اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اقوام متحدہ اور تحقیقی ادارے ریچ (REACH) کی جانب سے جاری کردہ جائزے میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں مسلسل جاری انسانی بحرانوں کے باعث خاندانوں اور معاشروں کی مشکلات سے نمٹنے کی صلاحیت نمایاں طور پر کم ہوئی ہے اور عوام کی ذہنی صحت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ انسانی امداد کے محتاج افراد کی تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 4 فیصد کم ہوئی ہے، تاہم 2026 میں 2 کروڑ 19 لاکھ افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہوگی، جو کسی جنگ زدہ ملک کے علاوہ دنیا میں انسانی ضروریات کی بلند ترین سطحوں میں شمار ہوتی ہے۔
جائزے میں کہا گیا ہے کہ شدید غذائی قلت، خشک سالی، مہاجرین کی بڑے پیمانے پر واپسی، قدرتی آفات، امدادی سہولیات پر پابندیوں اور معاشی دباؤ نے لوگوں میں ذہنی پریشانی بڑھا دی ہے اور خاندانوں و معاشروں کی بحرانوں سے نمٹنے کی صلاحیت کم کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بچے، خواتین، بزرگ، معذور افراد اور واپس آنے والے مہاجرین دیگر افراد کے مقابلے میں زیادہ خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔
تازہ جائزے میں یہ بھی پیش گوئی کی گئی ہے کہ افغانستان میں 1 کروڑ 74 لاکھ افراد شدید غذائی عدم تحفظ کا شکار ہوں گے، جن میں 47 لاکھ افراد ہنگامی سطح (فیز 4) پر پہنچ جائیں گے۔ یہ تعداد گزشتہ سال کے مقابلے میں دو گنا سے بھی زیادہ ہے۔
آپ کا تبصرہ