اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اطالوی اخبار ’’نووا وینیتسیا‘‘ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ وینس میں مختلف قومیتوں سے تعلق رکھنے والی مسلمان برادریاں میونسپل انتظامیہ کی جانب سے ان مقامات کے خلاف کارروائی تیز کیے جانے کے بعد مشترکہ حکمتِ عملی پر غور کر رہی ہیں جنہیں عبادت گاہوں کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مسترے اور مارگرا کے علاقوں میں مسلمان ائمہ اور برادریوں کے نمائندے موجودہ صورتحال پر مشاورت کر رہے ہیں۔ بعض عبادت گاہوں کو غیر قانونی تعمیرات ختم کرنے کے نوٹس دیے گئے ہیں جبکہ کچھ مقامات کے حوالے سے شہری منصوبہ بندی کے قوانین کی خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان نوٹسز میں بعض عمارتوں کو نمازِ جمعہ کے لیے ناموزوں قرار دیے جانے کا بھی ذکر ہے۔
’’اگر عبادت گاہیں بند کردی گئیں تو مسلمان نماز کہاں پڑھیں گے؟‘‘
وینس کے بنگالی اسکول کے سربراہ کامروال سید نے مسترے سے مارگرا تک مختلف مسلمان برادریوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ صرف بنگلہ دیشی برادری تک محدود نہیں بلکہ شہر کی تمام مسلمان برادریاں اس سے متاثر ہو رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسلمان وینس کی معیشت میں مختلف شعبوں میں کام کر رہے ہیں، جن میں ہوٹل، ریسٹورنٹس کے کچن، بازار، مارگرا کی فیکٹریاں اور جہاز سازی کی صنعت شامل ہیں۔ ان کے بقول مسلمان شہر کے معاشی اور سماجی ڈھانچے کا ایک اہم حصہ ہیں۔
کامروال سید نے سوال اٹھایا کہ اگر موجودہ عبادت گاہیں بند کردی جائیں تو مسلمان نماز کہاں پڑھیں گے؟ انہوں نے کہا کہ تارکینِ وطن وینس، وینیتو کے علاقے اور اٹلی بھر کی معاشی و سماجی سرگرمیوں میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے اس تجویز کو بھی ناقابلِ قبول قرار دیا کہ مسلمانوں کو عبادت کے لیے ان کی رہائش گاہوں سے بہت دور کوئی جگہ فراہم کردی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلے کا حل متعلقہ حکام اور مسلمان برادری کے نمائندوں کو ایک ساتھ بیٹھ کر تلاش کرنا چاہیے۔
بنگالی اسکول کے سربراہ نے بتایا کہ وہ اطالوی شہری ہیں اور تین دہائیوں سے زیادہ عرصے سے اٹلی میں مقیم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عبادت گاہوں کا مسئلہ صرف جرمانے اور سزا دینے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے اسلام قبول کرنے والے اطالوی شہریوں کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بھی دیگر شہریوں کی طرح اپنے مذہبی فرائض کی ادائیگی کے لیے مناسب جگہ کی ضرورت ہے۔
مسلمان برادری کا متعلقہ اداروں سے سنجیدہ مذاکرات کا مطالبہ
وینس کی اسلامی برادری کے سربراہ سادمیر آلیوفسکی نے کہا کہ مسلمان اس شہر میں کام کرتے ہیں، ٹیکس ادا کرتے ہیں، اپنے بچوں کو اسکول بھیجتے ہیں اور معاشرتی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔
انہوں نے وینس کے متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ عبادت گاہوں کے مسئلے کا سنجیدگی سے جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلمان کسی خصوصی رعایت کے طلب گار نہیں بلکہ صرف یہ چاہتے ہیں کہ ان کی آواز سنی جائے۔
رپورٹ کے مطابق ’’وینس میں موجود مذہبی حقائق‘‘ کے گروپ اور ’’مذہبی آزادی کے لیے اپیل‘‘ نامی گروپ بھی متعلقہ حکام کو ایک باضابطہ خط بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ان گروپوں نے مختلف مذہبی تنظیموں اور تمام مذہبی برادریوں کے نمائندوں کی شرکت سے ایک وسیع مذاکراتی نشست کے انعقاد کا مطالبہ کیا ہے۔
رپورٹ کے آخر میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں جب معاشرے میں تقسیم اور کشیدگی بڑھ رہی ہے، باہمی گفت و شنید اور ایک دوسرے کو سمجھنے کے ذریعے مسائل کا حل زیادہ اہم ہوگیا ہے۔ فعال تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ وینس کے متعلقہ ادارے جامع طرزِ عمل اختیار کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے شہر کی مختلف مذہبی برادریوں کے لیے عبادت گاہوں کا ایک مستقل حل تلاش کریں۔
آپ کا تبصرہ