16 اگست 2026 - 16:30
شربل: اسرائیل سے لبنان کے مذاکرات اب تک بے نتیجہ رہے، امریکی دباؤ کے بغیر پیش رفت ممکن نہیں

لبنان کے سابق وزیرِ داخلہ مروان شربل نے اسرائیلی حملوں کے مقابلے میں لبنانی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات اور نام نہاد ’’فریم ورک معاہدہ‘‘ اب تک لبنانی شہریوں کے تحفظ میں کوئی مؤثر نتیجہ نہیں دے سکے۔ ان کے مطابق مذاکرات میں پیش رفت کے لیے امریکا کو اسرائیل پر حقیقی دباؤ ڈالنا ہوگا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، مروان شربل نے ایک انٹرویو میں کہا کہ لبنانی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات اور ’’فریم ورک معاہدے‘‘ پر عمل درآمد کے لیے جو راستہ اختیار کیا ہے، اس سے اب تک کوئی قابلِ ذکر نتیجہ حاصل نہیں ہوا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں حکومت کا کردار زیادہ تر مذاکرات کی پیروی اور اسرائیلی حملوں کی مذمت تک محدود ہے، جبکہ واشنگٹن کی جانب سے تل ابیب پر مؤثر دباؤ کے بغیر یہ عمل کسی ٹھوس نتیجے تک نہیں پہنچ سکتا۔

شربل نے لبنان کے مختلف علاقوں پر اسرائیلی حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انصار اور دیر الزہرانی پر حالیہ حملوں میں 11 افراد شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔ ان کے مطابق بنیادی ضرورت یہ ہے کہ امریکا اسرائیل پر حملے، شہریوں کے قتل اور گھروں کی تباہی روکنے کے لیے دباؤ ڈالے۔

لبنان کے سابق وزیرِ داخلہ نے امریکا اور اسرائیل کی سیاسی صورتِ حال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیاسی اور انتخابی مفادات کے باعث سال کے اختتام تک خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ بحران کا حل ایک طویل عمل ہے اور یہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ مذاکرات ایک یا دو ماہ میں نتیجہ خیز ثابت ہو جائیں گے۔

شربل کے مطابق لبنانی حکومت نہ تو اسرائیل پر براہِ راست اثرانداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے اور نہ ہی اب تک امریکا کو تل ابیب پر مؤثر دباؤ ڈالنے پر آمادہ کر سکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتِ حال کم از کم سال کے اختتام تک برقرار رہ سکتی ہے، جس کے بعد امریکا اور اسرائیل میں سیاسی و انتخابی پیش رفت واضح ہونے پر ’’فریم ورک معاہدے‘‘ کے مستقبل کا زیادہ درست اندازہ لگایا جا سکے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha