اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ہے کہ امریکا نے ایران کے خلاف حالیہ دو جنگوں میں ایرانی حکومت کو تسلیم کرنے، ملک کو تقسیم کرنے اور نظام کا تختہ الٹنے سمیت تین اہداف حاصل کرنے کی کوشش کی، تاہم ایران کے بھرپور اور غیر متوقع جواب نے دشمن کو جنگ بندی پر مجبور کردیا۔
انہوں نے اقلید شہر کے آسپاس دیہی علاقے میں شہداء کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دشمن نے رمضان جنگ کے دوران وحشیانہ جرائم کا ارتکاب کیا، جن میں رہبرِ انقلاب کو شہید کرنے کی کوشش، میناب کے ایک اسکول اور لامرد شہر پر حملے شامل تھے۔
عزیزی نے کہا کہ دشمن نے اپنے شیطانی منصوبے کے تحت میناب کے بے گناہ طلبہ کو نشانہ بنایا، لامرد میں اپنے نئے بموں کا تجربہ کیا اور رہبرِ انقلاب و ایرانی کمانڈروں کو شہید کیا تاکہ ایران کو دباؤ کے ذریعے تسلیم کرنے پر مجبور کیا جاسکے، لیکن وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوا۔
قومی سلامتی کمیشن کے سربراہ نے ایران پر زمینی حملے کے دشمن کے منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دشمن مغربی ایران، خارک اور قشم سمیت مختلف راستوں سے داخل ہوکر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتا تھا، تاہم ایران کی مضبوط فوجی یونٹوں نے عوامی قوت کے ساتھ مل کر دشمن کے منصوبوں کو ناکام بنا دیا اور اس کے مذموم ارادے کو ابتدا ہی میں ختم کردیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ رمضان جنگ کے دوران بھی امریکا نے جنگ بندی کے لیے خود درخواست کی تھی اور ایرانی عوام کو جان لینا چاہیے کہ میدانِ جنگ میں سب سے بڑی کامیابی ایرانی قوم کی تھی۔
ابراہیم عزیزی نے ایران کے دشمنوں، بالخصوص امریکا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایران آخری شکست تک امریکا کا تعاقب جاری رکھے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے دوبارہ ایران کے حوالے سے غلط اندازہ لگایا اور ایرانی عوام کی سلامتی کو خطرے میں ڈالا تو ایران دنیا بھر میں امریکی سلامتی کو خطرے میں ڈال دے گا۔
آپ کا تبصرہ