اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے 29 اور 30 اگست 2026 کو ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایف کی دعوت پر تاشقند کا دو روزہ سرکاری دورہ کیا۔ یہ مودی کا ازبکستان کا چوتھا دورہ تھا، جس کے دوران دونوں ممالک کے تعلقات کو ’’جامع تزویراتی شراکت داری‘‘ کی سطح تک بڑھانے کا اعلان کیا گیا اور مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔
مشترکہ اعلامیے میں دونوں رہنماؤں نے علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے وسطی ایشیا کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر زور دیا اور بھارت۔وسطی ایشیا تعاون کو سربراہانِ مملکت کی سطح سمیت دیگر سطحوں پر مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔
دونوں رہنماؤں نے علاقائی معاملات بالخصوص وسطی ایشیا سے متعلق امور پر باقاعدگی سے مشاورت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔
اگرچہ مشترکہ اعلامیے میں افغانستان کا نام الگ سے تفصیل کے ساتھ نہیں لیا گیا، تاہم اعلامیے کے سکیورٹی سے متعلق نکات کا تعلق خطے کے استحکام، بالخصوص افغانستان کی صورتحال سے ہے۔
دونوں ممالک نے ہر قسم کی دہشت گردی، خصوصاً سرحد پار دہشت گردی کی شدید مذمت کرتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنانے اور اسے کسی بھی صورت میں جواز فراہم کرنے کو مسترد کردیا۔
مودی اور مرزیایف نے دہشت گرد گروہوں کے خلاف مربوط کارروائی، ان کے مالی وسائل، محفوظ پناہ گاہوں اور دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ دونوں رہنماؤں نے دہشت گردی کے ذمہ داروں کے احتساب اور اس کے سرپرستوں و سہولت کاروں کے خلاف کارروائی پر بھی اتفاق کیا۔
اعلامیے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون، انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، پرتشدد انتہاپسندی کے خلاف اقدامات، منشیات کی اسمگلنگ اور سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب بھارت اور ازبکستان کے درمیان دفاعی اور سکیورٹی تعاون میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ ورکنگ گروپ کی سرگرمیاں جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔
آپ کا تبصرہ