اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، جنوبی افریقا کی وزارتِ بین الاقوامی تعلقات و تعاون نے بتایا ہے کہ یہ درخواست عالمی عدالت انصاف کے عدالتی طریقہ کار سے متعلق ضوابط کی دفعہ 11 کے تحت جمع کرائی گئی ہے۔
وزارت نے کہا کہ عالمی عدالت انصاف کی جانب سے جاری کیے گئے عبوری اقدامات اسرائیل کے لیے قانونی طور پر پابند ہیں، تاہم جنوبی افریقا کے مطابق اسرائیل نے اب تک ان احکامات پر عمل نہیں کیا۔
بیان میں غزہ کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ جنگ سے بچ جانے والے فلسطینی مزید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور محدود سے محدود ہوتے علاقوں میں انتہائی دشوار اور ناقابلِ برداشت حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
جنوبی افریقا نے اعلان کیا ہے کہ عالمی عدالت انصاف کے فیصلوں پر فوری اور مکمل عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے وہ اپنے تمام دستیاب ذرائع استعمال کرے گا۔
جنوبی افریقا نے 29 دسمبر 2023 کو عالمی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف مقدمہ دائر کرتے ہوئے اس پر 1948 کے نسل کشی کی روک تھام اور سزا سے متعلق کنونشن کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا۔
جنوبی افریقا نے غزہ میں بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے فلسطینیوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے عبوری اقدامات جاری کرنے کی درخواست کی تھی۔
عالمی عدالت انصاف نے بھی جنوری، مارچ اور مئی 2024 میں تین مراحل میں عبوری احکامات جاری کرتے ہوئے اسرائیل سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ نسل کشی کے کنونشن کے تحت آنے والے اقدامات کی روک تھام کے لیے ضروری اقدامات کرے اور حتمی فیصلے تک فلسطینیوں کے حقوق کو نقصان پہنچنے سے بچائے۔
آپ کا تبصرہ