے رب کیطرف سے ہے اور صاحبان عقل کے سوا کوئی نصیحت حاصل نہیں کرتا اے ہمارے رب ہمارے دلوںقُلُوبَنا بَعْدَ إذْ ھَدَیْتَنا وَھَبْ لَنا مِنْ لَدُنْکَ رَحْمَۃً إنَّکَ ٲَنْتَ الْوَھَّابُ ۔کو ٹیڑھا نہ ہونے دے جبکہ ہمیں تو نے ہدایت دی ہے اور ہمیں اپنی طرف سے رحمت عطا کر بے شک تو بہت عطا کرنے والا ہے ۔شیخ طوسی(رح) نے فرمایا کہ محرم کے پہلے نو دنوں کے روزے رکھنا مستحب ہے مگر یوم عاشورہ کو عصر تک کچھ نہ کھائے پیئے، عصر کے بعد، تھوڑی سی خاک شفا سے فاقہ شکنی کرے، سید نے پورے ماہ محرم کے روزے رکھنے کی فضیلت لکھی اور فرمایا ہے کہ اس مہینے کے روزے انسان کو ہر گناہ سے محفوظ رکھتے ہیں۔﴿۱﴾

تیسری محرم کا دن

یہ وہ دن ہے جس دن حضرت یوسف -قید خانے سے آزاد ہوئے تھے ،جو شخص اس دن کا روزہ رکھے حق تعالیٰ اس کی مشکلات آسان فرماتا ہے اور اس کے غم دور کر دیتا ہے نیز حضرت رسول سے روایت ہوئی ہے کہ اس دن کا روزہ رکھنے والے کی دعا قبول کی جاتی ہے ۔

نویں محرم کا دن

یہ روز تاسوعا حسینی ہے ،امام جعفر صادق -سے روایت ہے کہ نو﴿۹﴾ محرم کے دن فوج یزید نے امام حسین -اور ان کے انصار کا گھیراؤ کر کے لوگوں کو ان کے قتل پر آمادہ کیا ابن مرجانہ اور عمر بن سعد اپنے لشکر کی کثرت پر خوش تھے اور امام حسین- کو ان کی فوج کی قلت کے باعث کمزور و ضعیف سمجھ رہے تھے ۔انہیں یقین ہو گیا تھا کہ اب امام حسین -کا کوئی یار و مددگار نہیں آسکتا اور

﴿۱﴾ سوائے یوم عاشور کے کیونکہ اس دن کا روزہ مکروہ ہے اور بعض کے نزدیک حرام ہے۔عراق والے ان کی کچھ بھی مدد نہیں کرسکتے امام جعفر صادق -نے یہ بھی فرمایا کہ اس غریب و ضعیف یعنی امام حسین - پر میرے والد بزرگوار فدا وقربان ہوں ۔

.......

/169


اپنی رائے بھیجیں

آپ کا ای میل شائع نہیں ہو گا۔ * والی خالی جگہوں کو مکمل کیجیے

*